تھانو ں میں سنگین جرائم کا اندراج نہ ہونے کے برابر، کاغذی کارروائیاں بڑھ گئیں

تھانو ں میں سنگین جرائم کا اندراج نہ ہونے کے برابر، کاغذی کارروائیاں بڑھ ...

  

لاہور (شعیب بھٹی )پنجاب پولیس صوبے میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے میں نا کام ہو گئی ، رواں سال کے تین ما ہ کے دورا ن صوبے بھر میں درج ہونے والے قتل ،اقدام قتل ،اغواء برائے تاوان ،بد اخلا قی چوری ،ڈکیتی اور راہزنی کے ایک لا کھ 28ہزا ر 52 مقدمات درج ہوئے جبکہ 75ہزا ر 372 کے قر یب مقد ما ت کاچالان پیش کیا گیا جو پنجاب پولیس کا کار کردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس صوبے بھر میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ پو لیس کے اعدا د وشما رکے مطا بق رواں سال کے تین ما ہ کے دوران صوبہ بھر میں درج ہونے والے ایک لا کھ 28ہزا ر 52 مقدمات پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں گزشتہ 3ماہ کے دوران صوب بھر میں قتل کے 858 مقدمات ،اقدام قتل کے 866مقدمات ،اغواء بالجبرکے3119 مقدمات ،اغواء برائے تاوان کے10 مقدما ت ،بد اخلا قی کے 700 مقدمات ،اجتما عی بد اخلاقی کے50 مقدمات درج کیے گئے ۔ ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس کے سینکڑوں اشتہاری جن پر سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں وہ سر عام پھر رہے ہیں اور ان میں عدالتی اشتہاری بھی شامل ہیں۔ پولیس حکام صرف کا غذی اور جعلی کارروائیاں ڈالنے میں مصروف ہیں۔ یہ بھی معلوم ہو ا ہے کہ سنگین نوعیت کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جارہا۔ صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب میں قتل ،اقدام قتل ،تشدد،اغواء بالجبر ،اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور پولیس سنگین جرائم کو چھپا بھی رہی ہے اور جرائم کی دفعات کم کر کے مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے پو لیس حکام کا کہنا ہے کہ تما م ار پی اوز ڈ ی پی اوزسمیت تما م پو لیس افسرو ں کو ہدا یت کی ہے کے وہ جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کریں ،سنگین جرائم کی روک تھام کی جائے اور اشتہاریوں کی گرفتاری کو ممکن بنایا جائے ۔

مزید :

علاقائی -