عارضی اخراجات کا بل منظور،ٹرمپ حکومت شٹ ڈاؤن سے بچ گئی

عارضی اخراجات کا بل منظور،ٹرمپ حکومت شٹ ڈاؤن سے بچ گئی

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) عین جمعہ کے آخری روز جب حکومت کو چلانے کیلئے فنڈز ختم ہونیوالے تھے، کیپیٹل ہل پر ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک ارکان کے درمیان سمجھوتے کے نتیجے میں عارضی اخراجات کا بل منظور ہوگیا اور حکومت ’’شٹ ڈاؤن‘‘ سے بچ گئی۔ اگرچہ مالی بحران باقی ہے جو صرف ایک ہفتے کیلئے ٹلا ہے۔ رواں مالی سال 30 ستمبر کو ختم ہو رہا ہے جسکی پوری مدت کیلئے کانگریس اخراجات کا بل منظور کرنے میں ناکام رہی تھی، تاہم حکومت چلانے کیلئے گزشتہ دسمبر میں اس عارضی سمجھوتے کے تحت 25 اپریل تک کی مدت کیلئے فنڈز فراہم کئے تھے۔ اب گزشتہ شب ہونیوالے تازہ سمجھوتے کے تحت جو عارضی بل منظور ہوا ہے، وہ 5 مئی تک فنڈ فراہم کرے گا۔ اس طرح کانگریس کو 30 ستمبر تک ختم ہونیوالے مالی سال کی بقایا پوری مدت کیلئے مکمل سمجھوتہ کرنے کیلئے مزید ایک ہفتے کی مہلت مل گئی ہے، سب سے پہلے ایوان نمائندگان نے 30 کے مقابلے پر 382 ووٹوں سے بل منظور کیا، اسکے بعد سینیٹ نے سوفیصد اتفاق رائے سے بل کی توثیق کر دی۔ موجودہ مالی سال کیلئے حکومت کو اپنے اخراجات کیلئے دس کھرب ڈالر درکار تھے لیکن اسکی یکمشت فراہمی پر کانگریس کے ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک ارکان کے درمیان سمجھوتہ نہیں ہوسکا، موجودہ سال کے دفاعی اخراجات میں صدر ٹرمپ نے 30 ارب ڈالر کے اضافے کا مطالبہ کر رکھا ہے جس پر ری پبلکن ارکان اصرار کر رہے ہیں۔ اسی طرح ڈیمو کریٹک ارکان چاہتے ہیں کہ اوبامہ کیلئے فنڈ برقرار رہیں اور جنوبی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے منصوبے پر فنڈ ضائع نہ کئے جائیں۔

شٹ ڈاؤن

مزید :

صفحہ اول -