پولن الرجی پھیلنے لگی، ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ

پولن الرجی پھیلنے لگی، ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی دارالحکومت میں بھی پولن الرجی پھیلنے لگی، شہر کے مختلف ہسپتالوں میں دمے اور مختلف الرجیز کے مریضوں کی تعداد میں 30 فیصد تک اضافہ ہو گیا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2030ء میں سانس کی بیماری موت کی تیسری بڑی وجہ ہو گی۔ 2015ء میں دنیا بھر میں دمے کے باعث 30 لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں.ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پولن سیزن شروع ہے، گندم کی کٹائی کے بعد آب و ہوا میں شامل خس اور تیز آندھیوں کے جھکڑ سے گرد آلود ہوائیں دمے اور الرجی کے مریضوں کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں لائے جانے والے 33 فیصد مریض سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ پینے والے زیادہ محتاط رہیں کیونکہ پولن سے ان کی سانس کی نالی میں سوزش ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق الرجی کے اثرات ہر شخص پر مختلف ہوتے ہیں جیسے آنکھوں کی سوزش، سانس کی نالی میں تکلیف یا مسلسل چھینکیں آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الرجی اور دمے کے مریض گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک ضرور پہنیں۔

مزید :

صفحہ آخر -