چیف جسٹس ہائیکورٹ اور قانون دان اظہر صدیق کے درمیان تلخ کلامی

چیف جسٹس ہائیکورٹ اور قانون دان اظہر صدیق کے درمیان تلخ کلامی

  

لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ اور معروف قانون دان اظہر صدیق کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی طرف سے نابینا افراد کو سرکاری ملازمتیں دینے کے لئے دائر مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت شروع کی تو درخواست گزار اظہر صدیق ایڈووکیٹ اور چیف جسٹس کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوگئی، اظہر صدیق نے موقف اختیار کیا کہ وہ مفاد عامہ کی یہ درخواست واپس لینا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مفاد عامہ کی درخواست واپس نہیں لی جا سکتی، مفاد عامہ کی درخواستیں واپس کرنا یا نہ کرنا عدالت کا اختیار ہے جس پر اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہائیکورٹ سے مفاد عامہ کی درخواستوں کو پذیرائی ملنا بند ہو گئی ہے، جو غریبوں کے لئے درخواست دائر کرتا ہے، ہائیکورٹ اس کوجرمانہ کر کے حوصلہ شکنی کرتی ہے اور پھر اس وکیل کا تماشہ بنایا جاتا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کویہ غصہ ہے کہ پولیس یونیفارم کیس میں آپ کو جرمانہ کیا گیا جس پر درخواست گزار اظہر صدیق نے کہا کہ عدالت نے میری عدم موجودگی میں جونیئر وکیل کو جرمانہ کیا، انصاف کے تقاضے تب پورے ہوتے جب ان کی موجودگی میں وجوہات دے کر جرمانہ کیا جاتا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس یونیفارم کے تحریری حکم میں جرمانے کی وجوہات دی ہیں، ان کو پڑھ لیجئے گا تاکہ آپ کا غصہ کم ہو سکے جس پر اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے اختلاف کرنا وکلاء اور عوام کا آئینی حق ہے اور درخواست گزار بخوبی جانتے ہیں کہ پولیس یونیفارم کیس میں جرمانہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں تاہم وہ آئندہ نابینا افراد کے مفاد عامہ کے کیس میں پیش نہیں ہوں گے ، عدالت نے مفاد عامہ کے وکیل اظہر صدیق کو نابینا افراد کے کیس سے الگ کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -