لاکھوں کی رشورت، وسائل سے بڑھ کر اثاثے،ڈائریکٹر ٹیکنیکل اینٹی کرپشن آفتاب غنی، ٹھیکیدار شیخ سہیل کیخلاف مقدمہ درج

لاکھوں کی رشورت، وسائل سے بڑھ کر اثاثے،ڈائریکٹر ٹیکنیکل اینٹی کرپشن آفتاب ...
لاکھوں کی رشورت، وسائل سے بڑھ کر اثاثے،ڈائریکٹر ٹیکنیکل اینٹی کرپشن آفتاب غنی، ٹھیکیدار شیخ سہیل کیخلاف مقدمہ درج

  

لاہور( سپیشل رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجا ب نے ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن سے متعلق مقدمات میں ملوث ٹھیکیدار وں اورسرکاری ملازمین سے لاکھوں روپے رشوت لینے ،اپنے وسائل سے بڑھ کر اثاثے بنانے کے الزامات ثابت ہونے پر ڈائریکٹر ٹیکنیکل اینٹی کرپشن ہیڈکوارٹرز آفتاب غنی اور ٹھیکیدار شیخ سہیل کے خلاف مقدمہ درج کرلیاہے،ددیگر افراد کے کردار کے تعین کیلئے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کردیا ہے۔مقدمے کے اندراج کے احکامات ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجا ب بریگیڈ ئیر (ر)مظفر علی رانجھا نے انکوائری کے بعد جاری کئے۔مظفر علی رانجھا کو مختلف ذرائع سے اطلاعات ملی تھیں کہ ڈائریکٹر ٹیکنیکل اینٹی کرپشن ہیڈکوارٹرز پنجاب آفتاب غنی نے ٹھیکیدار شیخ سہیل کے ذریعے مختلف شہروں کے ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کی انکوائریوں میں ملزموں کو بے گناہ قرار دینے کیلئے لاکھوں روپے رشوت کی مد میں وصول کئے ۔ڈی جی اینٹی کرپشن نے ایڈیشنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن پنجاب ندیم سرور کی سربراہی میں چار رکنی انکوائری کمیٹی کوچھان بین کی ہدایت کی ۔کمیٹی کے دیگر ارکان ڈائریکٹر لیگل رانا انور، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن آفتاب رسول تارڑ اورسرکل افسر اینٹی کرپشن لاہور رئیس خا ن نے انکوائریوں میں ٹھیکیداروں اورسرکاری ملازمین سے لاکھوں روپے رشوت لینے کا ذمہ دار قرار دے دیا ۔انکوائری کے دوران ڈائریکٹر ٹیکنیکل آفتاب غنی اورٹھیکیدار شیخ سہیل کی رشوت طلب کرنے سے متعلق آڈیو ریکارڈنگزبھی پیش کی گئیں۔ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب نے کہا کہ آفتاب غنی اور ٹھیکیدار شیخ سہیل کے خلاف کارروائی اینٹی کرپشن سمیت پنجاب کے تمام محکموں کو کرپشن سے پاک کرنے کی مہم کا حصہ ہے ا ذمہ دارن کے خلاف کارروائی بغیر کسی دباؤ کے کی جائیگی۔اینٹی کرپشن میں تعینات بری شہرت کے حامل اہلکاروں کو ان کے محکموں میں واپس بھیجا گیا ہے ۔ اینٹی کرپشن کرپٹ مافیا کے خلاف سرگرم عمل ہے اورکاروائی کے دوران کسی عہدے یا مرتبے کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ۔ کرپشن کے خلاف مہم میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان سینئر افسروں کو بھی جیل جانا پڑا یہ سلسلہ کسی دباؤ اورامتیاز کے بغیر جاری رہے گا ۔

مزید :

صفحہ آخر -