سندھ اسمبلی: ڈپٹی اسپیکر اور نصرت سحر عباسی کے درمیان تلخ کلامی

سندھ اسمبلی: ڈپٹی اسپیکر اور نصرت سحر عباسی کے درمیان تلخ کلامی

  

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر اور مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت بانو سحر عباسی کے درمیان ایک مرتبہ پھر تلخ کلامی ہوئی ۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا ، جب پانچ میں سے چار توجہ دلاؤ نوٹسز پیش ہونے کے بعد پانچویں سے پہلے ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا ، جنہوں نے اسی وقت کرسی صدارت سنبھالی تھی کہا کہ توجہ دلاؤ نوٹس کے لیے 30 منٹ مختص ہیں لیکن یہاں پر پورا پورا گھنٹہ یا پونا گھنٹہ لگ جاتا ہے ۔ صوبائی وزیر نثار کھوڑو اور ایم کیو ایم کے سید سردار احمد سمیت دیگر سینئر ارکان مجھے سمجھا دیں کہ توجہ دلاؤ نوٹس کو 30 منٹ تک کیسے محدود رکھا جائے یا پھر اس قانون میں ترمیم کریں ۔ اس پر نثار کھوڑو نے کہا کہ پہلے پانچویں توجہ دلاؤ نوٹس کو پیش کرنے کی اجازت دیں اور توجہ دلاؤ نوٹس کی تکمیل کے بعد بات کریں ۔ تاہم ڈپٹی اسپیکر اس پر اصرار کرتی رہیں ۔ خواجہ اظہار نے کہا کہ اسمبلی ہمارے پاس ایک واحد فورم ہے ، جہاں پر ہم عوامی مسائل پر بات کر سکتے ہیں ۔ تحریک التواء مختصر سوالات اور تحریک استحقاق اور مختصر سوالات ایجنڈے میں شامل نہ کرنے کی پالیسی سے ہی بنائی گئی ہے ۔ اس کے باوجود ڈپٹی اسپیکر کا اصرار رہا کہ وقت متعین کیا جائے ۔ بعد ازاں انہوں نے نصرت بانو سحر عباسی کو توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرنے کی اجازت دی ، جو نارا کینال کے قریب زیر آب آنے والے ایک گاؤں سے متعلق تھا ۔ اپنے توجہ دلاؤ نوٹس کے شروع میں نصرت بانو سحر عباسی نے کہا کہ آپ کی مہربانی ہے کہ آپ نے مجھے موقع دیا لیکن میرا توجہ دلاؤ نوٹس پیش ہونے سے پہلے آپ نے بچنے کی کوشش کی ہے اور میرے ساتھ آپ کا رویہ ہمیشہ ایسا ہی رہتا ہے ، جس پر ڈپٹی اسپیکر نے انتہائی تلخ لہجے میں کہا کہ میں آپ کو اہمیت نہیں دیتی ۔ اگر آپ نے اپنا توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرنا ہے تو ٹھیک ، ورنہ بیٹھ جائیں ۔ نصرت بانو سحر عباسی نے کہا کہ آپ کا احسان ہے کہ آپ نے مجھے موقع دیا اور آپ مجھے یہ موقع کیوں نہیں دیں گے ۔ یہ میرا حق ہے ۔ دونوں خواتین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ۔ تاہم بعد ازاں نصرت بانو سحر عباسی نے اپنا توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ نارا کینال میں لگے ہوئے دروازے مہینے میں دو مرتبہ کھولے جاتے ہیں ، جس سے دو دو فقیر نامی گاؤں زیر آب آجاتا ہے ۔ نثار کھوڑو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر جگہ سسٹم کو بچانے کے لیے دروازے نصب کیے جاتے ہیں ۔ جب پانی میں اضافہ ہوتا ہے تو دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور یہ آج نہیں ہر سال ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس گاؤں کا حوالہ دیا گیا ہے ، یہ گاؤں نارا کینال سے 20 کلو میٹر دور اور 30 فٹ اونچا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ نارا کینال سے چھوڑے جانے والے پانی سے نقصان نہیں پہنچا ہے ۔ ممکن ہے کہ بارشوں سے کوئی نقصان ہوا ہو ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -