پارا چنار ،کرم ایجنسی کے آئی ڈی پیز کو بھی مراعات دی جائیں

پارا چنار ،کرم ایجنسی کے آئی ڈی پیز کو بھی مراعات دی جائیں

  

پاراچنار(نمائندہ پاکستان ) کرم ایجنسی کے قبائلی عمائدین نے کہا ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں کے دھشت گردی متاثرین کے برابر معاوضہ دیا جائے اور دھماکے کے بعد طبی امداد میں غفلت برتنے پر صدہ ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کاروائی کی جائے اور افغان سرحد کے قریب داعش کی سرگرمیوں کا نوٹس لیاجائے ۔ پاراچنار میں طوری بنگش قبائل کے عمائدین کے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک حسینی کرم ایجنسی کے صدر مولانایوسف حسین ، ثاقب بنگش ، حاجی اکبر ، آغا منیر حسین اور دیگر رہنماوں نے 25 اپریل کو گودر میں بم دھماکے میں چودہ افراد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دھماکے کے بعد جب زخمی صدہ ہسپتال لائے گئے تو انہیں طبی امداد دینے میں غفلت کا مظاہرہ کیا گیا جس سے 13 زخمی زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے۔ رہنماوں کا کہنا تھا کہ پاراچنار سمیت کرم ایجنسی میں کئی دھماکے ہوئے مگر حکومت کی جانب سے طوری بنگش قبائل پرامن اور دھشت گردی کے متاثرہ فبائل کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے نہ ملک کے دیگر علاقوں کی دھشت گردی متاثرین کے برابر معاوضہ دیا جارہا ہے اور نہ ہی ہسپتالوں میں سہولیات اور عملہ موجود ہے۔ عمائدین کا کہنا تھا کہ دھشت گردی کے واقعات کے بعد دھشت گردی میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی بجائے پاراچنار شہر کے گرد خندق کودی گئی ہے اور شہر کے ذیادہ علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے جس سے کاروباری لوگ بھی بے روزگار ہوگئے ہیں۔ قبائلی عمائدین نے مطالبہ کیا کہ شہر کے گرد خندق کودنے کی بجائے افغان سرحد اور پاراچنار پشاور شاہراہ کو محفوظ بنایا جائے اور دھشت گردی سے متاثرہ قبائل کیلئے مسائل پیدا کرنے کی بجائے ان کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے وفادار ہے اور حب الوطنی میں بے مثال ہیں ہر محاذ پر حکومت کا ساتھ دیا اور دھشت گردوں کے خلاف اقدامات میں بھی طوری بنگش قبآئل نے حکومت کا بھر پور ساتھ دیا مگر حکومت کی جانب سے پر امن شہریوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ظلم اور نا انصافی ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -