ایم ڈی اے شعبہ ٹاؤن پلاننگ کی ملی بھگت، آفیسرز کالونی کمرشل سرگرمیوں کا گڑھ بن گئی

ایم ڈی اے شعبہ ٹاؤن پلاننگ کی ملی بھگت، آفیسرز کالونی کمرشل سرگرمیوں کا گڑھ ...

  

ملتان(نمائندہ خصوصی) شعبہ ٹاؤن پلاننگ کی مبینہ ملی بھگت سے شہر کے پوش ایریا میں قائم آفیسرز کالونی کمرشل سرگرمیوں کاگڑھ بن چکی ہے بڑے سرمایہ کاروں نے کالونی میں دھڑا دھڑ نجی کالجز، ہسپتال، کمرشل پلازے، قائم کرکے کاروبار شروع کر رکھا ہے یہ کالونی ایک وقت تھا ملتان میں رہائش کیلئے سٹیٹ آف دی آرٹ شمار ہوتی تھی لیکن ایم ڈی اے کے لالچی افسران نے آفیسرز کالونی میں پرائیویسی ختم کر دی ہے کمرشل سرگرمیوں کا مرکز بننے کے بعد ملتان کے ایک بڑے صنعتی گروپ کے سربراہ نے دھڑا دھڑ پراپرٹری کی خریداری شروع کر دی اور تعلیم کے نام پر کاروبار جما لیا ایم ڈی اے نے چونگی نمبر 9 کے نزدیک آفیسرز کالونی قائم کی تو ابتدائی نقشہ میں ہی اس کالونی کا کچھ ایریا کمرشل سرگرمیوں کیلئے مختص کر دیا گیا جبکہ رہائشی مقاصد کیلئے مختص پلاٹس پر کمرشل سرگرمیاں ممنوع قرار دیں ایم ڈی اے 20 سال تک اس پالیسی پر قائم رہی بعد ازاں کرپٹ افسروں نے اپنا حصہ وصول کرکے رہائشی کالونی کو بربادری کرنے کی چھوٹ دیدی آفیسر کالونی میں کمرشل سرگرمیاں شروع ہونے پر یہاں رہائش پذیر خاندانوں نے دیگر کالونیوں میں شفٹ ہونے میں اپنی عافیت سمجھی کمرشل سرگرمیوں مین تیزی کی وجہ سے اس کالونی میں ٹریفک کا دباؤ بہت بڑا ایشو بن چکا ہے ملتان ترقیاتی ادارے کے بلڈنگ بائی لاز کیمطابق 60 فٹ سے کم چوڑائی والی سڑک پر کمرشل سرگرمیاں ممنوع ہیں لیکن شعبہ ٹاؤن پلاننگ کے افسران اور اہلکار صرف اپنی جیبیں بھرنے کیلئے دھڑا دھڑ کمرشلائزیشن کے کیسز منظور کر رہے ہیں آفیسرز کالونی کے 150 سے زائد رہائشی پلاٹس کمرشل سرگرمیوں کیلئے استعمال ہو رہے ہیں ملتان کے ایک بڑے صنعتکار نے 6 سے زائد پلاٹس پر اپنا تعلیمی کاروبار شروع کر رکھا ہے اس حوالے سے ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ محمد خالد نے کہا ہے کہ کمرشل سرگرمیاں ہر جگہ پر سو رہی ہیں تعلیم کے ادارے ہوں یا کمرشل پلازے شہروں کو روز گار ت ومل رہا ہے اور صرف ایم ڈی اے کے حدود میں ہی ایسا نہیں ہو رہا رہائشی پلاٹس کا کمرشل مقاصد کیلئے استعمال ہر جگہ ہو رہا ہے اور اس میں کوئی امر بھی مانع نہیں ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -