نوشہرہ ،ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زخمی تاجروں پرپولیس تشدد

نوشہرہ ،ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زخمی تاجروں پرپولیس تشدد

  

نوشہرہ(بیورورپورٹ) نوشہرہ پولیس کا ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زخمی تاجروں پر بدترین تشدد زخمی تاجروں کو وارڈوں سے گھسیٹ کر بھیڑ بکریوں کی طرح پولیس گاڑی میں ڈال کر تھانہ لے گئے ہسپتال میں داخل تاجروں سے کیجلوٹی ڈاکٹر اور وارڈ اردلی نے 20 ہزار روپے ہتھیا لئے جبکہ نوشہرہ پولیس نے تاجروں سے درجنوں قیمتی موبائل بھی چھین لئے تاجروں نے زخمی تاجروں پر بدترین تشدد کے خلاف نوشہرہ پولیس اور ہسپتال عملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کااعلان کردیا اس سلسلے میں نوشہرہ باڑہ مارکیٹ کے تاجروں عامر اور ولایت نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ روز نوشہرہ کینٹ کے باڑہ مارکیٹوں میں چند شرپسند تاجروں دامان اور ان کے مسلح ساتھیوں نے دولت وغیرہ کی دکان پر آکر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دکان میں موجود دولت خان اور ان کے بھائی کو مارا پیٹا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے جن کو ڈی ایچ کیو ہسپتال نوشہرہ پہنچادیاگیا لیکن کیجلوٹی میں موجود ڈاکٹر طارق شاہ اور وارڈ اردلی خالد نے زخمیوں کو طبی امداد دینے کی بجائے ان سے 20 ہزار روپے رشوت لے کر ہمارے زخمی ساتھیوں کی بجائے ہم پر حملہ کرنے والوں کو ہسپتال میں داخل کردیا حملے کے دوران دامان اور ان کے ساتھیوں نے دکانوں سے سی سی ٹی کیمرے اور دیگر سامان لے اڑے کیونکہ ان مخالفین کے خلاف ہم نے گزشتہ روز تھانہ نوشہرہ کینٹ میں چوری کی رپورٹ درج کرنا چاہ رہے تھے لیکن نوشہرہ کینٹ پولیس نے ہماری ایف آئی آر درج کرنے کی بجائے ہمیں ڈرا دھمکا کر تھانہ سے نکال دیا زخمی تاجروں کی داد رسی کرنے کی بجائے الٹا ان کو حوالات میں بند کردیا جو قابل افسوس اور قابل مذمت ہے انہوں نے کہا کہ اگر زخمی تاجروں کو انصاف نہ ملاتو باڑہ کلاتھ مارکیٹ کے تاجر حق کا ساتھ دے کر نوشہرہ کینٹ پولیس اور ڈی ایچ کیو عملے کے خلاف شٹرڈاؤن پر مجبور ہوجائیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -