پولیس نے حبس بے جا میں رکھ کر بے پناہ تشدد کیا ،نازک بی بی

پولیس نے حبس بے جا میں رکھ کر بے پناہ تشدد کیا ،نازک بی بی

  

پشاور (کرائمز رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کی سٹی ڈسٹرکٹ کونسل کی ممبر نازک بی بی نے عمران خان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ تھانہ شرقی کے ایس ایچ او اور دیگر عملے نے تھانہ میں مجھ پر ہاتھ اُٹھا کر میری بے عزتی کرنے اور غریب و معصوم شہری سے 10ہزار روپے ہڑپنے پر اُن کے خلاف فوری طورپر قانونی کاروائی کر کے برطرف کیا جا ئے گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں اپنے بھائی بابو خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مثالی اور بااخلاق پولیس نے گزشتہ رات میرے بھا ئی کو بے وجہ گرفتار کر کے تھا نہ لے گئے جہاں پر ایس ایچ او ملک حبیب ،محرر میر اعظم اور دیگر چار عملہ نے میرے بھا ئی سے 10ہزار نقدی اور دیگر سامان لیکر بہمانہ تشد د کا نشا نہ بنا یا اطلاع ملنے پر میں مذکورہ تھا نہ پہنچی تو پولیس والوں نے مجھے بھی زدوقوب کرکے تشدد کا نشانہ بنا یا اور میرے کپڑے پھاڑ کر کے مجھے چار گھنٹوں تک حبس بے جا میں رکھا گیا میں نے بار ہاں پولیس والوں سے کہا کہ میں ڈسٹرکٹ ممبر ہوں لیکن اُنہوں نے میری ایک بھی نہ سنی اور مجھے گالم گالوچ دیتے رہے پولیس والوں نے میرے ساتھ جو رویہ اختیا رکیا تو عام لوگوں کے ساتھ اُنکا رویہ کس طرح ہو گا اُنہوں نے کہا کہ عمران خان پولیس ریفارمز کے دعوے کرتے تھکتے نہیں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس بہتر کی بجا ئے گلو بٹ بن گئی ہیں اُنہوں نے تمام حکام بالا سے مطالبہ کیا کہ اگر مجھ سمیت میرے بھا ئی کو دو دن کے اندر انصاف نہ ملا تو صوبائی دسٹرکٹ اسمبلی میں خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کرونگی ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -