فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 74

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 74
فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 74

  

اسلم پرویز کا دوسرا اسکینڈل خاور سلطانہ سے منسوب ہوا۔ ان کا تعلق سندھ سے تھا۔ گورا چٹارنگ‘ دلکش چہرہ، متناسب جسم۔ وہ بھی پڑھی لکھی تھیں۔ انگریزی بہت روانی سے بولتی تھیں۔ محفل کے اد ب آداب سے بھی واقف تھیں۔وہ فلموں میں ڈانسر کی حیثیت سے آئی تھیں۔ چند فلموں میں ڈانس بھی کیے۔ اداکاری کے ان میں جراثیم نہیں تھے مگر اپنی پر بہار شخصیت کے باعث بہت جلد موضوع گفتگو بن گئیں۔ اسلم پرویز سے ملاقات ہوئی تو دونوں نے ایک دوسرے کے لئے کشش محسوس کی اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلم پرویز اور خاور سلطانہ کا رومانس فلمی دنیا میں سب سے بڑی خبر بن گیا۔خاور سلطانہ صحیح معنوں میں اسلم پرویز کی کمزوری بن گئی تھیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ان دونوں کی شادی ہو گئی ہے۔ خیر شادی تو نہیں ہوئی تھی مگر وہ دونوں ایک دوسرے کا سایہ بن گئے تھے۔ اسلم پرویز اول تو ویسے ہی مرنجان مرنج آدمی تھے۔ انکار کرنا تو انہوں نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ پھر یہاں تو صنف مخالف کا معاملہ تھا اور صنف مخالف بھی خاور سلطانہ جیسی حسین و جمیل‘ دلنواز لڑکی۔

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 73 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اسلم پرویز پر جیسے خاور سلطانہ نے جادو کر دیا تھا۔ وہ ایک معمول کی طرح خاور سلطانہ کے اشاروں پر چلا کرتے تھے۔ ایک ایسا معروف ترین اداکار جو شب و روز شوٹنگ میں مصروف رہتا تھا‘ خاور سلطانہ کے ایک ٹیلی فون پر بے چین ہو کر کسی بہانے شوٹنگ چھوڑ کر غائب ہو جاتا تھا اور فلم ساز ڈھونڈتے ہی رہ جاتے تھے یا کوئی شخص اسلم پرویز کے کان میں کوئی ایسا سحر پھونکتا تھا کہ وہ پیغام سنتے ہی لا پتا ہو جاتے تھے۔ شاید خاور سلطانہ کو بھی فلم سازوں کو تنگ کرنے اور ان پر اپنی اہمیت جتانے میں لطف آتا تھا۔ وہ جب سندھ کے ریگستانوں سے لاہور کے مرغ زاروں میں آئی تھیں تو یہ خواب لے کر آئی تھیں کہ فلمی دنیا میں بہت بڑی ہیروئن بن کر راج کریں گی۔ مگر وہ ڈانسر کی حد سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ ان کی ذاتی دلکشی اور لگاوٹ آمیز شخصیت کی کشش کا ہر ایک کو اعتراف تھا مگر ان میں اداکارانہ صلاحیتوں کی کمی تھی اس لئے ان کے خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے مگر جب اس وقت کا معروف ترین ہیرو ان کی محبت کے سحر میں گرفتار ہو گیا تو خاور سلطانہ نے اگلے پچھلے بدلے لینے شروع کر دیے۔ جب فلم سازوں کی شوٹنگ کے پروگرام خراب ہونے لگے اور انہیں نقصان سے دوچار ہونا پڑا تو فلمی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔

اسلم پرویز کا رویہ عجیب تھا۔ جب فلم ساز یا ان کے دوست احباب انہیں احساس دلاتے تو وہ بہت ندامت کا اظہار کرتے تھے اور وعدہ کر لیتے تھے کہ آئندہ ایسا نہ ہو گا۔ مگر انہیں تو اپنے اوپر اختیار ہی نہیں رہا تھا۔ وہ ایک سحر زدہ انسان کے مانند ایک پر اسرار جادو گرنی کے حصار میں قید ہو کر رہ گئے تھے۔

ایک بار نیو ایور نیو اسٹوڈیو میں ہدایت کار حسن طارق کی فلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔ کسی نے آکر بتایا کہ اسلم پرویز کے لئے فون آیا ہے۔ وہ حسن طارق کو بتا کر ٹیلی فون سننے کے لئے اسٹوڈیو کے آفس میں چلے گئے۔ طارق صاحب نے کچھ دیر تو انتظار کیا پھر ایک اسسٹنٹ کو بھیجا کہ اسلم صاحب کو لے کر آئے۔ شاٹ تیار ہے۔ اسسٹنٹ یہ خبر لے کر آیا کہ اسلم صاحب اسٹوڈیو میں موجود نہیں ہیں۔ کار میں بیٹھ کر کہیں چلے گئے ہیں۔طارق صاحب کا خیال تھا کہ غالباً برابر کے باری اسٹوڈیو میں کسی فلم ساز سے بات کرنے چلے گئے ہیں۔ کچھ دیر بعد آجائیں گے۔ وقت گزر تا گیا مگر اسلم پرویز واپس نہ آئے۔ کچھ کارندوں کو باری اورشاہ نور اسٹوڈیو دوڑایا گیا مگر وہاں بھی اسلم پرویز کا پتا نہ تھا۔ گھر پر فون کیا تو معلوم ہو اکہ وہ صبح سے شوٹنگ پر گئے ہوئے ہیں۔ تنگ آکر حسن طارق نے شوٹنگ میں وقفہ کر دیا۔

تین چار گھنٹے گزر گئے۔ دوسرے اداکار انتظار کرتے کرتے تھک گئے مگر اسلم پرویز لوٹ کر نہ آئے۔ کسی کو علم نہ تھا کہ وہ کہاں گئے ہیں اور کب واپس آئیں گے۔ رات کو طارق صاحب کو بتایا گیا کہ ان کے لئے فون کال ہے۔ طارق صاحب فون سننے گئے تو دوسری طرف اسلم پرویز بول رہے تھے۔

’’اسلم‘ تم کہاں سے بول رہے ہو؟‘‘ طارق صاحب نے پوچھا۔

’’کراچی سے۔‘‘

’’کراچی سے؟ یار کیا مذاق ہے۔ فوراً آؤ تمہارا سیٹ پر انتظار ہو رہا ہے۔‘‘

’’طارق صاحب‘ میں کیسے آسکتا ہوں۔ میں کراچی پہنچ کر آپ کو فون کر رہاہوں۔ پلیز ناراض نہ ہوں۔ آئی ایم سوری یار۔‘‘

پتا چلا کہ خاور سلطانہ نے لاہور ائرپورٹ سے اسلم پرویز کو فون کیا کہ میں اسی فلائٹ سے کراچی جا رہی ہوں۔ فوراً آجاؤ۔ اسلم صاحب نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ اسی عالم میں اسٹوڈیو سے ائر پورٹ پہنچ گئے اور وہاں سے خاور سلطانہ کے ساتھ کراچی چلے گئے۔

وہ دوسرے دن واپس لوٹے طارق صاحب بہت ناراض تھے مگر اسلم پرویز سے کافی دیر تک ناراض بھی نہ رہ سکتا تھا۔ وہ سامنے آتے تو ان کی معصوم صورت اور معذرت خواہانہ انداز دیکھ کر ہتھیار ڈالنے پڑجاتے تھے۔ وہ کسی سے نہیں لڑتے تھے۔ کسی بات پر بگڑتے نہیں تھے۔ نہ خود کو حق بجانب ثابت کرتے تھے۔ ان کے پاس ہر شکایت کا صرف ایک ہی جوا ب تھا۔

’’سوری یار۔‘‘ وہ مسکرا کر کہتے اور فلم ساز اور ہدایت کار کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا۔

یہ تو صرف ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح کے واقعات آئے روز پیش آنے لگے تھے۔ اسلم پرویز آؤٹ ڈور میں کسی کی شوٹنگ کر رہے ہیں کہ خاور سلطانہ پہنچ گئیں۔ اسلم پرویز باتیں کرتے ہوئے انہیں کار تک چھوڑنے گئے اور خود بھی غائب ہو گئے۔

اسلم پرویز ہیرو کے طور پر اچانک جو زوال آیا اس کا ایک سبب خاور سلطانہ بھی تھیں۔ ایک فلم ساز نے خود ہم سے کہا۔ ’’اسلم پرویز کو فلم سازوں کی بددعا لگ گئی۔ ‘‘ پتا نہیں اس میں کتنی سچائی ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ اسلم پرویز مصروف ترین اور مقبول ترین ہیرو کے مقام سے اچانک ایسے گرے کہ تماشائی فلم تو کیا‘ سنیما گھروں کے باہر ان کی تصویر تک دیکھنے کے روادار نہ رہے۔

خاور سلطانہ سے جب کوئی شکایت کر تا تو ایک دل نواز مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر پھیل جاتی۔ انہوں نے کبھی کوئی صفائی پیش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ نہ اس بات پر کوئی تبصرہ کیا۔ صرف مسکرا کر خاموش ہو جاتی تھی۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں اپنی اہمیت اور اسلم پرویز جیسے ہیرو پر اپنی جادوئی گرفت کا پوری طرح احساس تھا بلکہ اس پر انہیں فخر بھی تھا جو کسی حدتک بجا بھی تھا۔ اس لئے کہ بطور اداکارہ تو انہیں فلمی صنعت میں کوئی اہمیت حاصل نہ ہو سکی تھی مگر اسلم پرویز کے حوالے سے وہ ایک مرکزی کردار کی حیثیت اختیار کر چکی تھیں۔

اسلم پرویز میں ایک عادت یہ تھی و ہ اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود اپنے راز کسی کو بتاتے نہیں تھے۔ نہ ہی کھل کر کسی سے بات کرتے تھے۔ فلمی دنیا میں ان کی سب سے یاد اﷲ تھی۔ ہر ایک سے ملاقات تھی۔ علیک سلیک تھی مگر ایک حد تک۔ اپنی ذاتی زندگی کو وہ بالکل علیحدہ رکھتے تھے۔ ان کے فلمی تعلقات کی حد صرف نگار خانوں تک ہی تھی۔ گھر کی چار دیواری تک کسی کی رسائی نہ تھی۔ وہ کاروباری معاملات کے بارے میں بھی فلم والوں کو اپنے گھر بلانا پسند نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے قریب ترین لوگوں کو بھی ان کی گھریلو زندگی کے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔ خاور سلطانہ کے معاملے میں بھی ان کی یہی رازدرانہ طبیعت راہ میں رکاوٹ بن گئی تھی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ خاور سلطانہ کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔ اسی لیے جب ان کے اور خاورسلطانہ کے مابین فاصلے پیدا ہونے لگے تو اس کا سبب بھی کوئی نہ جان سکا۔ اتنا سب جانتے تھے کہ وہ ایک دوسرے کے شیدائی تھے۔ اسلم پرویز کی دیوانگی تو سب پر ظاہر تھی مگر خاور سلطانہ کی وارفتگی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں تھی۔ جاننے والے کہتے تھے کہ خاور سلطانہ واقعی اسلم پرویز کے ساتھ مخلص اور وفادار ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ خاور سلطانہ جو کہ ایک تتلی کی طرح سوشل حلقوں میں اڑتی پھرتی تھی‘ اسلم پرویز کی قربت حاصل کرنے کے بعد محدود ہو کر رہ گئی تھی۔

ان کی دوری کا سبب کیا تھا ؟ اس بارے میں کوئی کہتا ہے کہ خاور نے اسلم کے کیرےئر‘ خاندانی وقار اور گھریلو سکون کی خاطر اپنے آپ کو ان سے دور کر لیا۔ کسی کا کہنا ہے کہ اسلم پرویز کو بذات خود احساس ہو گیا کہ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں اس کا انجام کیا ہو گا۔ بہر حال لیلیٰ مجنوں کی یہ جوڑی بچھڑ گئی۔ کچھ عرصے تک اسلم پرویز اکیلے اکیلے‘ کھوئے کھوئے نظر آئے مگر پھر رفتہ رفتہ معمول کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیا او ر خاور سلطانہ ایک خواب بن کر رہ گئیں۔ اس کے بعد کسی نے ان کی زبان سے خاور سلطانہ کا نام یا ذکر نہ سنا۔(جاری ہے)

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 75 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -