’یہ چیز زمین سے ٹکرائے گی اور ایک بھی انسان باقی نہ رہے گا‘ آثار قدیمہ کے ماہر نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا، کتنا وقت باقی رہ گیا؟ ایسی بات کہہ دی کہ دنیا کو پریشان کردیا

’یہ چیز زمین سے ٹکرائے گی اور ایک بھی انسان باقی نہ رہے گا‘ آثار قدیمہ کے ...
’یہ چیز زمین سے ٹکرائے گی اور ایک بھی انسان باقی نہ رہے گا‘ آثار قدیمہ کے ماہر نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا، کتنا وقت باقی رہ گیا؟ ایسی بات کہہ دی کہ دنیا کو پریشان کردیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے خاتمے کے متعلق آئے روز کوئی نہ کوئی پیش گوئی منظرعام پر آتی رہتی ہے جن میں اکثریت سازشی نظریہ سازوں کی تخلیقات ہوتی ہیں لیکن اب برطانیہ کے ایک ماہرآثارقدیمہ نے اس حوالے سے ایسا تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا ہے کہ پوری دنیا پریشان ہو گئی ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق قدیم انسانی تہذیبوں کے ماہر گراہم ہین کک نے دعویٰ کیا ہے کہ ”2030ءمیں ایک دیوقامت شہاب ثاقب ہماری زمین سے ٹکرائے گا اور یہاں زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔“

’اتنے عرصے بعد دنیا میں ایک بھی انسان باقی نہ رہے گا‘ سائنسدانوں نے سب سے تشویشناک اعلان کردیا، انسانوں کے خاتمے کا وقت بتادیا

رپورٹ کے مطابق گراہم ہین کک کا ماننا ہے کہ ہماری آج کی انسانی تہذیب سے قبل بھی ایک انسانی نسل اس روئے ارضی پر بستی تھی لیکن 13ہزار سال قبل ایسی ہی ایک قیامت خیز آفت نے اس قدیم انسانی نسل کو مکمل طور پر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ گراہم کا کہنا ہے کہ ”اب ایک بار پھر ویسا ہی واقعہ رونما ہونے جا رہا ہے اور ہماری یہ تہذیب بھی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ یہ واقعہ اگلے 20سالوں کے دوران کسی بھی وقت رونما ہو سکتا ہے جس کے بعد اس زمین پر کوئی ایک انسان بھی زندہ نہیں رہے گا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -