’ملک کی تمام خواتین اپنے سر ڈھانپیں تاکہ مسلمان۔۔۔‘ یورپی ملک کے صدر نے انتہائی شاندار اعلان کردیا، پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل جیت لئے

’ملک کی تمام خواتین اپنے سر ڈھانپیں تاکہ مسلمان۔۔۔‘ یورپی ملک کے صدر نے ...
’ملک کی تمام خواتین اپنے سر ڈھانپیں تاکہ مسلمان۔۔۔‘ یورپی ملک کے صدر نے انتہائی شاندار اعلان کردیا، پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل جیت لئے

  

ویانا(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک طرف فرانس، ڈنمارک اور جرمنی جیسے ممالک میں مسلم خواتین کے سکارف اور ساحل سمندر پر پورا لباس پہننے پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں لیکن یورپ ہی کے ملک آسٹریا کے صدر نے اس حوالے سے ایسا اعلان کر دیا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل جیت لیے ہیں۔ دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر الیگزینڈر وین ڈر بیلن (Alexander Van der Bellen)نے اپنے ملک کی خواتین سے مطالبہ کر دیا ہے کہ وہ یورپ اور دنیا بھر میں بڑھتے اسلام فوبیا پر قابو پانے اور مسلم خواتین سے اظہار یکجہتی کے لیے پورا جسم ڈھانپنا اور سکارف پہننا شروع کر دیں۔

’آﺅ امریکہ کو مل کر مزہ چکھاتے ہیں‘ وہ ملک جس نے تمام بڑے ایشیائی ممالک کو خط لکھ دیا

رپورٹ کے مطابق صدر الیگزینڈر کا کہنا تھا کہ ”یہ ہر خاتون کا بنیادی حق ہے کہ وہ جولباس پہننا چاہتی ہے، پہنے۔ اس معاملے پر میری رائے یہ ہے کہ کسی بھی خاتون کو اس کی مرضی کے خلاف لباس پہننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔صرف مسلمان خواتین ہی نہیں، جو خواتین چاہیں سکارف پہن سکتی ہیں۔ اگر یہ اسلام فوبیا اسی طرح جاری رہا تو ایک دن آئے گا جب ہم ہر ایک عورت کے لیے سکارف پہننا لازمی قرار دے دیں گے اور یہ کام ان خواتین سے اظہار یکجہتی کے لیے ہو گا جو مذہبی وجوہات کی بناءپر سکارف پہنتی ہیں۔“

مزید :

بین الاقوامی -