’ہم گولی چلانے لگے تو اچانک وہ خاتون چھلانگ مار کر راستے میں آگئی اور۔۔۔‘ ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ بن لادن کو مارنے والے فوجی نے مزید تہلکہ خیز انکشاف کردئیے، وہ بات بتادی جو اب تک کسی کو معلوم نہ تھی

’ہم گولی چلانے لگے تو اچانک وہ خاتون چھلانگ مار کر راستے میں آگئی اور۔۔۔‘ ...
’ہم گولی چلانے لگے تو اچانک وہ خاتون چھلانگ مار کر راستے میں آگئی اور۔۔۔‘ ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ بن لادن کو مارنے والے فوجی نے مزید تہلکہ خیز انکشاف کردئیے، وہ بات بتادی جو اب تک کسی کو معلوم نہ تھی

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی نیوی سیل رابرٹ اونیلز کا نام اب ساری دنیا میں مشہور ہو چکا ہے۔ وہ اس کمانڈو ٹیم کا حصہ تھے جس نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا۔ انہوں نے اپنی کتاب ”دی آپریٹر“ کے ایک خصوصی اقتباس میں بتایا ہے کہ اسامہ بن لادن کو کیسے ڈھونڈا گیا اور آخری لمحات میں کیا ہوا۔ اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کیلئے امریکہ نے مئی 2011ءمیں نیوی سیلز ٹیم کو بھیجا تھا۔

دی مرر کے مطابق اسامہ بن لادن سے آمنے سامنے کی تفصیل بتاتے ہوئے رابرٹ لکھتا ہے، ہم پاکستان میں تھے اور ہمیں معلوم تھا کہ ہمیں کسی بھی وقت مار گرایا جاسکتا ہے۔ آپ کے ذہن میں اس طرح کی سوچیں آتی ہیں کہ جب کسی ہیلی کاپٹر کو تباہ کیا جاتا ہے تو کیسا محسوس ہوتاہے؟ ایسی صورت میں مرنے میں کتنی دیر لگتی ہے؟

وہ ملک جس کے گرد امریکی فوج نے 2 اور طاقتور ممالک کے ساتھ مل کر گھیرا ڈال لیا، اب کسی بھی لمحے بڑی جنگ کا آغاز ہونے والا ہے

ہیلی کاپٹر کا دروازہ کھلا، ہم ایک ایسے شہر کو دیکھ رہے تھے جسے معلوم نہیں تھا کہ ہم آرہے تھے۔ کمپاﺅنڈ ہمیں نظر آرہا تھا، وہاں تاریکی تھی، جیسے کہ بجلی گئی ہوئی ہو، اور میرے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ شاید ہماری ایجنسی والوں نے اس کا اہتمام بھی کیا ہو گا۔

ہیلی کاپٹر سے چھلانگ لگانے کے چند لمحوں بعد ہی بریچر نے ہمارے سامنے موجود گیٹ سے C-6 کا چارج لگا کر گیٹ کو اُڑادیا۔ دھات کا گیٹ کین کے ڈھکن کی طرح پھٹ گیا۔ اس کے پیچھے اینٹوں کی ایک پختہ دیوار تھی۔ جب بریچر نے کہا کہ یہ اچھا نہیں سامنے ایک دیوار ہے، تو میں نے کہا کہ یہ اچھا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ وہ اندر ہے۔

ہم کارپورٹ کو اڑانے والے تھے کہ ہمیں ریڈیو پر کہا گیا ”نہیں، اسے اڑائیں مت، ہم اسے کھول دیں گے۔“ دروازہ کھل گیا۔ جب دروازہ کھلا تو سب کچھ مجھ پر منکشف ہوا، میں سوچ رہا تھا کہ میں بن لادن کے گھر میں ہوں، شاید میں زندہ نہ رہوں لیکن وہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔

’’جب شمالی کوریا میزائل چلائے گا تو تمہارے پاس 10منٹ ہوں گے یہ کام کرنے کیلئے ‘‘ ایسے ملک نے اپنے شہریوں کو حکم جاری کر دیا کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا بڑا خطرہ پیدا ہو گیا

اسی دوران مجھے گولیوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ہمارا ایک ساتھی اندر داخل ہوچکا تھا جہاں ایک خاتون اور مرد موجود تھا۔ اس نے ایک خاتون کو ہلاک کر ڈالا تھا۔ ہمیں ہر طرف سے خواتین اور بچوں کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔ ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ اس کمپاﺅنڈ میں اسامہ بن لادن کے ساتھ اس کی چار میں سے تین بیویاں اور 17 بچے رہ رہے تھے۔

میں راہداری کے آخری سرے پر دائیں کمرے میں داخل ہوا۔ وہاں ایک ننھی خوفزدہ بچی تھی۔ اس انتہائی کشیدہ صورتحال میں بھی ہم اسے نظر انداز نہیں کرسکتے تھے۔ ہمارے ایک ساتھی نے اسے محفوظ طریقے سے ایک علیحدہ کمرے میں پہنچایا جہاں خواتین اور بچوںکو جمع کیا گیا تھا۔

خاتون انٹیلی جنس اہلکار نے ہمیں بتایا تھا کہ سیڑھیوں سے اوپر جانے پر آپ کا آمنا سامنا خالد بن لادن سے ہوسکتاہے ،جو کہ اسامہ بن لادن کا 23 سالہ بیٹا اور اس کا آخری دفاع ہے۔ اس نے بتایا کہ اگر آپ کا آمنا سامنا خالد سے ہو تو اس سے اگلے فلور پر اسامہ ہوگا۔ جب ہم پہلی سے دوسرے منزل کی جانب جارہے تھے تو ہمارے سامنے ایک شبیہہ ظاہر ہوئی۔ اس کے پاس AK-47رائفل تھی۔ میرے ایک ساتھی نے آپریشن شروع ہونے سے قبل ایک جملہ اردو اور عربی زبان میں سیکھ لیا تھا۔ اس نے پکارا ”خالد، یہاں آﺅ۔“ خالد کو معلوم نہیں تھا کہ ہم امریکی ہیں۔ جب اس نے اپنا نام سنا تو شش و پنچ میں اوٹ سے سرنکال کر پوچھا ”کیا ہے؟“ یہ اس کے آخری الفاظ تھے۔ پوائنٹ مین نے اسے گولی ماردی تھی۔ گولی اس کی ٹھوڑی کے اوپر سے داخل ہوئی اور سر کے پچھلے حصے سے نکل گئی اور وہ زمین پر گر گیا۔

اب ہم دوسرے فلور پر گئے۔ سب لوگ کمرے کلیئر کرنے لگے لیکن پوائنٹ مین نے اپنی گن تھرڈ فلور کی سیڑھیوں کے آخری سرے پر مرکوز رکھی۔ میں اس کے پیچھے تھا اور اب وہاں صرف ہم دو ہی تھے۔ اصولاً ہمیں اپنے مزید ساتھیوں کا انتظار کرنا چاہیے تھا لیکن پوائنٹ مین کہہ رہا تھا ہمیں اوپر جانا ہوگا اور میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔ یہاں خود کش بمبار ہم پر حملہ آور ہوسکتا تھا۔ یہ بہادری نہیں تھی لیکن شاید میں تھک چکا تھا اور اس معاملے کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ ہم پردہ ہٹا کر آگے بڑھے سامنے دو خواتین کھڑی تھیں، جو ہم پر چلارہی تھیں۔ ہمیں لگا انہوں نے خود کش جیکٹیں پہن رکھی ہوں گی۔

میرے ساتھی نے ان خواتین سے نمٹنا شروع کردیا اور میں دائیں طرف مڑا اور ساتھ والے کمرے کے اندر دیکھا۔ اسامہ بن لادن دروازے کے قریب بیڈ کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ میری توقع سے زیادہ دراز قد اور دبلا تھا۔ اس کی داڑھی قدرے چھوٹی تھی جس کے بال سفید تھے ۔ اچانک ایک خاتون اس کے سامنے آ گئی، جس کے کندھوں پر اس نے ہاتھ رکھ لئے تھے۔ اگلے ہی لمحے میں نے خاتون کے کندھے کے اوپری حصے کا نشانہ لیا اور دو گولیاں چلائیں۔ بن لادن کا سر شق ہوگیا اور وہ نیچے گرپڑا۔ میں نے اس کے سر میں ایک اور گولی اتاری۔ بعد میں ہمیں پتا چلا کہ وہ خاتون اسامہ بن لادن کی سب سے چھوٹی بیوی امل تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -