نوجوان طالب علم اپنی ہم جماعت لڑکیوں کی تصاویر جمع کرکے ان کے ساتھ ایسا شرمناک ترین کام کرتا پکڑا گیا کہ جان کر کوئی بھی کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہوجائے

نوجوان طالب علم اپنی ہم جماعت لڑکیوں کی تصاویر جمع کرکے ان کے ساتھ ایسا ...
نوجوان طالب علم اپنی ہم جماعت لڑکیوں کی تصاویر جمع کرکے ان کے ساتھ ایسا شرمناک ترین کام کرتا پکڑا گیا کہ جان کر کوئی بھی کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہوجائے

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارت کی میسور یونیورسٹی کے ایک طالبعلم نے تین ساتھی طالبات کے ساتھ ایسی شرمناک حرکت کرڈالی کہ اس بے حیا نوجوان کے گھٹیا پن پر ہر کوئی حیرت زدہ رہ گیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق انوائرمنٹل سائنس کے شعبے میں فائنل ائیر کے طالبعلم جیانت کمار نے اپنی ہی کلاس فیلو طالبات کی تصویریں، ایڈریس اور موبائل فون نمبر جسم فروشی کی ویب سائٹوں پر پوسٹ کرکے ان کی زندگی جہنم بناڈالی۔ جب پولیس نے اس بد ذات طالبعلم کو گرفتار کیا تو اس نے اپنے گھناﺅنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ اس کا کہنا تھا کہ تیسرے سمسٹر میں اس کے نمبر ان طالبات سے زیادہ آئے تھے اور وہ اسے یہ کہہ کر تنگ کرتی تھیں کہ لیکچرر کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات کی وجہ سے اس نے زیادہ نمبر لئے، جس کا بدلہ لینے کیلئے اس نے ان کی تصاویر اور ذاتی معلومات جسم فروشی کی ویب سائٹوں پر پوسٹ کردیں۔

دنیا کی تاریخ کا انوکھا ترین مقدمہ، 2 سالہ بچے نے 35 سالہ خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

جیانت کے شیطانی فعل کا نشانہ بننے والی طالبات کا کہنا ہے کہ ان کے موبائل فونز پر انتہائی حیا سوز میسجز اور کال کا تانتا بندھ گیا، جس پر انہوں نے سائبر پولیس سے رابطہ کیا۔ سائبر تحقیق کاروں نے جلد ہی پتہ چلالیا کہ یہ حرکت متاثرہ طالبات کے ساتھی طالبعلم نے ہی کی تھی۔ ملزم کو گرفتار کرلیاگیا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -