کارگل میں سب سے خطرناک بلندترین آرمی پوسٹ فتح کرنے والا وہ کپتان جس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی مگر اس نے ایسا معرکہ انجام دیا کہ دشمن آج تک اسکے دئیے ہوئے زخم چاٹ رہا ہے 

کارگل میں سب سے خطرناک بلندترین آرمی پوسٹ فتح کرنے والا وہ کپتان جس کی ٹانگ ...
کارگل میں سب سے خطرناک بلندترین آرمی پوسٹ فتح کرنے والا وہ کپتان جس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی مگر اس نے ایسا معرکہ انجام دیا کہ دشمن آج تک اسکے دئیے ہوئے زخم چاٹ رہا ہے 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(شاہدنذیر چودھری)کارگل کے میدان جنگ میں بھارتی افواج کو بدترین شکست اور بربادی سے دوچار ہونا پڑا تھا ۔پاکستانی فوج نے بھارتی فوج کی کئی اہم پوسٹوں پر قبضہ بھی کرلیا اور ابھی تک ٹائیگر ہلز کا اہم ترین اور بلند ترین علاقہ پاک فوج کے زیر قبضہ ہے جہان پاک فوج کی بھاری اکثریت تعینات ہے۔ٹائیگر ہلز پر پاکستانی فوج کی فتح کردہ اہم ترین پوسٹوں کو واپس لینے کے لئے بھارت کو ہمیشہ ناکامی رہی ۔اس مقام سے دراس لیہ سیاچن جانے والی شاہراہ براہ راست پاک فوج کے نشانے پر موجود ہے جس کی وجہ سے بھارتی فوج کو نقل و حرکت میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بھارت جب پاکستانی فوج سے جو پوسٹیں واپس نہ لے سکاتو اسکی ہزیمت کو مٹانے کے لئے بھارتی فوج نے یہ موقف بھی اپنایا کہیہ پوسٹیں کبھی بھی بھارتی علاقہ میں نہیں رہیں نہ بھارتی فوج کے زیر قبضہ تھی ۔پاکستان نے بھارتی فوج سے 130 اہم پوسٹیں چھین لی تھیں جن میں سے بھارت چار پانچ پوسٹیں ہی واپس لے سکا تھا ۔

بھارتی فوج نے ایسا ہی موقف پوسٹ 5353 کے بارے بھی اپنایا تھا ۔ٹائیگر ہلز میں سب سے بلند ترین مقام پر موجود اس پوسٹ پر پاکستانی پرچم لہراتا ہے اور اس پر بھارتی فوج وک حملہ کرنے یا پوسٹ کو انگیج کرنے کے لئے پاکستان کے علاقے میں داخل ہونا پڑتا ہے کیونکہ اس پوسٹ پر انڈین فوج براہ راست حملہ نہیں کرسکتی نہ فضائیہ کو استعمال کرسکتی ہے۔

پاکستان کی بہادر فوج نے پوسٹ 5353 پر کیسے قبضہ کیا ؟ شاید یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ اس پوسٹ کو کارگل جنگ میں پاک فوج کی رجمنٹ بلوچ کے ایک افسر کیپٹن وسیم نے فتح کرکے اس پر اہم ترین دفاعی مورچہ بنادیا تھا ۔کیپٹن وسیم جب اس پوسٹ پر پہنچے تو ان کی ٹانگ میں فریکچر ہوچکا تھا لیکن ایمانی جوش اور ولولہ اس قدر غالب تھا کہ وہ اپنے سوجھے ہوئے گھٹنے کو معمولی زخم سمجھتے رہے ۔ان کی ساری توجہ پوسٹ 5353 پر موکوز تھی جس پر پہنچنے کے بعد انہوں نے دشمن پر فائر کھولا تو اس علاقے میں انڈین آرمی خون میں نہا گئی تھی۔کسی کو گھمان نہیں تھا کہ پاک فوج کا ایک بہادر سپوت لائن آف کنٹرول کے عین اوپر اس بلند ترین چوٹی پر مورچہ قائم کرکے بہادری کی ناقابل فارموش داستان رقم کرچکا ہے۔ 

مزید : دفاع وطن