اٹھارہویں ترمیم کی ”خامیاں“

اٹھارہویں ترمیم کی ”خامیاں“

  

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ وفاق سے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی اچھی پیش رفت تھی،لیکن نظام کی بہتری کے لئے اٹھارہویں ترمیم کے سُقم دور کرنا ہوں گے اگر وفاق کمزور ہو گا تو صوبوں کا بھی نقصان ہو گا۔وفاقی ٹیکس محصولات کا 59فیصد حصہ صوبوں کے پاس چلا جاتا ہے، صوبے جو ٹیکس جمع کرتے ہیں وہ بھی وہی استعمال کرتے ہیں، کورونا بحران میں تمام صوبوں کو سامان وفاق فراہم کر رہا ہے، ہسپتالوں کو حفاظی سامان بھی وفاقی حکومت بھیج رہی ہے،لیبارٹریاں بھی وفاقی حکومت بنوا رہی ہے، مزدوروں اور زراعت کو امدادی پیکیج بھی وفاق دے رہا ہے۔وفاقی حکومت ہی کاروباری طبقے اور مزدوروں کی مدد کر رہی ہے۔اٹھارہویں ترمیم پر بات کا مقصد ہر گز صوبوں کے حقوق غصب کرنا نہیں۔اٹھارہویں ترمیم صحیح سمت میں قدم تھا لیکن کچھ کمزوریاں رہ گئی تھیں۔ صوبوں کو بھی نظر آیا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد کچھ خلا رہ گیا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت کا اٹھارہویں ترمیم ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تاہم دیکھنا ہو گا کہ اس کی روح پر کتنا عمل ہوا، اٹھارہویں ترمیم کی اہمیت و افادیت سے کوئی انکار نہیں کر رہا، صرف مرکز کی طرف نہ دیکھیں صوبے اپنا نظام وضع کریں، صوبوں کو وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر اِس سارے عمل کا ازسر نو جائزہ لینا ہو گا۔دونوں وزراء نے اِن خیالات کا اظہار ایک ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں کیا۔

انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین دُنیا میں کسی بھی جگہ حرفِ آخر نہیں ہوتے اِسی لئے ان میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ ان کی جگہ نئے قوانین بھی آتے رہتے ہیں اِس لئے اگر اٹھارہویں ترمیم میں کچھ سُقم ہیں تو اس میں اچنبھے کی کیا بات ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف اٹھارہویں ترمیم ہی آئین کی ایسی ترمیم ہے جس میں سُقم کی نشاندہی کی جا رہی ہے، باقی کسی قانون میں کوئی خرابی نہیں اور اگر ہے تو اس جانب کتنی توجہ دی جا رہی ہے، آئین میں کئی جگہ ابہام موجود ہے اور اس کی جانب ماضی میں توجہ بھی دلائی جاتی رہی ہے،لیکن اسے دورکرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اِسی طرح بہت سے قوانین کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے،لیکن اس کا احساس بھی نہیں کیا جا رہا، تو پھر ہر چند ماہ بعد اٹھارہویں ترمیم ہی کیوں یاد آ جاتی ہے اور اس میں موجود خامیوں ہی پر نظر کیوں ٹھہر جاتی ہے؟ کورونا کے بحران میں اگر اٹھارہویں ترمیم میں مزید ترمیم کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تو بھی فی الحال ایسا کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ترمیم کے لئے حکومت کے پاس مطلوبہ دو تہائی اکثریت بھی نہیں،بلکہ اپوزیشن تو یہ بھی کہہ رہی ہے کہ تین ووٹوں کی اکثریت پر کھڑی حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ ترمیم کی بات کرے،لیکن اگر واقعی خامیوں کی اصلاح مطلوب ہے تو اس کے لئے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کا تعاون درکار ہو گا، جو فی الحال حکومت کو میسر نہیں ہے اور بظاہر اس کی کوئی کوشش بھی نہیں کی جا رہی، اندرونِ خانہ کوئی رابطہ اگر ہو بھی رہا ہو تو اس سے عوام الناس بے خبر ہیں،جو عوام کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ تو لعنت، ملامت اور مذمت کا وہ سلسلہ ہے جس میں حکومت کا ہر بڑا چھوٹا بڑے ذوق شوق سے شریک ہے، کئی وزراء اور معاونین خصوصی کے بیانات اگر جمع کئے جائیں تو سوائے اپوزیشن لیڈروں کی کردار کشی کے ان میں کوئی دوسری چیز نظر نہیں آتی،ایسے میں کیا اپوزیشن جماعتیں اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی کے لئے تعاون پر تیار ہو جائیں گی؟

اس وقت پارلیمینٹ کے کسی ایوان کا اجلاس نہیں ہو رہا اور ورچوئل اجلاس کی باتیں ہو رہی ہیں، مسلم لیگ(ن) نے قومی اسمبلی کا اجلاس ریکوزٹ کرنے کے لئے سپیکر کو درخواست دے رکھی ہے اس کا فیصلہ بھی ابھی ہونا ہے،بہت سے قوانین قومی اسمبلی کی منظوری کے منتظر ہیں،احتساب آرڈیننس ختم ہو چکا اس کی جگہ نیا قانون قومی اسمبلی میں لایا جاتا ہے یا دوبارہ وہی پرانا آرڈیننس جاری کر دیا جاتا ہے، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ جب ضروری قوانین تک التوا میں پڑے ہیں اور ان کی منظوری کے لئے کوئی سرگرمی بھی نہیں دکھائی جا رہی تو ایسے میں حکومت ایک طے شدہ مسئلے کو چھیڑ کر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے، پہلے تو یہ ہونا چاہئے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلائے جائیں اور کورونا کے اس بحران میں منتخب نمائندوں کا اِن پٹ سامنے آئے، معاشی بحران منہ کھولے کھڑا ہے، بجٹ کی منظوری کا مرحلہ بھی در پیش ہے۔ جی ڈی پی کی شرح منفی دو فیصد تک گرنے کا امکان ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے چند روز قبل کہا کہ کسی ملک یا ادارے نے ایک ڈالر کی امداد نہیں دی، پھر بھی اربوں روپے کے ریلیف پیکیج کے اعلانات کئے جا رہے ہیں۔اگر کوئی امداد نہیں آئی تو پھر یہ پیکیج کہاں سے دیئے جائیں گے، کیونکہ ٹیکس ریونیو کا نظرثانی شدہ ہدف بھی پورا ہوتا نظر نہیں آتا،بڑے ارمانوں سے جن صاحب کو ٹیکس جمع کرنے کے لئے پرائیویٹ سیکٹر سے ڈھونڈ کر لایا گیا تھا ان سے یہ بھاری پتھر اٹھایا نہیں گیا اور وہ رخصت ہو چکے ایسے میں جو بھی پیکیج دیئے جائیں گے اُن کے لئے فنڈز کا حصول بہت بڑا مسئلہ ہو گا۔

اِن حالات میں ضرورت تو اس بات کی ہے کہ جو بحران درپیش ہے اس کا حل نکالا جائے، اٹھارہویں ترمیم کے ساتھ اگر دس سال گزارے جا سکتے ہیں تو مزید کچھ وقت نکال لینے میں کیا حرج ہے،لیکن اسد عمر کی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں اصل دُکھ یہ ہے کہ وفاق کے جمع کئے ہوئے ٹیکسوں میں سے59فیصد صوبے کیوں لے جاتے ہیں؟انہوں نے وہ اقدامات بھی گنوائے جو کورونا کے مقابلے کے لئے کئے گئے، اچھا ہوتا وہ یہ بھی بتا دیتے کہ دُنیا سے جو تھوڑی بہت امداد آئی یا آئندہ آئے گی وہ بھی تو وفاق کو ملے گی،اِس لئے وفاق کو ہی اسے تقسیم کرنا ہو گا۔ یہ کوئی احسان نہیں ہے، جو صوبوں پر کیا جا رہا ہے۔یہ تو ایسا فرض تھا جسے زیادہ خوش اسلوبی سے ادا کیا جانا چاہئے تھا مقام افسوس ہے کہ اس میں جگہ جگہ خرابیاں نظر آئیں اور اگر کسی صوبے نے اپنے طور پر اقدامات میں پہل کر دی تو اسے بے اثر کرنے کے لئے کوششیں کی گئیں۔ کئی وزیروں مشیروں کو تو اپنے محکموں کا علم ہی نہیں،وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اُن کی اصل ذمے داری سندھ کی صوبائی حکومت کو ہدفِ تنقید بنانا ہے۔حکومت اگر اٹھارہویں ترمیم میں فی الحال تبدیلی نہیں کر سکتی تو پھر اس موقع پر اس بحث کا آغاز کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ چار وفاقی وزیر ایک ہی دن ٹاک شوز میں اپنے ارشاداتِ عالیہ کے اظہار کے لئے اپنے قیمتی وقت میں سے چند لمحات نکالتے، اس ترمیم پر بحث مباحثے کی بجائے ضرورت اِس بات کی ہے کہ جو خامیاں ہیں صراحت کے ساتھ سامنے لائی جائیں،پھر یہ بتایا جائے کہ خرابیوں کی جگہ کون سی نئی خوبی ترمیم میں داخل کی جائے گی،جس سے وہ سارے دلدر دور ہو جائیں جن کا ذمہ دار ترمیم کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔

حکمرانوں اور ان کے حاشیہ برداروں کے خیالات وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں جب وہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو انہیں جو اشیا بہت چمکتی دمکتی نظر آتی ہیں،اقتدار میں آتے ہی ان کی چمک ماند پڑ جاتی ہے،ہر حکمران کو اپوزیشن کے زمانے میں وہ عدالتیں اچھی لگتی ہیں جہاں سے انہیں ریلیف ملتا ہے۔ وہ میڈیا اور اخبارات بڑے اچھے لگتے ہیں، جن میں ان کے فرمودات کی نمائش اور اشاعت ہوتی ہے،وہ اپنی تقریروں میں حکمرانوں کو قانون کی حکمرانی کی برکات یاد دلاتے ہیں،لیکن جب وہ کسی نہ کسی طرح مسند ِ اقتدار پر بیٹھ جاتے ہیں تو ان کی خواہش ہوتی ہے کوئی قانون اُن کے راستے کی دیوار نہ بنے وہ جسے چاہیں پکڑ کر جیل میں ڈال دیں،کوئی ان کا ہاتھ روکنے والا نہ ہو۔کوئی قانون اُن کے ارادوں کی راہ میں مزاحم نہ ہو۔ کوئی عدالت یہ استفسار نہ کرے کہ مخالفین کی گرفتاریاں کس قانون کے تحت ہوئیں اور سرکاری ملازمین کی ملازمتوں میں توسیع کیوں کی جا رہی ہے۔ حکمران اپنے لئے الگ قانون اور مخالفین کے الگ قانون چاہتے ہیں، ان کو ایسے اختیارات مطلوب ہوتے ہیں، جنہیں استعمال کر کے وہ مخالفین کو اپنی پسند کی سزا دے سکیں۔ اس کے لئے وہ کبھی چین کی مثالیں دیں گے اور کبھی سعودی عرب کی بادشاہت کے حوالے ڈھونڈیں گے،لیکن پاکستان کا نظامِ حکومت ایک آئین کے تحت چل رہا ہے، ہر چیز اس کے طابع ہی آگے بڑھے گی، ضرورت کے مطابق آئین میں ترامیم ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔یہ راستہ بھی آئین کی روشنی میں طے ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -