عمر اکمل، پابندی لگوا ہی لی!

عمر اکمل، پابندی لگوا ہی لی!

  

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی کے فیصلے کے مطابق میچ فکسنگ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کرکٹر عمر اکمل پر تین سال کے لئے ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق 20فروری 2020ء سے ہو گا۔ یوں اسے 2023ء فروری تک کے لئے کرکٹ آئسولیشن میں رہنا ہو گا، ٹیم مینجمنٹ کو اطلاع نہ دینا اس کے لئے کورونا بن گیا ہے۔ ڈسپلنری کمیٹی کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق تو موجود ہے، تاہم یہ اپیل بریت کے کام نہیں آ سکتی، اسے رحم کی اپیل قرار دے کر پابندی کی مدت میں کمی کی درخواست ہی ممکن ہوگی کہ یہ کم سزا بھی اس کی طرف سے اقبالِ جرم کی وجہ سے ہے۔ عمر اکمل پر الزام ہے کہ لندن میں اس سے دو بار رابطے ہوئے، اس نے مینجمنٹ کو اطلاع نہ دی اور یہ انکشاف گزشتہ برس پی ایس ایل کے دوران ہوا تو اس پر عارضی پابندی لگی اور وہ کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی طرف سے نہ کھیل سکا۔ بتایا گیا ہے کہ عمر اکمل نے ایک بار دبئی میں رابطے کا ازخود ٹیم مینجمنٹ کو بتایا، تاہم اِس بار چھپا لیا،عارضی معطلی کے بعد جب باقاعدہ تحقیقات کا فیصلہ ہوا تو اُس نے اعترافِ جرم کرکے معافی مانگی اور کم سزا کی درخواست کی۔کمیٹی نے اعترافِ جرم کی بنا پر تین سالہ پابندی کی سزا دی اور اب وہ تین سال تک کرکٹ سے دور رہے گا اور امکانی طور پر پابندی کے اختتام پربھی اسے مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔عمر اکمل اگرچہ ایک اچھا کھلاڑی ہے، لیکن اس کا رویہ ہمیشہ بگڑے بچے کا رہا اور وہ کئی بار خبروں میں آیا اور اب لالچ نے اسے سزا کا موجب ٹھہرا دیا، عمر اکمل کو اپنے کیریئر کی وجہ سے اتنی آمدنی ہوئی کہ وہ اچھے گھر میں رہ اور پسند کی کاروں میں گھومتا تھا، لیکن غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے بھائیوں کامران اکمل وغیرہ اور والدین کے لئے پریشانی کا سبب ہی رہا۔ لڑکپن کی وجہ سے کھیل اور فٹنس پر بھی بھرپور توجہ نہ دی اور یوں ہمیشہ اونچ نیچ کا شکار رہا اور شکایات کی زد میں آیا، قومی ٹیم سے بھی باہر ہوا، اگر وہ کھیل سے محض معاوضے تک ہی محدود ہوتا تو بھی گزر بسر بہت اعلیٰ تھی، لیکن لالچ بُری بلا، اس نے سمجھا کہ اس رابطے کا علم نہیں ہو گا، لیکن انٹیلی جنس نے کام کر دکھایا اب اُسے اس کرکٹ آئسولیشن میں اپنے کردار پر غور کرنا ہو گا کہ واپسی پر مزید مشکل وقت ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -