حکومت کوچاہیے کہ وہ رفاہی ہسپتالوں کی مالی معاونت کرے

حکومت کوچاہیے کہ وہ رفاہی ہسپتالوں کی مالی معاونت کرے
حکومت کوچاہیے کہ وہ رفاہی ہسپتالوں کی مالی معاونت کرے

  

کسی بھی ملک کے لئے شعبہ صحت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کہ صحت مند معاشرہ صحت مند افراد سے تشکیل پاتا ہے اور ایک صحت مند معاشرہ سے ہی ملک تعمیرو ترقی کی منازل طے کرتا ہے لیکن شومئی قسمت کے وطن عزیز میں اس شعبہ پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی اگر آپ ماضی کے سالانہ بجٹ اٹھا کر دیکھیں تو صحت کے شعبہ کے لئے جو بجٹ مختص کیے گئے وہ آبادی کے تناسب سے نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث اس شعبہ کی صورتحال دگرگوں رہی جو ایک المیے سے کم نہیں۔ اس پہ مستزاد یہ کہ جب دنیا کو علم ہوتا ہے کہ ہم ایک ایٹمی اور میزائل قوت ہیں اور ہمارا شعبہ صحت کسمپرسی کا شکار ہے تو وہ پھٹی پھٹی اور ششدر آنکھوں سے ہمیں دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

ہم موجودہ حکومت سے پرامید ہیں کہ وہ اس شعبہ کی طرف ترجیحی بنیادوں پر توجہ دے گی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر اس شعبہ پربھرپور توجہ دی جاتی اور اس کی ا ہمیت کو سمجھاجاتا تو آج کرونا کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں دوسرے ملکوں کا دست نگرنہ ہونا پڑتا۔یہ بجا کہ کرونا وائرس کے سامنے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک اورعالمی طاقتیں بھی بے بس ہوکر رہ گئیں اور اس موذی وباء کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئیں،جبکہ ہمارے ہاں تواس وباء کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی وسائل ہی دستیاب نہیں تھے۔ اس حوالے سے ہمیں اپنے دوست ملک چین کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے اس مشکل اور کڑے وقت میں ایک سچے اور اچھے دوست کا حق ادا کیا ا ور کرونا سے نمٹنے کے لئے ہماری عملی مدد کی جو قابل ستائش ہے۔ مگر ہمارے ارباب بست و کشاد کویہ سوچنا پڑے گا کہ ہم کب تک دوسروں کے دست نگر رہیں گے۔ ہمارے معروضی حالات ایک بڑی حدتک قابل اصلاح ہیں اور ان کی صحیح سمت میں استوار کرنا موجودہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

عمران خان حکومت کے 2019-2020ء کا بجٹ جو اس وقت کے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے پیش کیا تھا وہ جن حالات میں عمران خان کی نوزائیدہ حکومت کو پیش کرنا پڑا، اس پر بحث عبث ہے۔ لیکن آنے والے دنوں میں اس سال پیش کیا جانے والا بجٹ خاصی اہمیت رکھتا ہے کہ اس وقت پوری دنیا کساد بازاری کا شکار ہے اور بڑی بڑی معاشی قوتیں اپنی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے پریشان ہیں۔ تیل کی قیمتیں جس بری طرح سے نیچے آئی ہیں یہ دنیا کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ آسمان پر حکمرانی کرنے والی بڑی بڑی فضائی کمپنیوں نے اپنے جہاز گراؤنڈ کر لیے ہیں۔ تیل خریدنا تو درکنار انہیں اپنے سینکڑوں ملازمین کو عہدوں سے برطرف کرنا پڑا۔ یہی حال عالمی سطح پربینکوں کا ہے اور دنیا بھر کو اپنی مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک کی دیو ہیکل صنعتیں بند ہیں۔اس عالمی معاشی بحران سے ہٹ کر وطن عزیز جو پہلے ہی معاشی بحران کا سامنا کررہا تھا کرونا کی وباء نے ہمارے معاشی مسائل میں اور اضافہ کردیا ہے۔ ہماری صنعتیں، کاروبار اور دیگراہم ادارے بند ہیں۔ دیہاڑی دار ہنر مند، مزدور اور پسماندہ طبقے کے مسائل نے ہمارے معاشی حالات کو اور گھمبیر کر دیا ہے۔ ان سب سے بڑھ کر صحت عامہ کی ضروریات جن میں ہسپتالوں کی تشویشناک حد تک کمی ترجیحی بنیادوں پر توجہ طلب ہے۔

کرونا وائرس کے باعث یہ بات اظہر من الشمس ہو کر سامنے آئی ہے کہ شعبہ صحت میں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کو اس وباء کے دوران جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ان میں طبی آلات اور ادویات کی کمی کے علاوہ ان ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد سے کم بستر اور ان میں جگہ کی کمی بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ جس کے باعث دیگر مقامات پرمریضوں کومنتقل کرنا پڑا۔ ایسے وقت میں رفاہی ہسپتال ایک بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں اور کر بھی رہے ہیں مگر یہ ادارے جو خالصتاً صاحب ثروت،درد مند دل رکھنے والے اورمخیر حضرات کے عطیات و زکوۃٰ پرچلتے ہیں جبکہ ان کی مالی اعانت کرنیوالے متمول شخصیات کے اپنے ادارے بند ہیں اور جب رفاہی اداروں کی طرف سے ان کو مالی اعانت کی درخواست کی جاتی ہے تووہ برملا جواب دیتے ہیں کہ ہمارا کاروبار بند ہے۔ ہم آپ کی مالی مدد نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے اپنے کارکن گھر بیکار بیٹھے ہیں۔ ہم ان کی مالی اعانت کررہے ہیں۔ اسی طرح دیگرعطیہ کنندگان خود مالی حالات کا شکار ہیں اور اس طرح رفاہی ہسپتالوں کو ملنے والے عطیات و زکوۃٰ کافی حد تک کم ہوگئے ہیں۔تو ان حالات میں رفاہی ہسپتالوں کا غریب اورمستحق افراد کا علاج ومعالجہ کرنا ان کی استطاعت سے باہرہوگا جو ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہوگا۔

ملک بھرمیں رفاہی ہسپتالوں کی ایک اچھی خاصی فہرست ہے جن میں خود وزیراعظم عمران خان کے لاہور، کراچی اور پشاور میں قائم شوکت خانم ہسپتالوں کے علاوہ صغری شفیع ہسپتال، گھرکی ہسپتال، انڈس ہسپتال، ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال، ممتاز بختاور میموریل ہسپتال،سندس فاؤنڈیشن،شالیمار ہسپتال، کینسر کئیر ہسپتال، اختر سعید ٹرسٹ ہسپتال، انسانیت فاؤنڈیشن، سلیم میموریل ٹرسٹ ہسپتال شامل ہیں۔ علاوہ ازیں درجنوں ٹرسٹ ہسپتال جو پسماندہ طبقہ کے مریضوں کا نہ صرف مفت علاج کرتے ہیں، بلکہ ادویات بھی مفت فراہم کرتے ہیں اگر ان کے عطیات اورزکوۃٰ کم ہوگئے تو غریب مریضوں کی ایک کثیر تعداد متاثر ہوگی۔ حکومت کوچاہیے کہ وہ ان ہسپتالوں کے کم از کم تین ماہ تک فون، بجلی، گیس اور پانی کے بل معاف کر دے۔ علاوہ ازیں ان ہسپتالوں کے عطیات کم ہونے کی وجہ سے ملازمین کو تنخواہیں دیناان کے لیے ایک بڑا اور لا ینحل مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ راقم الحروف ایک ہسپتال کا جنرل سیکرٹری ہے اور ایک رفاہی ہسپتال چلا رہا ہے اور یہ تمام مشکلات اس کے سامنے ہیں لہٰذا حکومت کوچاہیے کہ وہ رفاہی ہسپتالوں کی مالی مدد کرے، تاکہ غریبوں کا مفت علاج جاری رہ سکے اور ان رفاہی ہسپتالوں میں کام کرنے والے میڈیکل، پیرا میڈیکل اوردیگر ملازمین کو کم ازکم چھ ماہ تک حکومت تنخواہیں دینے کا انتظام کرے، تاکہ ان کے گھریلو معاملات متاثر نہ ہوں اور ساتھ ہی ہم حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ نئے آنے والے بجٹ میں ان رفاہی ہسپتالوں کے لئے خاطر خواہ فنڈز مختص کرے، تاکہ یہ انسانی خدمت کا اپنا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ امید ہے حکومت بہت جلد اس سلسلے میں موثر اقدامات کرے گی اور آخر میں راقم الحروف مخیر حضرات سے عرض گزار ہے کہ وہ ڈاکٹر اے کیوخان ہسپتال کو بڑھ چڑھ کر عطیات و زکوۃٰ دیں تاکہ نادار اورمستحق مریضوں کا علاج جاری رہے اور اس سلسلے میں اگر آپ کو ئی معلومات درکار ہیں تو اس نمبر پر رابطہ فرمائیں 042-111-71-71-71۔

مزید :

رائے -کالم -