رمضان المبارک اور حکومت

رمضان المبارک اور حکومت
رمضان المبارک اور حکومت

  

رمضان کا مہینہ اپنی برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ شروع ہو چکا ہے ا ور دوسری جانب پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے مسلمان امسال اجتماعی عبادت سے بھی محروم ہیں۔حرمین شریفین کی انتظامیہ نے بھی حرم شریف اور مسجد نبویؐ میں اجتماعی عبادات کا سلسلہ معطل کر دیا ہے۔اسی طرح پاکستان میں بھی حکومت نے بیس نکاتی ایک اعلامیہ جاری کیا ہے، جس پر عمل کر کے ہمارے ہاں بھی روزہ دار مساجد میں نماز اور تراویح ادا کر سکتے ہیں، اس وبا سے بچنے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ہمارے مذہبی طبقے کو بھی حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔ یہ ایسا بابرکت مہینہ ہے کہ اس مہینے میں کی گئی عبادت کا ثواب بھی عام دِنوں کی نسبت دوگنا ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں شاید اس ماہ مقدس کو منافع ڈبل کرنے کا مہینہ سمجھ لیا جاتا ہے، بلکہ سمجھا جا رہا ہے،جو چیز رمضان المبارک سے پہلے سو روپے کی مل رہی تھی تو رمضان کا آغاز ہوتے ہی اس کی قیمت دو سو روپے تک جا پہنچی ہے۔رمضان میں لوگ پھلوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں سب سے زیادہ قیمت بھی ان ہی کی بڑھتی ہے۔رمضان سے قبل کیلا 50 روپے سے لے کر 100 روپے تک درجن بیچا جا رہا تھا، لیکن اب وہی کیلا دو سو روپے درجن تک جا پہنچاہے۔ اسی طرح دیگر پھلوں کی قیمتیں بھی اسی حساب سے دوگنا کر دی گئی ہیں۔

گرم موسم ہے اور لوگ پانی کا بھی زیادہ استعمال کرتے ہیں سب کو پتہ ہے کہ رمضان میں لیموں پانی کا استعمال زیادہ ہو گا،لیکن لیموں جو رمضان سے قبل100 سے 200روپے تک کلو میں دستیاب تھا اب 600 روپے تک بھی مل جائے تو اسے غنیمت سمجھا جاتا ہے۔ ابھی تو لا ک ڈاؤن کی وجہ سے بازار بند ہیں اگر 9 مئی کے بعد انہیں بھی کھولا جاتا ہے تو یقینا دیگر اشیا ضروریہ کی قیمتیں بھی ایسے ہی بڑھا کر دی جائیں گی جیسے پھلوں و سبزیوں کی قیمت کو بڑھا کر دگنا ثواب حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم ایسی قوم ہیں کہ خیرات کرنے میں بھی ہم سب سے آگے ہیں اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو لوٹنے میں اور ان کی جیبوں سے زیادہ سے زیادہ مال نکلوانے میں بھی ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ایک جانب ہمارے ہاں لنگر خانے جاری ہیں،جہاں غریبوں کو دن رات کھانے مہیا کئے جا رہے ہیں اور ساتھ میں منافع خور بھی سرگرم ہیں،جو اپنی جیبیں گرم کرنے کے لئے غریب آدمی کا استحصال کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔

پھر ہم پاکستانی شکوہ کرتے ہیں کہ ہمارے حکمران چور ہیں ہماری حکومتیں ظالم ہیں، لیکن اگر ہم من حیث القوم اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو یقین جانیں ہمارے حکمران ہمارا ہی پرتو ہیں۔کورونا کے دوران لاک ڈاؤن میں ایک تو پہلے ہی غریب آدمی پس رہا ہے، کیونکہ نہ وہ دیہاڑی لگا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کام میں مشغول ہو سکتا ہے اور رمضان کے مہینے میں سحری و افطاری کے لئے کھانے پینے کا انتظام اور اہل و عیال کے لئے روزی کا بندو بست کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ ایسے میں جب ہماری حکومت پہلے ہی بے بس ہے، جس نے ہومیو پیتھک ٹائپ سا لاک ڈاؤن کر کے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کی کوشش کی ہے۔تو ہمیں اجتماعی طور پر احساس کرتے ہوئے اپنے ان غریب بہن بھائیوں کا بھی خیال کرنا چاہئے جو مالی طور پر غریب ہونے کی وجہ سے دُنیا کی ان نعمتوں سے مستفید نہیں ہو سکتے۔

اب حکومت کے ایوانوں میں ہونے والی تبدیلی کا ذکر بھی کر لیا جائے۔حکومت نے مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ سابق کور کمانڈر کوئٹہ اور سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو مشیر اطلاعات مقرر کیا ہے۔اس کے ساتھ سینیٹر شبلی فراز کو وزارت اطلاعات کا منصب دیا ہے۔عاصم سلیم باجوہ جب پاکستان کی افواج میں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشن تعینات تھے تو انہوں نے اس کو ایک نئی جہت دی تھی۔جنرل عاصم سلیم باجوہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے اور اب تک کے واحد تھری سٹار جنرل ہیں،جو ڈی جی آئی ایس پی آر تعینات ہوئے۔انہوں نے اس دوران ٹویٹر پر اپنی فعالیت سے اس شعبے کو پروان چڑھایا اور اپنے بعد آنے والوں کیلئے مثال بن گئے،جس طرح وہ پاکستان کی مسلح افواج کی بہترین طریقے سے ترجمانی کرتے رہے اور بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیتے رہے یقینا اسی طرح وہ حکومت کی بھی ترجمانی کریں گے اور حکومت کے اچھے کاموں کو میڈیا میں عمدہ انداز میں بیان کریں گے۔سینیٹر شبلی فراز بھی ایک بھلے مانس آدمی ہیں اور وہ حکومت کا مثبت امیج اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔کچھ دن قبل ہی پنجاب میں بھی چیف سیکرٹری اعظم سلیمان کو تبدیل کر کے ان کی جگہ جواد رفیق ملک کو چیف سیکرٹری تعینات کیا گیا ہے۔

پنجاب میں تقریبا پونے دو سالوں میں چار چیف سیکرٹری تبدیل ہو چکے ہیں۔ اسی عرصے میں پنجاب میں محکمہ پولیس کی کمان بھی پانچ بار تبدیل کی گئی۔تقرر و تبادلے حکومتیں کرتی رہتی ہیں اور کوئی اچھی کارکردگی نہ دکھائے تو اسے تبدیل کرنا بھی حکومت کا استحقاق ہے لیکن پے در پے تبدیلیاں بھی حکومت کے کے لئے اچھا عمل نہیں ہے۔ایک تو بار بار ہونے والی تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ یا تو بیو رو کریسی اس قابل نہیں ہے جو صوبے یا ملک کو چلانے کے لئے یکسوئی سے حکومتی احکامات پر عمل کر سکے یا پھر حکومت کی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان ہے جس کی وجہ سے انہیں بار بار عہدوں میں رد وبدل کرنا پڑ رہا ہے۔پنجاب میں مسلسل ہونے والی یہ تبدیلیا ں اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہیں کہ ابھی تک پنجاب حکومت کوئی ٹھوس پالیسی کسی معاملے پر لا ہی نہیں سکی یا وزیراعلیٰ عثمان بزدار ابھی تک اپنے آپ کو پنجاب کی بیوروکریسی سے ہم آہنگ ہی نہیں کر سکے، جس کی وجہ سے مسلسل تبدیلیاں کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔آئے روز کی تبدیلیوں کی وجہ سے دو سال کے دوران حکومت ابھی تک سوائے احساس پروگرام کے(وہ بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی اپ ڈیٹڈ شکل ہے) علاوہ کوئی ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کر سکی جسے خالصتا عمران خان کی حکومت کا تحفہ قرار دیا جا سکے۔اختیارات کی اس جنگ سے نکل کر پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھنا ہو گی چاہے وہ ہسپتالوں کی صورت میں ہوں یا سڑکوں کی صورت میں اگر ایسا نہ ہوا تو پنجاب اور وفاق میں تحریک انصاف کے لئے مشکل حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -