آئیے منہ کا ذائقہ بدلیے

آئیے منہ کا ذائقہ بدلیے

  

ہم آج کل انواع و اقسام کے امراض اور خوف میں مبتلا ہیں۔اندر کا خوف، باہر کا خوف،اقتدار کا خوف اور کرونا وائرس سے موت کے جبڑوں میں جکڑے جانے کا خو ف، ؒ وہ زمانہ بیت گیا جب ہر کوئی اپنا لگتا تھا۔اب کی بار تو بچھڑنے کی وبا ء پھوٹ پڑی ہے۔۔سلامتی اسی میں ہے کہ سماجی روابط ختم کردیے جائیں۔موت کا ایک دن معین ہے۔مشکل گھڑی میں اس خدائی طاقت کے بارے میں شعور رکھیں۔جو ہر شے پر قادر ہے۔احتیاطی تدابیر کے بعد سب کچھ اس پر چھوڑدینا اور کرونا کا مقابلہ بہادری سے کرنا چاہیے اس شدید بحران اور لاک ڈاؤن کے دور میں خود بھی خو ش رہنا چاہیے اور دوسروں کو بھی خوش رکھنا ہے۔پچھلے تقریبا ً ڈیڑھ ماہ سے ہمارے بیشتر کالم گھوم پھر کر کرونا کے حوالے ؒسے لکھے جا رہے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی خوف و ہراس، مایوسی و ناامیدی پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔

جبکہ جسمانی و نفسیاتی بیماریوں کا سب سے پہلا علاج انسانی مدافعتی نظام ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ ہمار ا الیکٹرانک میڈیا،بریکنگ نیوز چلاکر لوگوں کو کرونا کے ساتھ،ڈپریشن جیسی بیماریوں میں مبتلا کر رہا ہے۔یہ محض قلم سے نکلے الفاظ نہیں آنکھوں دیکھی بات ہے۔بہاولپور میں رہائش پذیر ہمارے ایک فیملی فرینڈ ان سنسنی خیز خبروں سے فریسٹریشن کا شکارہوچکے ہیں علاوہ ازیں خبریں سننے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اور اب ڈاکٹرز کی ہدائت پر ان کو ادویات دی جا رہی ہیں۔ Relaxant Medicines کرونا وائرس نے بستیوں،محلوں،شہروں اور ملکوں کے درمیان دیواریں کھڑی کرد ی ہیں۔اس کیفیت سے نکلنے کے لیے مثبت سوچ درکار ہے۔

اچھی کتابیں پڑھیں اور اچھا سوچیں۔اس نظریے کے تحت مشتاق احمد یوسفی کے چند خوبصورت پر مزاح جملے آپ کی نذر ہیں۔آہ یوسفی ہم نہ رہے لیکن یوسفیات ابھی زندہ ہیں۔مشتاق احمد دور حاضر میں بھی طنز و مزاح کے امام ہیں۔انہیں پتنگ بازی کا شوق تھا کہنے لگے لڑکپن کا زمانہ بادشاہی کا زمانہ ہوتا ہے۔اس زمانے میں کوئی مجھے حضرت سلیمان کا تخت ہد ہد اور ملکہ سبا بھی دے دیتا تو وہ خوشی نہیں ہوتی جو ایک پتنگ لوٹنے سے ہوتی تھی۔عوام الناس سے مراد وہ عوام ہیں جن کا ناس مار دیا گیا ہو۔کچھ لوگ اتنے مذہبی ہوتے ہیں کہ جوتا پسند کرنے کے لئے بھی مسجد کا رخ کرتے ہیں۔ عورتوں کا دل جیتنے کے معاملے میں عامل حضرات ڈاکٹروں سے زیادہ چالاک ہوتے ہیں ان کا ایک جملہ کافی ہوتا ہے کہ آ پ کو نظر لگی ہے۔دنیا میں غالب واحد شاعر ہے جو سمجھ میں نہ آئے تو دوگنا مز ہ دیتا ہے۔۔اسلام کے لیے سب سے زیادہ قربانی بکروں نے دی ہے۔بینکر اچھے وقتوں کا بہترین ساتھی ہوتا ہے۔موسم اچھا ہوتو زبردستی اپنی چھتری ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔

لیکن جیسے ہی چھینٹے پڑنے لگیں تو کہتا ہے کہ لاؤ میری چھتری۔کسی نے ان سے پوچھا کہ کونسی خوشبوپسند ہے تو فرمانے لگے پھولوں میں رنگوں کے لحاظ سے سفید گلاب اور خوشبوؤں میں نئے کرنسی نوٹ کی خوشبو بہت مرغوب ہے۔عمر کی اس منزل پرآپہنچا ہوں اگر کوئی سن ولادت پوچھے تو اسے فون نمبربتا کر باتو ں میں لگا لیتا ہوں۔ایک بار شوخ چنچل لڑکی انہیں ملنے آئی آدھ پون گھنٹے کی گفتگو کے بعد کہنے لگی کہ یوسفی صاحب بات چیت میں تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک لگتے ہیں لیکن تحریر میں بالکل لُچے لگتے ہیں۔کالم کا اختتام مشہور و مقبول مزاح نگار جارج میکش کے قول کے مطابق مغرب میں مزاح مر چکا ہے۔اب زندہ نہ ہوگامگر یہ مغرب ہی پر موقوف نہیں۔ایسا محسوس ہتا ہے کہ انسان میں اپنے آپ ہنسنے کا حوصلہ نہیں رہا۔کرونا نے انسانی طرز عمل کو ڈرامائی طور پر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔خدا کرے یہ مسکراہٹیں شاد رہیں آباد رہیں۔

مزید :

رائے -کالم -