لاک ڈاؤن میں نرمی، تمام ہدایات نظر انداز، نئے بازار سج گئے

لاک ڈاؤن میں نرمی، تمام ہدایات نظر انداز، نئے بازار سج گئے

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

کورونا اور لاک ڈاؤن ابھی تک یہی دو موضوع زیر بحث اور زیر غور چلے آ رہے ہیں۔ اسی حوالے سے بے روزگاری اور معاشی تنگی کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ بھی زیر تنقید ہے کہ مساجد کھولنے کی جو اجازت مشروط طور پر دی گئی ہے، اس پر کماحقہ عمل ہو رہا ہے یا نہیں، جہاں تک عام شہریوں کا تعلق ہے تو ان کی طرف سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کسی بھی جگہ سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا جاتا، لاہور میں رمضان المبارک کے حوالے سے نرمی کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ سموسے، پکوڑے والی دکانوں اور ریڑھیوں پر کسی ہدائت پر عمل نہیں ہوتا اور لوگ سماجی فاصلے کو قطعی نظر انداز کر رہے ہیں، حتیٰ کہ بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹوروں پر جو قطار لگتی ہے اس کے درمیان فاصلہ انتہائی کم ہوتا ہے اور یہاں صرف سینٹائز گیٹوں کا اہتمام نظر آتا ہے، یہ سب عام بازاروں میں نہیں اور لوگ ایسے گھومتے ہیں کہ جیسے حالات بالکل نارمل ہو چکے اس حوالے سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ ہی ایک نئی تبدیلی نظر آئی کہ تجاوزات میں بہت اضافہ ہو گیا اور بعض سڑکیں اور راستے تنگ ہو گئے ہیں، اس حوالے سے فروٹ والوں نے پہل کی۔ علامہ اقبال ٹاؤن میں یہ منظر عام ہے کہ پائلٹ سکول کے باہر سڑک پر پھل کی ریڑھیوں نے تھوڑا آگے بڑھ کر سڑک کنارے دکانیں سجا لی ہیں۔ اسی طرح روزگار سے محرومی کے باعث پریشانی نے کریم بلاک مارکیٹ اور لنڈا بازار والوں کو نئی راہ سمجھا دی ہے۔ یہ حضرات مرکزی سڑکوں کے فٹ پاتھوں اور گرین بیلٹوں کے کنارے ریڈی میڈ (نئے پرانے) کپڑے فروخت کرنے کے لئے دکانیں سجا چکے ہیں اور رسیاں باندھ کر ”تنی مارکیٹیں“بنا چکے کہ یہ حضرات روزی کما سکیں کہ رمضان المبارک چل رہا ہے تو عیدالفطر کی بھی آمد ہے۔

حکومت کی تمام تر یقین دہانیوں اور احکام کے باوجود روزہ داروں کی پریشانیوں میں کمر کیا جسم توڑ مہنگائی نے اضافہ کر دیا ہے۔ بازار میں دالوں، سبزیوں، پھل اور مختلف قسم کے گوشتوں کی قیمتوں میں غیر متوقع اور غیر متناسب اضافہ کر دیا گیا ہے، اب تو یہ دہائی دی جا رہی ہے، ”ایسی مہنگائی، کبھی دیکھی نہ سنی“ اس کا اندازہ اس امر سے لگا لیجئے کہ لیموں جو روزہ داروں کے لئے نعمت مانا جاتا ہے کہ آج کل کے موسم میں سکنجین سے گزارہ ہو جاتا ہے۔ عام آدمی دو سے تین لیموؤں کی نمک والی سکنجین بنا کر غربت چھپا لیتا تھا، اب یہ لیموں بھی چھ سو روپے فی کلو تک پہنچ چکا اور یہ دیسی نہیں چائنہ ساخت ہے۔ یہ درخت بہت زیادہ پھل دیتے اور ان کا سیزن بھی زیادہ ہوتا ہے۔ دیسی لیموں تو مئی، جون، جولائی میں آتے ہیں، مہنگائی روکنے کے تمام دعوے بے ثمر ثابت ہوئے۔ آئل اور وناسپتی کے نرخ بڑھ گئے، پکوڑے اور سموسے بھی مہنگے ہیں۔

کرونا، رمضان اور مہنگائی کا روگ عام لوگوں کے لئے ہے، سیاست دان اور حکمران بے فکر ہیں کہ ان کے اپنے حفاظتی انتظامات ہیں، ایسے میں کئی سرکاری دفاتر کے سربراہوں کو گھر پر چین نہیں، حکومت نے سرکاری اور غیر سرکاری (وفاقی، صوبائی، ضلعی) دفاتر بھی بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہوا ہے، تاہم کئی وفاقی دفاتر ایسے ہیں، جن کے سربراہوں کو گھر پر چین نہیں ملتا اور وہ دفتر لگا رہے ہیں اور وہاں کوئی حقیقی حفاظتی انتظامات بھی نہیں، اگر کسی ملازم کو وائرس نے آ لیا اور اس نے دوسروں کو متاثر کیا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔ انٹیلی جنس اداروں کو ان کی خبر بھی لینا چاہیے۔

وفاقی وزیر ریلوے ان حالات میں بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں، ہفتہ رفتہ میں لاہور آئے تو نئی پھلجڑی چھوڑتے چلے گئے، اس بار بھی نشانہ محمد شہباز شریف تھے۔پیش گوئی کی کہ ان کا کھیل ختم ہو گیا اور جلد ہی اندر چلے جائیں گے جبکہ چچا، بھتیجی (شہباز+مریم) میں اختلافات کا بھی ذکر کر گئے۔ قدرتی طور پر اس کا جواب مسلم لیگی حضرات کی طرف سے دیا گیا اور کہا گیا ”تو اپنی نبیڑ تجھے پرائی کی کیا“ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر اور قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف نے خود کو گھر پر قرنطینہ کیا ہوا ہے، وہ نیب لاہور کے بلانے پر دوبار پیش نہیں ہوئے اور اب ان کو 5مئی کے لئے دوبارہ طلب کیا گیا ہوا ہے۔ دوسری طرف ان کے بڑے بھائی محمد نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے۔ نیب کا کہنا ہے کہ جنگ، جیو کے شکیل الرحمن کے خلاف ناجائز الاٹمنٹ کیس میں نہ تو وہ طلبی پر آئے اور نہ کوئی سولات کے جواب دیئے گئے، یوں یہ سلسلہ چلے جا رہا ہے، پیپلزپارٹی اپنے انداز فکر کے مطابق چل رہی ہے۔ سیاسی سرگرمی سے اجتناب اور قیادت کی ہدائت پر عوامی خدمت کی جا رہی ہے، سنٹرل پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے آن لائن میٹنگ کی اور پارٹی رہنماؤں،کارکنوں سے کہا کہ وہ متاثرین کی امداد جاری رکھیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -