ڈاکٹر فردوس عاشق ایوان آؤٹ، شبلی فراز اِن، جنرل (ر) عاصم باجوہ ساتھ ساتھ

ڈاکٹر فردوس عاشق ایوان آؤٹ، شبلی فراز اِن، جنرل (ر) عاصم باجوہ ساتھ ساتھ

  

دارالحکومت کا موسم اور سیاست دونوں بے اعتبار ہیں۔دونوں تیزی سے رنگ بدلتے ہیں، سیاست میں تبدیلی کے اس نرالے انداز کی وجہ سے ملک کے سیاسی اُفق پر بے یقینی کی فضا قائم رہتی ہے۔ اسلام آباد کا مطلع کئی روز ابر آلود رہنے کے بعد صاف ہو رہا ہے۔حُسن ِ اتفاق یہ ہے کہ سیاسی مطلع بھی صاف ہو رہا ہے،لیکن یہ کتنے عرصہ کے لئے ہے اس کے بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا،لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ حکومت ”کچھ لواور کچھ دو“ کی بنیاد پر کم از کم وقتی طور پر درپیش گرداب سے باہر نکلتی نظر آتی ہے۔لگتا ہے کہ ملک کے ”بڑوں“ کی پے در پے ملاقاتیں کچھ نہ کچھ رنگ ضرور لائی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے پہلے انتہائی قریبی حلیف جہانگیر خان ترین جو حکومت کے خلاف ایک آتش فشاں بن کر پھٹنے والے تھے وہ بہت حد تک معتدل اسلوب اپنائے ہوئے فی الحال خاموش ہیں،لیکن یہ آتش فشاں بھی پھٹنے کے لئے کسی مناسب موقع کی تاک میں ہو گا تاہم فی الحال انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آٹے چینی اور اس کے بعد پاور سیکٹر کے سیکنڈلز کا دامن اتنا وسیع ہو جائے گا کہ ان پر لگنے والے الزامات کے دھبے چھوٹے ہو جائیں گے، جبکہ ان تمام سیکنڈلز میں ملک کی بہت ساری شخصیات بالخصوص اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے نام بھی لئے جا رہے ہیں تاکہ اپوزیشن حکومت پر سیاسی جارحیت کے بجائے دفاعی پوزیشن اپنانے پر مجبور ہو جائے۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہئ ”آب پارہ“ بھی خاصا کارگر ثابت ہوا ہے۔اس کے بعد حکومت کے اعتماد میں اضافہ نظر آ رہا ہے، جبکہ کابینہ میں اہم تبدیلیاں بھی ہوئی ہیں۔ محترمہ فردوس عاشق اعوان کو وزارتِ اطلاعات و نشریات سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اگرچہ محترمہ نے جوانمردی سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دفاع کیا،لیکن ان کے دور میں میڈیا انڈسٹری کے حوالے سے بہت سے تنازعات نے بھی جنم لیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے کور حلقوں نے فردوس عاشق اعوان کی وزارتِ اطلاعات میں تعیناتی کو شروع دن سے ہی تسلیم نہیں کیا،جبکہ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کے ساتھ بھی ان کی مخاصمت چلتی رہی۔وفاقی وزیر فواد چودھری نے بھی ایک دبنگ شخصیت کے طور پر اپنے آپ کو منوایا ہے اور وہ بھی فردوس عاشق اعوان پر تنقید کا کوئی موقع گنوانے سے پرہیز نہیں کرتے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی کئی دفعہ فردوس عاشق اعوان کو وزارتِ اطلاعات سے ہٹانے کی ٹھانی،لیکن ان کی طرف سے پہلے جن تین شخصیات سے پوچھا گیا۔انہوں نے یہ وزارتِ قبول کرنے سے معذرت کر لی،جبکہ سینیٹر فیصل جاوید اور حکومتی ترجمان شہباز گل کے ناموں پر بھی مختلف حلقوں کی طرف سے قیاس آرائیاں ہوتی رہیں،لیکن بالآخر قرعہ سینیٹر شبلی فراز کے نام نکلا۔ تاہم وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کے بارے میں تاثر ہے کہ اس سے قبل جتنے نام بھی وزارتِ اطلاعات کے لئے سامنے آئے تھے وہ ان سب میں سے موزوں ترین شخصیت ہیں۔وہ دارالحکومت میں ایک بے داغ اور صاف گو شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی بالخصوص وزراء کی اپنے اسلوب کے حوالے سے ایک خاص شہرت ہے کہ وہ اپنے بیانات سے اپوزیشن کو خوب گرمائے رکھتے ہیں اور اپنے تند و تیز لب و لہجہ سے اپوزیشن کو محاذ آرائی کی دعوت دیتے ہیں،لیکن وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے سینیٹ میں بطور قائد ایوان پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی اس شہرت سکے برعکس اسلوب اپناتے ہوئے نہ صرف اپنی پارٹی،بلکہ اپوزیشن سے بھی عزت ہی کمائی۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے ان کی تعیناتی کا خیر مقدم کیا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کام اس لحاظ سے کٹھن ہو گیا ہے کہ انہوں نے بیک وقت اپنے قائد وزیراعظم عمران خان،اپنی پارٹی کے دیگر قائدین کے علاوہ اپوزیشن کی ان سے وابستہ توقعات پر بھی پورا اترنا ہو گا۔اب دیکھنا ہے کہ وہ اس توازن کو کس طرح برقرار رکھتے ہیں اور حکومت کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت کے وقار کا دفاع کس انداز میں کرتے ہیں۔

ایک بڑی پیش رفت یہ ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل(ر)عاصم سلیم باجوہ بھی معاون خصوصی اطلاعات کے طور پر ان کے ہمراہ ہوں گے،لیکن جنرل(ر)عاصم سلیم باجوہ کے پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر کے طور پر منصب اور حالیہ تعیناتی کے تقاضوں میں بہت بڑا فرق ہے، ان کے لئے بھی حالیہ منصب ایک بہت بڑا چیلنج ہے، کیونکہ ایک سیاسی حکومت جو ہر وقت تنازعات کی زد میں ہوتی ہے اس کا دفاع کٹھن کام سے تاہم پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک ہی وزارت بالخصوص وزارتِ اطلاعات میں سول ملٹری کا حالیہ امتزاج خاصہ دلچسپ ہے، لگتا ہے کہ اس سے سول ملٹری تعلقات میں بہتر تال میل ہو پائے گی۔دوسری جانب کوونا کا مہیب عفریت سامنے کھڑا ہے۔ آئندہ آنے والے دِن انتہائی اہم ہیں ایک طرف لاک ڈاؤن کی سخت ضرورت اور دوسری جانب عوام کی نحیف معاشی استعداد حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام کے لئے ایک بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے،لیکن یہ کس حد تک عوام کی مالی مشکلات کم کر پائے گا،یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا،لیکن کورونا کے خلاف اس جنگ میں سب سے افسوسناک پہلو کہ اس جنگ میں فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹروں کو مکمل حفاظتی سامان کی عدم فراہمی سے پیدا شدہ صورتِ حال ہے جس کا فوری ازالہ ضروری ہے۔ کورونا سے متاثرہ اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، حکومت کو اس حوالے سے موثر ترین اور جامع حکمت عملی اپنانی ہو گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -