سچ آکھیاں بھانبھڑ مچدا اے

سچ آکھیاں بھانبھڑ مچدا اے
سچ آکھیاں بھانبھڑ مچدا اے

  

بلا شبہ وہ خطیب عصر ہیں انہوں نے اپنی خطابت سے ایک جہان کو متاثر کیا ہے۔ مولانا طارق جمیل آج سب سے زیادہ سنے جانے والے مذہبی خطیب ہیں۔ وہ جس چینل پر آ جائیں اس کی ریٹنگ آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے۔ اس کی ایک وجہ جہاں ان کی جادو بیانی ہے وہاں اس کی اہم وجہ ان کا مسلکی تعصبات سے بالاتر ہونا بھی ہے۔ تبلیغی جماعت میں ہوتے ہوئے وہ ہر مکتب فکر، ہر فرقے اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد تک کسی تکلف کے بغیر دعوت دین پہنچانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ وہ جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے دیہاتی قصبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ تلمبہ نامی یہ قصبہ میانچنوں اور عبدالحکیم کے درمیان واقع ہے۔ ایک متمول زمیندار گھرانے میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے علاقے میں ان کا اثر و رسوخ بھی ہے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم رہتے ہوئے جب رائیونڈ کی تبلیغی جماعت سے ناتا جوڑا تو انہیں اپنے والد کے شدید ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے ہونہار فرزند کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے مگر وہ ”مولوی“ بننے کی راہ پر چل نکلے تو والدہ مرحوم نے انہیں گھر سے نکال دیا۔ وہ اس آزمائش میں پورے اترے۔ انہوں نے اپنے والدین کا احترام چھوڑا نہ تبلیغ کا راستہ ترک کیا۔ یہاں تک کہ والدین بھی مان گئے اور مشن بھی جاری رہا۔

انہوں نے تبلیغ کے راستے پر چلتے ہوئے بہت سے نامی گرامیوں کی کایا پلٹ دی۔ قومی کرکٹ ٹیم کے انضمام الحق، سعید انور، شاہد آفریدی، ثقلین مشتاق، مشتاق احمد، نامور پاپ گلوکار جنید جمشید مرحوم انہی کی کاوشوں سے دین کی طرف مائل ہوئے اور تبلیغ کے راستے پر چل پڑے۔ سوشل میڈیا پر مولانا کے پیرو کاروں (فالورز) کی تعداد پاکستان کے کسی بھی ادیب، خطیب شاعر، کھلاڑی آرٹسٹ سے زیادہ ہے۔ یہ تعداد کروڑ سے متجاوز ہے۔ مولانا کے خطاب کی طرح ان کا طرز تبلیغ بھی جداگانہ ہے۔ جن گنہگاروں سے پارسا دامن بچا کر رکھتے ہیں مولانا انہیں اپنے دامن تبلیغ میں سمیٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ وہ اس فارمولے پر عمل پیرا نظر آتے ہیں کہ ”نفرت جرم سے کرو مجرم سے نہیں“ یہی وجہ ہے کہ ان کی محنت سے خواجہ سرا تک دین کی راہ پر چلنے والے بن گئے۔ ان کے قصبے کے ”اس بازار“ کا مال ”باذوق“ زمینداروں میں خاصا مقبول ہے۔ پورے جنوبی پنجاب میں محافل رنگ و سرور کے لئے ان کی کافی مانگ ہے۔

وہ اپنے قصبہ تلمبہ کے اس بازار میں خود چلے گئے اور وہاں کے خورد و کلاں کو دعوت دے ڈالی یہ ساری محنت اور صلاحیت ایک طرف مولانا آخر کو انسان ہیں۔ وہ معصوم من الخطاء ہیں نہ غلطیوں سے پاک۔ وہ جذب و شوق سے ہر وقت ہر جگہ نیکی کی دعوت اور ترغیب دیتے ہیں۔ مقبول اور با اثر طبقات کو راغب کر کے دین کا کام لینے کو وہ کامیاب حکمتِ عملی سمجھتے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم سے لے کر سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف سے ہوتا ہوا ان کا یہ سفر موجودہ وزیر اعظم عمران خان نیازی تک پہنچا ہے تو یہ تسلسل ہے ان کے طرز تبلیغ کا۔ اس کو وہ زیادہ مجرب نسخہ سمجھتے ہیں۔ اللہ کریم انہیں صحت تندرستی کے ساتھ تادیر سلامت رکھے تو یہ سلسلہ جاری رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ یہ کام وہ سیاسی اونچ نیچ کے پیش نظر نہیں کرتے کوئی سیاسی مقاصد بھی دکھائی نہیں دیتے وہ ہر با اثر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں تاکہ تبلیغ کی راہیں آسان اور کشادہ ہوتی چلی جائیں۔ برقی ذرائع ابلاغ کا مزاج اخبارات و جرائد سے مختلف ہے اور ماحول تو بالکل جداگانہ ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم کی کورونا فنڈ مہم کے سلسلے میں جو ٹیلی تھان تمام بڑے چینلز میں براہ راست برپا ہوئی اس میں وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں مولانا نے اظہار خیال کرتے ہوئے جو باتیں کیں وہ نئی تھیں نہ خلافِ واقعہ لیکن۔ سچ آکھیاں بھانبھڑ مچدا اے۔

گزشتہ نصف صدی میں وطن عزیز کے جن خطباء نے فنِ خطابت کی جولانیاں دکھائیں اور عوام میں پذیرائی حاصل کی ان میں آغا شورش کشمیری، مولانا کوثر نیازی اور علامہ رشید ترابی نمایاں تھے۔ اول الذکر دونوں تو کمال کے ادیب اور شاعر بھی تھے۔ تب برقی ذرائع ابلاغ (الیکٹرانک میڈیا) عام نہ تھا چنانچہ ان عظیم خطباء کو میدانوں، مساجد، امام بارگاہوں، میں تو وسیع سامعین میسر تھے جو جوق در جوق کھنچے چلے آتے تھے مگر ان کی مقبولیت یا پذیرائی گھروں کے اندر تک اس طرح نہ تھی جس طرح آج کے موٹی ویشنل لیکچررز، خطیبوں اور فنکاروں کو الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے حاصل ہے۔ یہ ایسی مسلمہ حقیقت ہے کہ جس کا ادراک اور احساس خود مولانا طارق جمیل کو بھی ہے۔ ماضی میں تبلیغی جماعت کے زعماء ہر طرح کے میڈیا سے دور رہتے تھے خود مولانا طارق جمیل کی خطابت کی مقبولیت کے ابتدائی کئی سال تک لوگ آڈیو کیسٹوں کے ذریعے ان کی تقاریر کے دلدادہ تو ہو چکے تھے مگر ان کی شکل سے واقف نہیں تھے صرف آواز سے شناسائی تھی۔ اس وقت ان کے پرستاروں کی تعداد ہزاروں یا شائد لاکھوں میں ہو گی مگر جب وہ سنائی کے ساتھ ساتھ سکرین پر دکھائی دینے لگے تو یہ تعداد کروڑوں تک پہنچ گئی۔ اس ریکارڈ ساز پیشرفت میں جہاں مولانا کی محنت اور صلاحیتوں کا کمال ہے وہاں الیکٹرانک میڈیا کا بڑا عمل دخل بھی ہے وہ جب کسی محفل، تقریب، اجتماع یا سکرین پر جلوہ گر ہوتے ہیں تو ان کے سامنے سامعین و ناظرین ان کے عقیدتمند ہوتے ہیں جو ان کے انداز بیان اور نفسِ مضمون پر عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں اور بجا طور پر کرتے ہیں۔

ان کی سحر بیانی حاضرین کو مبہوت کئے رکھتی ہے مگر ٹی وی اینکرز ان کے عقیدتمند نہیں۔ وہ خود سامعین و ناظرین کی محبوبیت سے سرشار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اپنے شو کے بادشاہ ہوتے ہیں۔ اپنے کیریئر میں وہ تنقید کے اسلحہ سے لیس دوسرے کی اصلاح اور تصحیح کے منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے مولانا نے جو باتیں کیں وہ کئی اجتماعات میں کر بھی چکے ہوں گے۔ ان باتوں کو ایک مبلغ کی طرف سے اصلاح معاشرہ کی کاوش کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہوگا مگر شائد یہ پہلا موقع تھا کہ انہوں نے اتنی کڑوی بات ان میڈیا سیلیبرٹیز کے سامنے کہہ دی۔ اس میں کیا شک ہے کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ کا چلن عام ہے۔ ہم ضرورتاً اور اخلاقاً جھوٹ بولتے بولتے اب بلا ضرورت محض عادتاً جھوٹ بولتے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلوں اور اخبارات کے کارکن بشمول اینکرز اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ کچھ استثنائی صورتیں ہو سکتی ہیں مگر عام چلن یہی ہے کہ ہم سچ کو اتنی اہمیت نہیں دیتے جتنا دین نے تاکید کی ہے اور جو قومی ترقی کے لئے ضروری بھی ہے۔

البتہ یہ درست ہے کہ میڈیا کی ہر چیز کا ریکارڈ ہوتا ہے اس لئے جھوٹ پکڑے جانے کے امکانات دوسرے شعبوں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔ جب اخبار، چینل یا اینکر کے پروگرام میں بھی جھوٹ پکڑا جائے اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ ریٹنگ گر جاتی ہے۔ اشاعت کو نقصان پہنچنا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ”خود کار احتسابی نظام“ میں جھوٹ کے پنپنے کے امکانات کم کم ہوتے ہیں۔ اسی لئے کوشش کی جاتی ہے کہ بات کہنے اور لکھنے سے پہلے تصدیق کرلی جائے۔ کالے کو سرمئی کہنے کو تو شاید نظر انداز کر دیا جائے مگر کالے کو سفید کہنا ہضم نہیں ہوتا۔ مولانا کی بات معاشرے کے حوالے سے عمومی طور پر درست تھی مگر ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے بقول ان کے اپنے ”طارق جمیل کو طارق جمیل بنانے والوں“ کو ہی ان کے سامنے جھوٹا قرار دیدیا۔ انہوں نے بہت اچھا کیا کہ اپنی بات پر اڑے نہیں۔ معاملے کی نزاکت کو جلد بھانپ لیا اور انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے عاجزی و انکساری کے ساتھ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی۔ یہ وہی عمل ہے جس کی وہ تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ اب خود انہوں نے کر کے دکھا دیا اور ثابت کر دیا کہ عجز سے آدمی کا قد گھٹتا نہیں بڑھتا ہے۔ یوں بھی پھل دار درخست ہی جھکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -