وزارت اطلاعات، گھوڑا ایک سوار دو

وزارت اطلاعات، گھوڑا ایک سوار دو
وزارت اطلاعات، گھوڑا ایک سوار دو

  

پہلا سوال تو یہی ہے کہ اطلاعات کا وفاقی وزیر بنانے کے ساتھ اطلاعات و نشریات کے لئے وزیراعظم کا معاون خصوصی بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ عموماً ایسا ہوتا نہیں، کیونکہ اس طرح وزارت میں اختیارات کا ٹکراؤ پیدا ہو جاتا ہے، تاہم یہ واقعہ رونما ہو چکا ہے اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ہٹا کر شبلی فراز کو وفاقی وزیراطلاعات اور جنرل (ر) عاصم باجوہ کو معاون خصوصی وزیراعظم برائے اطلاعات بنا دیا گیا ہے۔ کیا یہ طاقت کے مراکز میں طے پانے والے کسی فارمولے کا نتیجہ ہے یا پھر یہ صرف وزیراعظم کا انتخاب ہے کہ انہوں نے ایک مکمل وزیر کے ساتھ ساتھ اطلاعات کے لئے ایک سابق جرنیل کی بطور مشیر تقرری کو بھی ضروری سمجھا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملک کی وزارتِ اطلاعات ان دونوں میں کس کے ماتحت کام کرے گی۔

کیا شبلی فراز وزارت کے صرف داخلی امور سنبھالیں گے اور باقی سارا کام جنرل (ر) عاصم باجوہ کے ذمہ ہو گا۔ کیا میڈیا سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے شبلی فراز کا سافٹ چہرہ استعمال کیا جائے گا اور حکومت کے خلاف میڈیا کی یلغار روکنے کی ذمہ داری عاصم باجوہ کی ہو گی۔ وزارتِ اطلاعات کا اربوں روپے کا بجٹ کس کے اختیار میں ہوگا اور اشتہارات کے ضمن میں جو بے قاعدگیاں اور بندربانٹ ہوتی رہی ہے، اسے روکنے کی تدبیر کوں کرے گا؟ غرض بہت سے سوالات ہیں، جن کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا، تاہم ایک بات طے ہے کہ حکومت اس اہم وزارت کو اپنے قیام سے لے کر اب تک سنبھال نہیں پا رہی۔ میڈیا کے ساتھ حکومت کے تعلقات ہر وقت کشیدہ رہے ہیں اور حالت یہاں تک خراب رہی کہ وزیراعظم عمران خان عوام کو یہ مشورہ دینے پر آ گئے کہ وہ ٹی وی نہ دیکھا کریں اور اخبارات پڑھنا ترک کر دیں، کیونکہ ان میں سوائے حکومت کی مخالفت کے اور کچھ نہیں ہوتا۔

یہ تلخ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا پر بہت بُرا وقت آ گیا۔ ہزاروں صحافی بے روزگار ہوئے اور ٹی وی چینلز و اخبارات کی بندش کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ پاکستان میں میڈیا انڈسٹری سرکاری اشتہارات کے سہارے چلتی ہے۔ میڈیا کے اربوں روپے واجبات کی شکل میں حکومت نے روک لئے، جس سے بحران میں شدید اضافہ ہوا۔ اب ایسے میں وزارتِ اطلاعات کا موثر کردار ضروری تھا، جو ایک طرف میڈیا کو اس بحران سے نکالتی اور دوسری طرف حکومت و میڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو روکتی، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی شخصیت میں سوچ و فکر کی اتنی گہرائی نہیں تھی، جو مسئلے کی نزاکت کو سمجھ سکتی۔ وہ صرف وزیراعظم عمران خان کو خوش کرنے کے لئے سیاسی مخالفین پر گولہ باری کرتی رہیں۔ وزارت کا اصل کام ہوتا ہے۔ حکومت کا امیج بہتر بنانا اور امیج اس طرح بہتر نہیں بنتا کہ صرف سیاسی مخالفین پر طعن و تشنیع کے تیر برسا کر اس کی توقع کی جائے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان روزانہ تین چار بار میڈیا پر لائیو آنے کے خبط میں مبتلا ہو گئی تھیں، حالانکہ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا تھا، بلکہ ان کی اکثر پریس کانفرنسیں صورت حال کو مزید پراگندہ کر دیتی تھیں، کئی بار تو حیرت ہوتی تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے کیا سوچ کر اتنی اہم وزارت کی انچارج انہیں بنایا ہے جو ان کے لئے سیاسی مخالفین کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کے سوا کچھ کر ہی نہیں رہیں۔

اب یہ ٹاسک شبلی فراز اور عاصم باجوہ کو مل چکا ہے کہ وہ حکومت کا امیج بہتر بنائیں اور میڈیا سے تعلقات میں بھی بہتری لائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل (ر) عاصم باجوہ فوج کے محکمہ تعلقات عامہ میں بطور سربراہ بڑی کامیابیاں سمیٹ چکے ہیں۔ وہ تین سپہ سالاروں اشفاق پرویز کیانی، پرویز مشرف اور راحیل شریف کے بہت قریب رہے۔ وہ واحد جرنیل ہیں جو میجر جنرل کے بعد لیفٹیننٹ جنرل بن کر بھی آئی ایس پی آر کے سربراہ رہے، کیونکہ اس وقت فوج کو ایک موثر آواز کی ضرورت تھی۔میجر جنرل (ر) عاصم باجوہ کو جب آئی ایس پی آر کی سربراہی سونپی گئی تو کچھ ایسے واقعات رونما ہو چکے تھے، جن کی وجہ سے پاکستانی فوج عالمی سطح پر زیر بحث تھی، ملک میں اسامہ بن لادن کی امریکیوں کے ہاتھوں گرفتاری دہشت گردی کا عروج، سلالہ جیسے واقعات اور یہ پروپیگنڈہ کہ فوج بعض طالبان گروپوں کی سرپرستی کر رہی ہے، ایسے واقعات تھے، جن کی وجہ سے فوج کی مقبولیت اور شہرت کا گراف تنزلی کی طرف جا رہا تھا۔ ایسے میں بہت مشکل تھا کہ فوج کے امیج کو راتوں رات بہتر بنا دیا جائے، تاہم سب نے دیکھا کہ میجر جنرل (ر) عاصم باجوہ نے فوج کی ترجمانی کرتے ہوئے نہ صرف عوام کے دلوں میں، بلکہ عالمی سطح پر بھی فوج کے لئے ایک سافٹ کارنر پیدا کیا۔

جب وہ اپنی ملازمت کے اگلے مرحلے میں جانے کے لئے آئی ایس پی آر سے رخصت ہوئے تو فوج کی مقبولیت عام عروج پر پہنچ چکی تھی۔ دہشت گردی کے خلاف فوج کی کامیابیوں اور مشکل حالات میں عوام کی مدد کے لئے شانہ بشانہ کردار کو انہوں نے اتنی مہارت سے اجاگر کیا کہ اس دور کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) راحیل شریف قوم کی محبوب ترین شخصیت بن گئے، حتیٰ کہ سیاسی قیادت مقبولیت کے حوالے سے بہت پیچھے رہ گئی اور آرمی چیف کا قد و قامت سب سے نمایاں ہو گیا۔ وہ اس بات کی اہمیت کو سمجھتے تھے کہ جب تک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کو جدید خطوط پر، جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک میڈیا کے قومی و بین الاقوامی محاذ پر کامیابی ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ آج آئی ایس پی آر عالمی سطح پر اپنی پہجان کرا چکا ہے اور خود بھارتیوں نے تسلیم کیا ہے کہ ہم میڈیاوار میں آئی ایس پی آر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

اتنی بھرپور کامیابیوں کا ورثہ رکھنے والے جنرل (ر) عاصم باجوہ کو اب ایک نئے محاذ کی کمان سونپی گئی ہے۔ اب ان کے جسم پر وردی کی ڈھال نہیں، انہیں ایک سادہ لباس میں میڈیا کے سامنے حکومت کی نمائندگی کرنی ہے۔ یہ درست ہے کہ ان کے تمام اینکرز، ایڈیٹر،سینئر صحافیوں حتیٰ کہ میڈیا مالکان سے بھی ذاتی مراسم ہیں، مگر وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میڈیا کو عوام کی نمائندگی کرنا ہوتی ہے اور وہ آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔ فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کی سربراہی میں جو سہولتیں حاصل ہوتی ہیں، وہ حکومت کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے طور پر دستیاب نہیں۔ یوں کہنا چاہیے کہ وہاں اپوزیشن نہیں ہوتی، یہاں سب سے بڑی حریف اپوزیشن ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان تو شہباز شریف، نوازشریف، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں پر تنقیدی حملے کرکے کام چلا لیتی تھیں، مگر عاصم باجوہ ایسا نہیں کریں گے، لیکن سوال ان سے ایسے ہی کئے جائیں گے۔ ایک ایسے مواقع پر جب ملک میں آٹا، چینی سکینڈل اور پاور کمپنیوں کی کرپشن کے بارے میں رپورٹیں منظر عام پر لانے کی باتیں چل رہی ہیں اور حکومت کمیشن کی مدت بڑھانے کے فیصلے کر رہی ہے، جس پر اپوزیشن کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے، عاصم باجوہ ان سوالات سے بچ نہیں سکیں گے،

ان سے میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کے پس منظر میں بھی سوالات ہوں گے کہ حکومت میڈیا کے خلاف انتقامی پالیسی پر کیوں کاربند ہے۔ ظاہر ہے انہیں ایک ڈھال کے طور پر لایا گیا ہے۔ کیا وہ خود کو ایک موثر ڈھال ثابت کر سکیں گے۔ کہتے ہیں جرنیل سیاست میں آ کر ناکام ہو جاتے ہیں، کیا وہ بھی سیاسی عہدہ لے کر ناکام ہو جائیں گے؟ سیاسی مخالفین ابھی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ سلیکٹرز نے سلیکٹڈ وزیراعظم سے وزارتِ اطلاعات بھی چھین لی ہے۔ کیا وہ وزیراعظم کو اس الزام سے بچا پائیں گے۔اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ وہ وزیراطلاعات شبلی فراز سے ورکنگ ریلیشن شپ کیسے قائم کریں گے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ایک ہی وزارت میں جب وفاقی وزیر اور وزیر مملکت بنائے جاتے ہیں تو ان کی آپس میں نہیں بنتی، دونوں ایک دوسرے کے اختیارات میں ٹانگ اڑانا ضروری سمجھتے ہیں اور بالآخر دونوں کی چھٹی ہو جاتی ہے۔ اگر یہ صورت حال یہاں پیدا ہوئی تو کیا ہو گا؟ بہرحال ایک نئے تجربے کا آغاز ہوا ہے۔ اس کے نتائج کے لئے تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔ البتہ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ عاصم باجوہ اپنے ماضی کی شاندار کامیابیوں اور شہرت کو گرہن نہیں لگنے دیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -