کورونا کے شہید اول، پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید کے لئے اعلیٰ سول اعزاز

کورونا کے شہید اول، پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید کے لئے اعلیٰ سول اعزاز

  

گزشتہ ہفتے انہی سطور میں اس امر کی نشاندہی کی گئی تھی کہ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اچانک تیزی آ گئی ہے، اموات میں اضافے کے ساتھ ساتھ متاثرین کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے، دو روز قبل اس حوالے سے انتہائی افسوسناک خبر یہ ملی کہ خیبرپختونخوا کہ ممتاز ماہر ناک کان گلا پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید بیس بائیس روز تک کورونا سے جنگ کرتے کرتے زندگی کی بازی ہار گئے، وہ صوبے کے پہلے معروف طبیب تھے جنہوں نے جام شہادت نوش کیا، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس انتظامیہ کے مطابق ای این ٹی پروفیسر ڈاکٹر جاوید میں چند ہفتے پہلے کورونا کی تشخیص ہوئی تھی، انہیں مسلسل وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا، سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے پروفیسر جاوید شہید کی جان بچانے کی انتھک کوشش کی لیکن کارگر ثابت نہ ہوئی۔ شہید ڈاکٹر شعبہ صحت میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے اور پروفیشنل طبیب کے طور پر ان کی خدمات کا ہر سطح پر اعتراف بھی کیا جاتا رہا ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ دو روز قبل رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی، وہ بھی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج ہیں تاہم حا لت خطرے سے باہر ہے، منیر اورکزئی کو آئی سی یو سے آئسولیشن وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ہے، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کامران بنگش بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہیں، گزشتہ روز انہیں طبیعت کی خرابی کے باعث خیبر میڈیکل یونیورسٹی لے جا کر ٹیسٹ کرایا گیا جو مثبت آیا اور کامران بنگش گھر میں ہی جبکہ ان کے خاندان کے مزید 11 افراد کے نمونے بھی تجزیئے کیلئے لیبارٹری بھجوا دیئے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے شہید پروفیسر جاوید کی خدمات کے اعتراف میں انہیں سول ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے، اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ اجمل خان وزیر کا کہنا تھا کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے ثابت کردیا کہ وہ اپنی قوم کو اس مشکل گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے، اپنی قوم پر جان نچھاور کرنے والے اس طرح کے ڈاکٹرز ہمارے پاس ہوں تو کورونا سمیت کسی بھی وباء کا مقابلہ کرنا مشکل نہیں ہے، انکی خدمات کو تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھااور تاحیات یاد رکھا جائے گا۔ اس سانحے کی اطلاع پا کر وزیراعلیٰ محمود خان خود ہسپتال پہنچے اور انتظامیہ سے ڈاکٹر جاوید کی وفات پر تعزیت کی اور ڈاکٹر جاوید کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹروں کی خدمات کو سراہا۔ پروفیسر ڈاکٹر جاوید سمیت تمام طبی ماہرین کی یہی نصیحت ہے کہ اگر کورونا کو شکست دینا ہے تو کچھ عرصے کے لئے گھروں میں رہنا ہے کیونکہ یہ وائرس خود کسی کے پیچھے نہیں آتا جب تک آپ خود باہر جاکر اسے اپنے ساتھ گھر نہیں لاتے۔

دوسری جانب یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ صوبائی حکومت کورونا کے موجودہ حالات کے پیش نظر جہاں صحت کے بجٹ میں خاطر خوا اضافہ کر رہی ہے وہاں نئی ترقیاتی سکیمیں بھی شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اس بارے میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کے لئے صحت کے شعبے کو صوبائی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں صحت کے شعبے کو مستحکم بنانے اور ہیلتھ انفراسٹرکچر کو موجودہ صورتحال کے تقاضوں اور ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لئے سب سے زیادہ فنڈ مختص کئے جائیں گے۔ موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کے لئے صحت، ریلیف، سماجی بہبود، تعمیرات اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے والے شعبے صوبائی حکومت کی پہلی ترجیحات ہونگی جن کے لئے مالی وسائل کے دستیاب حجم کی مناسبت سے فنڈز مختص کئے جائیں گے جبکہ وفاق سے بہتر وصولی کی صورت میں ترجیحاتی شعبوں کی فہرست میں عوامی فلاح و بہبود کے دیگر شعبوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ ہم نے بار ہا اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ افغانستان میں ہونے والی امن دشمن کارروائیوں کی بازگشت خیبرپختونخوا میں لازمی سنائی دیتی ہے، گزشتہ چند روز سے سرحد پار جو واقعات رو نما ہو رہے ہیں اس کے اثرات ہمارے اس صوبے میں بھی دیکھے جا رہے ہیں، اگر چہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے طالبان سے تشددمیں کمی اور سیز فائر کرنے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ رمضان میں انسانی بنیادوں پر سیز فائر کریں،ملٹری آپریشنز معطل اور تشدد میں کمی کی جانی چاہئے، افغان عوام اور ملک کی بہتری تمام فریقین پر منحصر ہے، تمام فریقین مشترکہ دشمن کورونا وائرس کے خلاف تمام توانائیاں بروئے کار لائیں،رمضان المبارک افغان صدر اشرف غنی، عبداللّٰہ عبداللّٰہ سمیت دیگر قائدین کے لیے ملکی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کا بہترین موقع ہے، دونوں فریقین کو قیدیوں کے تبادلے کا عمل آگے بڑھانا چاہیے، کورونا وائرس کی وباء کے بعد قیدیوں کے تبادلے کا عمل فوری ایکشن کا متقاضی ہے۔ تمام تر ہدایات کے باوجود افغانستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں وقفے وقفے سے جاری ہیں اور اس کے اثرات ہمارے ہاں بھی ظاہر ہو رہے ہیں، ابھی گزشتہ روز یہ اطلاع ملی کہ شمالی وزیرستان میں کچھ دہشت گردوں نے پناہ لے رکھی ہے جس پر ہماری سیکیورٹی فورسز نے زبردست آپریشن کرکے 9 دہشت گردوں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کر لیا تاہم اس دوران ہمارے دو سپاہی بھی جام شہادت نوش کر گئے۔ شمالی وزیرستان کے علاقے خیسولہ اور دوسالی میں سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وفاقی حکومت کی کاوشوں سے کابل میں پھنسے 200پاکستانیوں کو واپس اپنے وطن بھیج دیا گیا، ان پھنسے پاکستانیوں کو طورخم کے راستے واپس پاکستان لایا گیاپاکستانی سفارتخانہ نے ان پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

کورونا زدہ ماحول میں یہ اطلاع بھی آئی ہے کہ حالیہ مون سون میں شدید بارش اور سیلاب کے خطرات کے پیش نظر پشاور، چترال، نوشہرہ، سوات، چارسدہ سمیت صوبے کے نو اضلاع کو حساس اور حساس ترین قرار دیا جا رہاہے، مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ ڈیپارٹمنٹس سے اس سلسلے میں رپورٹس طلب کی گئی ہیں کہ کس کس ضلع میں کیا کیا اقدامات مزید کرنے کی ضرورت ہے اور اب تک کئے جانے والے اقدامات سے صوبائی حکومت کو آگاہ بھی کیاجائے۔

مرحوم جیسے جانفشاں طبیب ہوں تو کورونا جنگ میں فتح یقینی ہے، اجمل وزیر

افغانستان میں امن دشمن کارروائیاں خیبرپختونخوا کے لئے زبردست نقصان دہ

دہشت گرد پھرشمالی وزیرستان میں پناہ لینے لگے، سیکیورٹی فورسز آپریشن کے لئے سر گرم

مزید :

ایڈیشن 1 -