وزارتِ اطلاعات و نشریات میں تبدیلیاں!

وزارتِ اطلاعات و نشریات میں تبدیلیاں!
وزارتِ اطلاعات و نشریات میں تبدیلیاں!

  

آج کی اہم خبروں میں ایک خبر وزارت اطلاعات و نشریات سے میڈم فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی رخصتی تھی۔ ان کی جگہ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو وزیراعظم کا خصوصی معاون برائے اطلاعات و نشریات تعینات کیا گیا ہے اور سینیٹر شبلی فراز صاحب کو وزیرِ اطلاعات و نشریات مقرر کیا گیا ہے۔ یہ پوسٹ ایک سال سے خالی پڑی تھی۔ اب اسے پُر کرنے کی باری آئی ہے تو اس کو ”لبالب“ بھر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے یہ دونوں تقرریاں بیک وقت اور آناً فاناً کی ہیں۔

آج کل سوشل میڈیا کا دور دورہ ہے۔ مین سٹریم میڈیا کو اگر حکومت کا اہم ستون گردانا جاتا ہے تو سوشل میڈیا گویا اہم ترین پشیبانِ حاکم و محکوم ہے۔ حکومت کو اگرچہ معلوم ہے کہ اس سوشل میڈیا کی ڈوریں کہاں سے ہلائی جاتی ہیں لیکن اس ذریعہ ء ابلاغ کی خبر خواہ افواہ ہو یا مبنی برحقیقت ہو، حیران کرنے والی ضرور ہوتی ہے……

فردوس عاشق اعوان صاحبہ کے بارے میں ایک عرصے سے سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش میں تھیں کہ وہ اپنے حقوقِ منصبی سے آگے نکل رہی ہیں۔ کہا جا رہا تھا کہ ان کے استعمال میں جو سرکاری گاڑیاں ہیں اور نیز ان کے ساتھ گارڈوں اور ڈرائیوروں وغیرہ کی جو تعداد ہے،وہ منظور شدہ تعداد سے زیادہ ہے۔ اگر یہ بات سچ تھی تو فردوس عاشق جیسی تجربہ کار اور منجھی ہوئی سیاستدان کو اس کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔ اگر یہ الزام جھوٹ تھا تو ان کو اس کا ذکر بھی برملا اپنی روزانہ کی کسی پریس کانفرنسوں میں کر دینا چاہیے تھا۔ لیکن انہوں نے ایسا کرنا مناسب نہ سمجھا اور ان کے مخالفین کو یہ موقع مل گیا کہ اس خاموشی کو ان کے خلاف بطور ایک ثبوت پیش کریں۔

ایک اور افواہ یہ بھی تھی کہ ان کی وزارت سے جو کمرشلز دیئے جاتے ہیں، ان میں بھی گھپلا کیا جاتا ہے۔ اس گھپلے کے کیف و کم سے غرض نہیں، لیکن اگر اس میں کوئی رتی بھر بھی صداقت تھی تو ان کو اس کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔ مجھے حیرت یہ بھی ہے کہ اگر وزیرِ اطلاعات و نشریات اس طرح کی افواہوں سے بے خبر ہو تو دال میں کالا کہنے والوں کی بن آتی ہے۔ ان کے پاس اپریل 2019ء سے یہ منصب تھا اور ان کا معاون خصوصی مقرر کیاجانا اس امر کا ثبوت تھا کہ ان کی پارٹی ان پر کتنا اعتماد کرتی ہے۔

کسی بھی سیاسی سیٹ اپ میں اس قسم کے معتمد اشخاص کے دشمنوں کی کمی نہیں ہوتی۔ وہ اس گھات میں رہتے ہیں کہ کوئی لولا لنگڑا الزام بھی ان کے نوٹس میں آئے تو وہ اس کو ایکسپلائٹ کرنے میں دیر نہ لگائیں …… میں ایک عرصے سے یہ بھی محسوس کر رہا تھا کہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ اپنی زبان پر تو کامل دسترس رکھتی ہیں لیکن انٹرنیشنل زبان (انگریزی) میں ان کا ایکسپوژر، یادش بخیر پرویز رشید صاحب کی طرح نہ ہونے کے برابر تھا۔ میں نے جب بھی اپنے دوستوں سے ان کی اس لسانی کمزوری کا ذکر کیا تو جواب ملا کہ اس کے لئے خود وزیراعظم کافی و شافی ہیں۔ وہ فارن میڈیا کو جس طرح ہینڈل کرتے اور کررہے ہیں وہ قابل تحسین ہے لیکن اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی دیگر ذمہ داریوں میں اس ذمہ داری کی شمولیت ان کے بطور وزیراعظم روزمرہ کے شیڈول میں دباؤ کا باعث تھی۔ اب توقع ہے کہ جنرل عاصم باجوہ کی تقرری سے یہ دباؤ کم ہو جائے گا۔

وزیراطلاعات و نشریات شبلی فراز صاحب اپنا کام کرتے رہیں گے۔ ان کی ذمہ داریوں میں بھی یہ سہولت پیدا ہو جائے گی کہ وہ پاکستان کی داخلی سیاست پر بالخصوص زیادہ توجہ دیں گے۔جونہی شبلی فراز صاحب اور جنرل باجوہ صاحب کی تقرریوں کا نوٹی فیکشن جاری ہوا، ہمارے میڈیا پر یہ ٹِکرز چلنے لگے کہ یہ ”جوڑی“ (DUO) بہت کامیاب ہو گی!…… اللہ اللہ خیر سلا!

اس ”جوڑی“ کی اصطلاح پر میرے ذہن میں جو سوال اٹھا وہ یہ تھا کہ آیا کسی وزارت کے لئے کسی جوڑی کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے؟…… اگر ایسا تھا تو وزیراعظم نے پورا ایک سال اس وزارت کا قلمدان کیوں خالی رکھا؟…… کیا اس جوڑی سے ”وحدتِ کمانڈ“ پر کوئی اثر پڑے گا؟…… کیا وزیراعظم، اپنے وزیراطلاعات و نشریات اور معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کی ذمہ داریوں کے درمیان کوئی واضح امتیازی لکیر کھینچ سکیں گے؟ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ نے بطور DG آئی ایس پی آر اپنے محاسن کا لوہا منوایا۔ یہ جنرل باجوہ ہی تھے جنہوں نے اس ادارے (ISPR) کو واقعی ایک ایسا ادارہ بنایا جو داخلی اور خارجی محاذوں پر نبردآزمائی کی مثال بن گیا۔ ہمارا میڈیا ایک طویل عرصے سے ایک بڑے حجم (Massive) کی شاخ تراشی (Pruning) کا متقاضی ہے۔ نام لینے کی ضرورت نہیں لیکن بعض ”اسمائے گرامی“ آج کل میڈیا پر جن حرکات و سکنات و کلمات کی جگالی کرتے نظر آتے ہیں وہ باعثِ کراہت ہیں۔ یہ ان کا قصور نہیں۔ اس کی ابتداء جنرل پرویز مشرف نے کی اور جس مقصد کے پیش نظر کی، اس کی تاثیر معکوس نکلی!…… آج بعض اینکرز اور تجزیہ گو حضرات نجانے اپنے آپ کو ”بادشاہ گر“ کیوں سمجھ بیٹھے ہیں۔

ان کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے اور یہ ایک بالکل الگ موضوع ہے۔ اگر نیوز چینلوں کی تعداد کم کرنی مقصود ہے، اگر عوام کو کم کنفیوز کرنے کا مشن وزیراعظم کے پیش نظر ہے، اگر الیکٹرانک میڈیا کا ایسا تشخص پیدا کرنا مطلوب ہے جو دنیا کے دوسرے ممالک میں پایا جاتا ہے اور اگر میڈیا کو آنے والے حکمرانوں کے دانہ و دام سے آزاد کرنا ہے تو اس پر جنرل عاصم سلیم باجوہ کو گہرے غور و فکر کی ضرورت ہو گی۔ ان کو ایک ایسا پروگرام وضع کرنا پڑے گا کہ جو نیوز چینل دو عشرے قبل برسات کی کھمبیوں کی طرح اگ آئے تھے ان کی گوڈائی کرنی ہو گی اور گھاس پھونس کو نکال کر باہر کوڑے دان میں پھینکنا ہوگا۔

موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے ابھی 20ماہ ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں اگست 2020ء سے اگست 2022ء کے آنے والے دو برس حکومت کے بیانیہ کو پاکستانی عوام اور نیز دنیا کے سامنے رکھنے کے لئے عہد ساز اور اہم برس ہیں۔ گزشتہ دو اڑھائی برسوں سے میڈیا کی عادات بگڑ چکی ہیں۔ عوام کی رائے شدت سے منقسم ہے۔ جمہوری سیٹ اپ میں اپوزیشن کا رول از بس ضروری ہوتا ہے، یہ نہ ہو تو حکومت بے لگام ہو جاتی ہے، اپنی من مرضیاں کرتی اور اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھنے لگتی ہے۔ ہم یہ مظاہرہ تین چار عشروں سے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستانی میڈیا کو آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ جہاں حکومت کے عزائم اور کارناموں کو اجاگر کرے وہاں اپوزیشن کی Out-put اور In-putکا اہتمام بھی کرے۔ لاریپ یہ بڑا الجھا ہوا اور ادق چیلنج ہے۔ اس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے وزارتِ اطلاعات و نشریات کی یہ جوڑی ایک تاریخ ساز رول ادا کر سکتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ جوڑی فواد چودھری کے دور ہی میں تشکیل دے دی جاتی۔ بہرکیف اب بھی وقت ہے حکومت کے ابھی تین ساڑھے تین سال باقی ہیں۔ آنے والے 40 مہینوں میں وزارتِ اطلاعات و نشریات کو ایک ایسے راستے پر ڈالا جا سکتا ہے جس میں عوام کی بھلائی اور فلاح و بہبود پیش پیش ہو۔

کورونا وائرس کی وبا تحریک انصاف کے لئے ایک سخت اور مشکل چیلنج ہے۔ وزیراعظم ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ وہ مشکلات کو چیلنج سمجھتے ہیں۔ آج انہوں نے واقعی ثابت کیا ہے کہ اس ”وبائی دور“ میں وہ جس طرح دن رات ایک کر رہے ہیں، وہ قوم کو انشاء اللہ اس ابتلائے ناگہانی سے باہر نکلنے کی سبیل بنے گا۔

مزید :

رائے -کالم -