سندھ میں کورونا وائرس کے حوالے سے کرپشن کے نئے انداز، میتوں کی قیمت لگائی گئی

سندھ میں کورونا وائرس کے حوالے سے کرپشن کے نئے انداز، میتوں کی قیمت لگائی ...

  

کورونا وائرس سے بگڑتی ہوئی صورتِ حال سے جہاں تشویش بڑھ رہی ہے وہاں بہت سے کرپشن کے بازار بھی گرم ہیں۔ گذشتہ آرٹیکل میں چین سے تحفے میں ملنے والے ماسک کا ذکر کیا تھا، اسی ہفتے شہر کراچی میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ پیپلز پارٹی کے بااثر سیاستدان جن کے پاس سندھ حکومت میں بھی ذمہ داری ہے اور آج کل منظر عام پر نہیں ہیں، لیکن ان سے منسوب ایک نجی ہسپتال مہنگی قیمت پر سرجیکل اور N95 ماسک فروخت کررہا ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ راشن کے حوالے سے ہوشربا انکشافات ہو رہے ہیں، کراچی سے لے کر کشمور تک ہر ضلع سے ایسی خبریں آرہی ہیں جن سے انسانیت بھی شرما جائے کہ وبا کے دنوں میں بھی لوگ کرپشن اور لوٹ مار سے بازنہیں آرہے۔چند ایک واقعات نے حیرت میں ڈال دیا ہے کہ طبعی موت مرنے والوں کے لواحقین کو رقوم کی پیشکش کرکے میت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ لواحقین اور علاقہ مکینوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ ایسی بیہودہ پیشکشیں کوئی اور نہیں پولیس کے ذریعے کی گئی۔ جہاں لوگ رمضان المبارک میں خدا کے حضور اپنے گناہوں پر توبہ استغفار کررہے ہیں۔ وہاں اس وباء کو ایک کاروباری مواقع کے طور پر لیا جارہا ہے۔

چند دن سے سوشل میڈیا پر آڈیو پیغام زیر گردش ہیں کہ چند لوگ جو خود کو حکومت سندھ کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں، تاجروں کی تنظیموں کے عہدیداران سے ٹیلیفون پر رقوم کا تقاضہ کررہے ہیں اور انہیں مارکیٹ کھولنے کا اجازت نامہ لے کر دینے کی پیشکش کرتے ہیں، سندھ حکومت کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں ایسی صورت حال سے اعلان لاتعلقی کیا ہے اور ایف آئی اے کے سائبرونگ سے تحقیقات کے لئے کہا ہے۔ان واقعات کو رقم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان میں صداقت نام کی کوئی چیز ہو یا نہ ہو، لیکن ڈیجیٹل پیغامات اتنی تیزی سے پھیلتے ہیں کہ عام آدمی ان پر اعتبار کرنے لگتا ہے۔ حکومت کے پاس سائبر سیکیورٹی ونگ موجود ہے جلد از جلد ان کی خدمات حاصل کی جانی چاہئیں، کیونکہ اس وقت قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ کورونا وائرس بحران کی آڑ میں اگر کوئی ناجائز فوائد حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے تواُسے فوراً بے نقاب کیا جائے۔

شہری اس حوالے سے بھی پریشان ہیں کہ نجی اورسرکاری ہسپتال معمول کے مریضوں کو دیکھنے کے معاملے میں بھی امتیازی سلوک کررہے ہیں۔ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں بھی حکومتی ادارے عوام کی سرپرستی کی بجائے انہیں بے یارومددگار کئے ہوئے ہیں۔چند سیاسی جماعتوں کے کارکن اس موقع پر متحرک نظر بھی آ رہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ(ق) سندھ کے صدر طارق حسن اس حوالے سے بہت فعال نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے شہری تنظیم کے رہنما رضوان شمس کے ہمراہ صحافی ویلفیئر ایسوسی ایشن اور کراچی ایڈیٹرز کلب کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کی اور ضرورت مند صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے راشن بیگ فراہم کئے، ابھی تک شہری حکومت اور سندھ حکومت کی طرف سے میڈیا ورکرز کے لئے راشن یا امدادی رقوم کی تقسیم نظر نہیں آئی۔ صوبائی وزیراطلاعات سید ناصر حسین شاہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے کوئی پیکیج دینے میں ناکام ہی دکھائی دیتے ہیں۔

کراچی کی تاجر تنظیموں اور ڈاکٹرز کے مابین پریس کانفرنس کے ذریعے اور میڈیا میں بیانات سے تنازع شدت اختیار کئے ہوئے ہے، دونوں اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ سندھ حکومت نے آن لائن کاروبار کی اجازت دی ہے۔ تاجر تنظیمیں اس سہولت کو یکسر مسترد کرچکی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس انداز سے کاروبار کرنے والوں کی تعداد5 فیصد سے زیادہ نہیں۔ رمضان المبارک میں عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے،جو مارکیٹیں کھلی ہیں ان میں مہنگائی کے طوفان کے علاوہ عوام کا رش بھی دیکھنے کو آیا، جس سے ڈاکٹرز کی تشویش درست نظر آتی ہے، لیکن تاجر تنظیمیں مکمل لاک ڈاؤن کی بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن کے حمایتی ہیں۔ تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ اگر کاروبار میں سہولت نہ دی گئی تو بیروزگاری سے بھوک، غربت اور افلاس کی شرح میں بہت اضافہ ہوجائے گا۔ کراچی کے شہری سندھ حکومت سے جہاں نالاں نظر آتے ہیں وہاں وہ تمام سیاسی پارٹیوں کو بھی کراچی کی ابتر صورت حال کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی امین الحق نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جگہ وفاقی وزیر کے عہدے کا حلف اٹھایا ہے، لیکن ایم کیو ایم متحرک نظر نہیں آ رہی۔

تحریک انصاف کے نمائندے عوام کا سامنا کرنے سے ڈررہے ہیں۔اس بحرانی دور میں ایم این اے نجیب ہارون نے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایک خاتون جسے احساس پروگرام کے تحت 12000روپے کی رقم دی جارہی تھی تو انہوں نے اس سے سوال کیا کہ کیا تم کو بارہ ہزار رقم گننی آتی ہے۔اس طنز یہ جملے کو گورنر سندھ کے شایان شان تصور نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت اگر متاثرین کو رقوم دے رہی ہے تو یہ عوام ہی کا پیسہ ہے، حکومت کے نمائندوں کا کام ایک تقسیم کار کا ہے، غریب عوام پر طنزیہ جملے سے ان کی غربت کا مذاق اڑانا کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا بلکہ اسے اخلاق کے دائرے سے بھی باہر تصور کیا جائے گا۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کوروناٹیسٹ مثبت آگیا ہے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہے کوروناٹیسٹ مثبت آنے پر آئی سولیشن اختیار کرلی ہے ان کا کہنا تھا کہ کورونا کآ مقابلہ کرنا پہلے مشکل لگتا تھا مگر اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم نے جتنی تیاریاں کررکھی ہے اس کی وجہ سے تشویش کی کوئی بات نہیں ہم اس بیماری کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے دُعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہوکر اپنے معمولات دوبارہ انجام دیں گے۔

سندھ کابینہ کے اجلاس میں کورونا کے ٹیسٹ کے حوالے سے جو اعداد وشمار سامنے آئے اس سے اندازہ ہوا کہ تقریباً روزانہ کئے گئے ٹیسٹوں سے 12فیصد لوگ کورونا کے مریض ظاہر ہورہے ہیں۔ سندھ کابینہ نے جو کورونا ریلیف آرڈیننس، گورنر سندھ کو منظوری کے لئے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، اس پر عمل درآمد ہونے کے امکانات بہت محدود ہیں۔ نجی سکولوں کو 20فیصد فیس کم کرنے کا کہا گیا ہے، جبکہ سکولوں کو حکومت کیا سہولت دے گی، اس کا ذکر نہیں، گیس اور بجلی کے بلوں کی بات کی گئی ہے یہ دونوں ادارے سندھ حکومت کے ماتحت ہی نہیں۔ پرائیویٹ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو نوکریوں سے نہ نکالیں، جبکہ لوگوں کو تنخواہیں نہیں مل رہیں اور نوکروں سے بھی نکالا جارہا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -