کورونا: عوام کی معاشی حالت ابتر، بعض سرکاری ملازمین کو راس آ گیا

کورونا: عوام کی معاشی حالت ابتر، بعض سرکاری ملازمین کو راس آ گیا

  

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

تحریک انصاف کا کرپشن کے حوالے سے موقف بڑا واضع رہا ہے کہ اپنوں سمیت کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا،وزیراعظم عمران خان بھی بار ہا اس کا اعادہ کر چکے ہیں لیکن ابھی تک حالات جوں کے توں ہیں نہ تو کرپشن کم ہوئی ہے اور نہ ہی کسی ذمہ دار کو قابل بیان سزا ہوئی ہے بلکہ مختلف اداروں کی طرف سے جو سروے سامنے آئے ہیں ان کے مطابق کرپشن کا گراف بڑھا ہے خصوصاً کرونا وائرس کی وجہ لاک ڈاؤن‘ قرنطینہ سنٹرز‘ آئسولیشن وارڈز‘ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیک سٹاف کو حفاظتی سامان کی فراہمی آئسولیٹ کئے گئے لوگوں کے کھانوں‘ میڈیکل کے سامان کی خریداری سمیت دیہاڑی دار مزدوروں کو حکومت کی طرف سے فراہم امداد میں جو ”شریفانہ“ کارروائیاں ہوئی ہیں ان کے رزلٹ اور لوٹ مار کے تخمینے کچھ عرصہ بعد منظر عام پر آئیں گے کیونکہ جہاں کرونا نے عام لوگوں کی معاشی حالت ابتر کر دی ہے وہاں کچھ پبلک سرونٹس کو بہت راس آیا ہے یعنی پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں کی بات ہی صادق آتی ہے اگر یقین نہ آئے تو سرکاری اداروں سے رپورٹس حاصل کر لیں آرام آ جائے گا کیونکہ یہی وجہ رہی ہو گی کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر خرم لغاری کو گندم خریداری میں مداخلت اور باردانہ سمیت بار برداری کے ٹھیکے اپنے آدمیوں کو دلانے کے ”جرم“ میں مشاورت سے فارغ کر دیا گیا ہے لیکن کیا وہ یہ فریضہ اکیلے ہی سر انجام دے رہے تھے؟ اگر نہیں تو پھر شامل ذمہ داروں کو بھی ہلانا ضروری تھا ٹھیک اسی طرح جیسے وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اپنے معاؤنین کے ذریعے یہ اعلان کروایا تھا کہ چینی سکینڈل کی تحقیقات کے نتیجہ میں جن لوگوں پر الزام آیا ہے ان کا 25اپریل تک فرانزک آڈٹ کروا کر کاروائی کی جائے گی لیکن یہ تاریخ گزر چکی اور اب تحریک انصاف کی حکومت ایک مرتبہ پھر اپنے وعدے کو پورا کرنے میں نا کام ہوئی ہے اور چینی سکینڈل پر جو کمیشن بنایا گیا تھا اس نے مزید 3ہفتوں کا وقت مانگا ہے جس پر کابینہ غور کرے گی ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مذکورہ طریقہ واردات گزشتہ 73سالوں سے جاری ہے اور جس کسی کو خراب کرنا ہو اس پر کمیشن قائم کر کے اسے خراب کر دیا جاتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ ایسے کمیشن کام تو کرتے رہے ہیں لیکن عوام کو بھول جاتے ہیں اور پھر کبھی کسی حکومت کو ایسے کسی کمیشن کی رپورٹ سے ”کچھ“ حاصل کرنا ہوتا ہے تو نکال لیتی ہے لیکن ذمہ دار کو سزا پھر بھی نہیں ہو پاتی اب کی مرتبہ بھی ماضی کو ہی دہرایا جا رہا ہے۔

ایک طرف مختلف قومی و عالمی ادارے منع کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن ابھی ختم نہ کریں مگر دوسری طرف سرکاری عہدیدار‘ گورنر اور وزراء اعلیٰ بھرپور پروٹوکول میں کرونا وائرس کیلئے کئے جانے والے ایس او پی کی دھجیاں اڑاتے پھر رہے ہیں لمبے لمبے قافلوں میں ایک چھوٹے سے وارڈ کا دورہ کر کے تمام سرکاری اہلکاروں کو سامنے بیٹھا کر میٹنگ میٹنگ کر کے واپسی کی راہ لیتے ہیں لیکن سمجھ نہیں آتا کہ کیا کرنے آتے ہیں جو بیان یہاں جاری کر تے ہیں وہی لاہور میں جاری ہو سکتے ہیں اور جو اخراجات ان کے سفر اور دوروں پر اٹھ رہے ہیں وہی وائرس کے خلاف استعمال کر لئے جائیں حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ خطرناک وائرس پاکستان میں اب انتہائی بلندی پر جا رہا ہے جس سے خدشات بڑھ رہے ہیں یہی بات وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہی ہے لیکن نہ تو وہ خود اس پر عمل کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کر رہی ہے انتظامیہ ایک مرتبہ پھر میٹنگ کا چکر چلا چکی ہے اور پولیس کا یہ عالم ہے کہ اس عالمی وباء کی وجہ سے دنیا بھر میں جرائم کم ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوا ہے جو گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کی گڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انہوں نے کن سفارشیوں کو اتنی اہم سیٹوں پر بیٹھا رکھا ہے جو عام دنوں کا کام کرنے سے بھی عاری ہیں یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک کے پہلے دن اشیاء ضرورت کی قیمتیں دوگنا سے بھی زیادہ ہو گئیں فروٹ عام شہری کی پہنچ سے دور ہو گیا گوشت‘ چکن‘ سبزی اور دوسری اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے شہری چکرا کر رہ گئے لیکن انتظامیہ کا یہ عالم تھا کہ وہ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر ڈاکٹر اختر ملک کے ساتھ تصویریں بنواتے رہے اگر یہی عالم رہا تو پھر اس مرتبہ گندم خریداری کا ہدف بھی پورا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ سرکاری اہلکار اس قسم کی سر گرمیوں میں ملوث ہیں تو دوسری طرف پرائیویٹ لوگ دھڑا دھڑ گندم خرید کر رہے ہیں اور وہ بھی کاشتکار کے کھیت سے سرکاری قیمت سے بھی زیادہ یہ خرید کر رہے ہیں سرکاری خریداری کرنے والے گندم لانے والے کا شتکار کو زیادہ نمی اور دوسرے عوامل کی بنا پر 2سے تین کلو فی چالیس گلو گرام کٹوتی کر رہے ہیں لیکن پرائیویٹ خریدار 10فیصد نمی پر پورے چالیس کلو گرام کے نقد پیسے دے رہے ہیں اگر یہی حالات رہے تو پھر یہ موجودہ صوبائی حکومت مکمل نا کام ہو گی جس کا خمیازہ عوام کو اگلے 6ماہ کے بعد اٹھانا پڑے گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -