مرکز بجلی خالص منافع اور دیگر بقایاجات فوری طور پر ادا کریں، سردار بابک

مرکز بجلی خالص منافع اور دیگر بقایاجات فوری طور پر ادا کریں، سردار بابک

  

پشاور(سٹی رپورٹر)اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت بجلی خالص منافع اور دیگر بقایاجات فوری طور پر ادا کریں،مرکزی حکومت کس قانون اور ضابطے کے تحت بجلی کے خالص منافع کے ادائیگی میں تاخیر ی حربے استعمال کررہا ہے؟ باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کونسی مجبوری ہے کہ وہ صوبے کے عوام کی نمائندگی اور وکالت کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے،گزشتہ سات سالوں سے صوبے کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئی ہیں اُسے عوام کسی صورت معاف نہیں کریں گی۔انہوں نے کہا کہ وسائل کے لحاظ سے مالدار صوبہ ہونے کے باوجود ہمارا صوبہ پسماندہ ہے،صوبے کے کارخانے بند پڑے ہیں،اکثریتی فلور ملز بند ہیں،تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں کرونا وباء سے پہلے ہی ختم ہوچکی ہے،بے روزگاری میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے،باہر ممالک میں سب سے زیادہ محنت کش ہمارے صوبے کے ہیں،لیکن اس سب کے باوجود ہمارے صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ اگر صوبائی حکومت مرکزی حکومت بجلی سمیت تمام بقایا جات لینے میں سنجیدہ ہوتی تو صوبائی اسمبلی میں اتفاق رائے سے تمام سیاسی و پارلیمانی جماعتوں پر مبنی جرگہ تشکیل دیکر وفاق سے بات کرتی،لیکن بدقسمتی سے صوبے کے حکمران اس سلسلے میں سنجیدہ ہی نہیں ہے۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت مصلحت کا شکار ہے لیکن اے این پی صوبے کے حکومت پر واضح کرنا چاہتی ہے کہ ہم صوبائی حقوق کیلئے آخری حد تک جائیں گے،صوبائی حکومت کو یہ وضاحت دینی ہوگی کہ وہ صوبے کے آئینی حقوق لینے میں کیوں ناکام ہوگئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو وضاحت دینی ہوگی کہ کیوں مرکز صوبے کو اپنا حصہ دینے پر راضی نہیں ہورہا اور صوبے کے عوام سے یہاں کا پختون وزیراعلیٰ کیوں یہ بات چھپا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام اب باشعور ہیں،اپنے حقوق لینے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -