حیدرآباد، لیاقت یونیورسٹی ہسپتال ایک ہفتے سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے بغیر چلنے لگا

حیدرآباد، لیاقت یونیورسٹی ہسپتال ایک ہفتے سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے بغیر چلنے ...

  

حیدرآباد (این این آئی) کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سنگین حالات میں لیاقت یونیورسٹی ہسپتال حیدرآباد جامشورو ایک ہفتے سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے بغیر چل رہا ہے، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کا عہدہ بھی سابق ایم ایس ڈاکٹر مظہر کلہوڑو کے چارج نہ لینے کی وجہ سے خالی ہے، ہسپتال کے سابق ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن عبدالستار جتوئی نے ڈی ڈی او پاورز چھن جانے اور تبادلے کا ایسا بدلہ چکایا ہے کہ سول ہسپتال محمکہ صحت ضلع حیدرآباد اور ہزاروں مریض روزانہ متاثر ہو رہے ہیں۔سول ہسپتال حیدرآباد جامشورو میں لوئر اسٹاف 2018 میں 75خالی اسامیوں پر بھرتیوں کے لئے اشتہار دیا گیا تھا ہزاروں امیدوار سندھ بھر سے انے پر سول ہسپتال میں شدید بدنظمی ہوئی تھی اور پولیس اور رینجرز نے طاقت استعمال کر کے امیدواروں کو باہر نکالا تھا اور انٹرویوز ملتوی کر دیئے گئے پھر انٹرویوز کی نئی تاریخ مشتہر کئے بغیر 75 اسامیوں پر اقربا پروری سفارش، رشوت کی بنیاد پر اور ہسپتال کے افسران اور یونین عہدیداروں کے رشتہ داروں سمیت 182 افراد کو جولائی 2018 میں بھرتی کر لیا گیا تھا، فہرستیں منظرعام پرانے پر بھرتی سے رہ جانے والوں نے احتجاج کیا تھا اور پیپلزپارٹی کے بعض افراد نے حکومت کو تحریری شکایت کی جس پر ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ پر حکومت نے ان بھرتیوں کو منسوخ کر دیا تھا اور تنخواہیں بند کر دی تھیں، متاثرین کی درخواست پر ہائیکورٹ نے بھرتیوں کی منسوخی کا نوٹیفکیشن واپس لینے کا حکم دیا تھا، مشتہر اسامیوں کے مقابلے میں 107 زیادہ بھرتی ملازمیں کو ڈیلی ویجز کی تنخواہ بھی اب 22 ماہ سے بند ہے اور وہ احتجاج کر رہے ہیں۔محکمہ صحت کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق اضافی بھرتیاں کرانے کے لئے سودے بازی میں اس وقت کے سول ہسپتال کے ڈائریکٹر ایڈمن، ڈائریکٹر پلاننگ و ڈائریکٹر فنانس کا بیک وقت چارج رکھنے والے طاقتور افسرعبدالستار جتوئی کا اہم کردار تھا، بتایا گیا ہے کئی برس سے ہسپتال کے تمام پروجیکٹس اور معاملات پر عبدالستار جتوئی کا اختیار یہ چلتا تھا ایم ایس سمیت دیگر افسران صرف شریک کارکے طور پرحساب کتاب کرتے تھے خصوصا ایم ایس ڈاکٹر عبدالوہاب ودھو کے دور میں عبدالستار جتوئی نے ڈی ڈی او پاورز بھی ان سے چھین لئے تھے اور پھر وہ من مانے پروجیکٹ بناتے اور ان پر بھاری رقوم من مانے طور پر خرچ کرتے رہے۔معلوم ہواہے کہ اضافی بھرتی ملازمین کو ڈیلی ویجز کی تنخواہ دی جا رہی تھی جو بعد میں بند کر دی گئی تھی اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مظہر علی کلہوڑو نے بھی بند تنخواہیں جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا یہ کشمکش اس وقت بڑھی جبکہ عبدالستار جتوئی سے ڈاکٹر مظہر کلہوڑو ڈی ڈی او پاورز بھی واپس لینے میں کامیاب ہو گئے اور عبدالستار جتوئی کا تبادلہ بھی کرا دیا، عبدالستار جتوئی ان دنوں محکمہ صحت حیدرآباد میں بیٹھ رہے تھے، ڈاکٹر مظہر کلہوڑو نے 20 جنوری 2020 کو ہی ایم ایس سول ہسپتال حیدرآباد کا چارج لیا تھا اور 21 اپریل کو ان کا اچانک محکمہ صحت میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کی حیثیت سے تبادلہ کر دیا گیا اور ایم ایس سول ہسپتال کا چارج ڈاکٹر شاہد اسلام جونیجو کو دے دیا گیا جو کہ ایڈیشنل ایم ایس کی حیثیت سے خدمات انجام دے رھے تھے، اب تک کسی مستقل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا تقرر عمل میں نہیں ایا اور ڈی ڈی او پاورز رکھنے والا کوئی افسر موجود نہیں ہے اور وزیر صحت اور سیکریٹری صحت ان نازک حالات میں بھی تماشا دیکھ رہے ہیں، محمکہ صحت ان حالات میں بھی اکھاڑ پچھاڑ کا شکار ھے ڈاکٹر مظہر کلہورو نے ڈی ایچ او کا چارج لینے کے بجائے سول ہسپتال سے اپنے تبادلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے، ڈسٹرکت ہیلتھ افسر کی حیثیت سے کام کرنے والے 20 گریڈ کے ڈاکٹر مسعود جعفری کو گذشتہ دنوں ہٹا کر ان کی جگہ گریڈ 19 کے ڈاکٹر مظہر چنہ کو ایم ایس لگا دیا گیا تھا جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس میں گریڈ 20 کے ڈیڑھ درجن کے قریب افسران موجود ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ سول ہسپتال میں باہم کشمکش کی وجہ سے ڈاکٹر مظہر کلہوڑو کے خلاف سابق ڈی سی عائشہ ابڑو کے ذریعے حکومت کو شکایات کی تھیں اس کے بعد عبدالستار جتوئی نے محکمہ صحت میں اعلی سطح پر بھی اپنا اثر رسوخ استعمال۔کیا اور بدلہ چکانے کے لئے ڈاکٹر مظہر کلہوڑو کے خلاف ماحول پیدا کیا اور ڈاکٹر کلہوڑو کا تبادلہ کرانے میں کامیاب ہو گئے اس طرح سول ہسپتال اور محکمہ صحت آفس ضلع حیدرآباد دونوں جگہ صحت کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، سول ہسپتال میں کسی افسر کے پاس بھی ڈی ڈی او پاورز نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتال اور مریضوں کی ضروریات روزانہ کی بنیاد پر پوری کرنے کے لئے بھی مشکلات کا سامنا ہے، کورونا سمیت ھر طرح کے ہزاروں مریض روزانہ پریشان ہو رہے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -