18 ویں ترمیم پر بات کی تو پیپلزپارٹی کی چیخیں نکل رہی ہیں،خرم شیر زمان

18 ویں ترمیم پر بات کی تو پیپلزپارٹی کی چیخیں نکل رہی ہیں،خرم شیر زمان

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ 18 ویں ترمیم پر صرف نظرثانی کی بات پر پیپلزپارٹی کی چیخیں نکل رہی ہیں۔پیپلز پارٹی بتائے کہ کیا 18 ویں ترمیم کے بعد سندھ کے لوگوں کو پینے کا پانی مل گیا ہے؟18 ویں ترمیم کے بعد کیا ہمارے بچوں کو تعلیم سرکاری اسکولوں میں مل رہی ہے؟18 ویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت نے تعلیم کا معیار مکمل طورپر تباہ کردیا ہے۔ آج بھی صوبے میں صحت کا نظام درست نہیں لوگ ادویات علاج کے لیے پریشان ہیں۔انصاف ہاوس سے جاری اپنے بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے میں کرپشن ختم ہوگئی ہے؟پچھلے دس سالوں میں اے جی پی کے مطابق ساڑھے 9 سو ارب کی بے ضابطگیاں ظاہر ہوئی۔این ایف سی کے تحت صوبے کو پیسہ مل رہا ہے۔وفاق یہ بھی دیکھے کہ وہ پیسہ کہاں جارہا ہے، یہ پیسہ لوگوں تک نہیں پہنچ رہا ہے۔18 ویں ترمیم سے صوبہ سندھ کی عوام کو صرف نقصان ہوا ہے۔دیگر صوبوں میں بھی 18 ویں ترمیم ہے لیکن صوبہ سندھ پیچھے جارہا ہے۔کسی ایک سیاسی جماعت کے فائدے کے بجائے ملک کے مفاد کو دیکھا جائے۔18 ویں ترمیم کے بعد پی پی تو صوبے سے کچرانہیں اٹھاسکی۔این ایف سی کی مد میں پی پی کو اربوں روپے ملے۔ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے صوبے میں ترقیاتی کام ہوں۔ہمارے صوبے کے لوگوں کو صحت تعلیم روزگار پانی کی سہولیات ملیں۔صوبے کی بہتری کے لیے 18 ویں ترمیم پر نظرثانی لازم ہے۔18ویں ترمیم پر نظرثانی سے صوبے سندھ کی عوام کو فائدہ ہوگا۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ این ایف سی کی بات کرنے والے خود پی ایف سی پر سانپ بنے بیٹھے ہیں۔کراچی شہر پر سندھ حکومت کے مسلط زدہ فیصلے نہیں چل سکتے۔پی پی کراچی سے اپنی ناکامی کا بدلہ لے رہی ہے۔تحریک انصاف کراچی سمیت پورے صوبے میں متحرک نظر آرہی ہے۔صوبائی وزراء اور مشیران اپنے خاندانوں کو نوازنے میں مصروف ہیں۔سندھ حکومت ضیاء الدین ہسپتال میں امدادی سامان استعمال ہونے کی بھی تصدیق کرے۔ کورونا کی صورتحال میں سندھ حکومت صرف ناکام لاک ڈاؤن پر نظر رکھے ہوئے ہے۔لاک ڈاؤن میں صرف کراچی کے صنعتی علاقوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔سندھ حکومت کے اناڑیوں کے فیصلے معاشی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔چیف جسٹس کراچی میں زبردستی مسلط لاک ڈاؤن کا نوٹس لیں۔

مزید :

صفحہ آخر -