اپوزیشن جماعتوں کا 18ویں ترمیم میں ممکنہ ردوبدل،صوبوں کے حقوق کیلئے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق

    اپوزیشن جماعتوں کا 18ویں ترمیم میں ممکنہ ردوبدل،صوبوں کے حقوق کیلئے ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،آن لائن) اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے 18 ویں ترمیم میں کسی بھی قسم کے ردو بدل کو مسترد کرتے ہوئے صوبوں کے حقوق کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنے پر اتفاق کیا ہے،جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطوں میں تمام سیاسی جماعتوں 18ویں ترمیم کے خلاف حکومتی سازشوں کو ناکام بنانے پر اتفاق کیا ہے۔جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک کی موجودہ صورتحال اور 18ویں ترمیم میں ردو بدل کے حوالے سے اپوزیشن رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کئے مولانا فضل الرحمن نے گذشتہ دو روز کے دوران اپوزیشن رہنماؤں سینیٹرمیر حاصل بزنجو، پروفیسر ساجد میر، اور مولانا اویس نورانی، شہباز شریف، بلاول بھٹو، محمود خان اچکزئی، آفتاب شیرپاؤ اور میاں افتخار حسین سے رابطے کیے اور ان کے ساتھ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اپوزیشن رہنماؤں سے رابطوں کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اپوزیشن کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے اعلامئے کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے18 ویں آئینی ترمیم کا مکمل دفاع کرنے پر اتفاق کیا ہے اپوزیشن رہنماؤں نے کہاہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے خاتمے کی حکومتی سازش کسی صورت کامیاب ہونے نہیں دیں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ 18 ویں ترمیم میں ترمیم کی بجائے اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حقوق کا ہر حال میں دفاع کریں گے اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے اپنے بیان میں کہاکہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے مابین18 ویں ترمیم اور این ایف سی کے تحت صوبوں کے حقوق کے تحفظ پر اتفاق ہوچکا ہے ہم اٹھارویں ترمیم میں ردوبدل کسی صورت قبول نہیں کریں گے انہوں نے کہاکہ حکومت ایک طرف یکجہتی کا درس دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب این ایف سی ایوارڈ پر نیا قانون لانے کا کہا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان کو مسلسل تجربہ گاہ بنایا گیا ہے اٹھارویں ترمیم پارلیمنٹ سے اتفاق رائے سے پاس ہے پاکستان میں صدارتی نظام اور مارشل لاء ناکام ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہوگیا تھا اورتمام سیاسی جماعتوں نے متحد ہوکر پارلیمانی طرز حکومت پر اتفاق کیا تھاانہوں نے کہاکہ 1973 کے آئین کو تمام سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی اراکین نے اتفاق رائے سے پاس کر کے آئین کا بنیادی ڈھانچہ مہیا کیا تھااور اس وقت ملک کی تمام سیاسی جماعتیں آئین پر نظرِ ثانی اور اصلاحات کمیٹی میں شامل تھیں انہوں نے کہاکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں اگر کسی ایک شق کو ختم کیا جاتا ہے تو اس کے لئیے از سر نو آئین ساز پارلیمنٹ تشکیل دینا ہوگی اور آئین سازی کرنی ہوگی مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت کس ایجنڈے کے تحت اٹھارویں ترمیم میں رد وبدل کی باتیں کی جارہی ہیں ایسے فیصلوں سے سیاسی و آئینی بحران پیدا ہوگا اور موجودہ حالات کسی بھی آئینی بحران کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔

اپوزیشنجماعتیں

اسلام آباد(آئی این پی)جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں رد وبدل کی باتیں کی جارہی ہیں ایسے فیصلوں سے سیاسی و آئینی بحران پیدا ہوگا اور یہ حالات کسی بھی آئینی بحران کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ حکومت ایک طرف یکجہتی کا درس دے رہی ہے تو دوسری جانب این ایف سی ایوارڈ پر نیا قانون لانے کا کہا جارہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں 18ویں ترمیم پر متفقہ موقف سامنے لائیں گے۔اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مسلسل تجربہ گاہ بنایا گیا ہے۔اٹھارویں ترمیم پارلیمنٹ سے اتفاق رائے سے پاس ہے۔ ملک میں صدارتی نظام اور مارشل لا ناکام ہوچکا جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہوچکا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے متحد ہوکر پارلیمانی طرز حکومت پر اتفاق کیا تھا۔1973 کا آئین بنا جس کو تمام سیاسی جماعتوں نے اور پارلیمانی اراکین نے اتفاق رائے سے پاس کر کے آئین کا بنیادی ڈھانچہ مہیا کیا تمام سیاسی جماعتیں آئین پر نظر ِ ثانی اور اصلاحات کمیٹی میں شامل تھیں۔

مولانا فضل الرحمن

مزید :

صفحہ اول -