عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی خوشخبری دینگے: مشیر خزانہ

    عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی خوشخبری دینگے: مشیر ...

  

اسلام آباد(آن لائن،این این آئی)وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ کوروناوائرس سے معیشت کو دھچکا لگا، لاک ڈاؤن کے باعث معاشی سرگرمیوں میں کمی سے ٹیکس آمدن متاثرہوگی،عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزیدکمی کی خوشخبری دیں گے،چھوٹے تاجروں کے بجلی کے 3ماہ کے بل معاف،ایک سے تین فیصد شرح سود پر قرضے کی نئی سکیم، 40 لاکھ بیروزگاروں کومالی مددفراہم کریں گے جبکہ آئندہ مالی سال کا بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائے گا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی معیشت کے سکڑنے سے ہماری برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے، لاک ڈاؤن کے باعث معاشی سرگرمیوں میں کمی سے ٹیکس آمدن متاثرہوگی جبکہ سالانہ معاشی پیداوارمیں رواں مالی سال 1.5 فیصدکمی کاخدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ تیل کی قیمتوں میں تاریخی گراوٹ آئی ہے حکومت نے پٹرول اورڈیزل کی قیمت میں 15، 15 روپے فی لٹرکمی کی ہے جبکہ عوام کو پٹرولیم قیمتوں میں مزیدکمی کی خوشخبری بھی دیں گے۔عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ہر طبقے کو مختلف طریقوں سے مالی معاملات میں ریلیف فراہم کیا جارہا ہے۔ گھرکی فروخت پرکیپٹل گین ٹیکس کی چھوٹ ہوگی 40 لاکھ بیروزگاروں کومالی مددفراہم کریں گے ہرقسم کے کا روبارکیلئے لیکویڈیٹی کے مسائل حل کررہے ہیں جبکہ احساس پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کوحکومت پیسے دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے سستاگھرمنصوبے پرٹیکس میں 90 فیصدچھوٹ ہے۔ حالیہ ریلیف پیکیج میں بجلی کی قیمتیں دوطریقوں سے کم کی گئیں اور 72 فیصدصارفین کومختلف طریقوں سے سبسڈی دی جارہی ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ عالمی سرمایہ کاروں،مالیاتی اداروں سے تعلقات بہتربنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کی روک تھام ترجیحات میں شامل ہے۔ ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر تبادلے کر رہے ہیں بر آمد کنندگان کو سیلز ٹیکس کے ریفنڈ ادا کر دیے ہیں جبکہ انہیں انکم ٹیکس کے ریفنڈ بھی دے دیئے جائیں گے کوئی ٹیکس گزار ریفنڈ حاصل کرنے کے لئے کسی کو رشوت نہ دے اگر کوئی رشوت کا مطالبہ کرے تو اطلاع دیں حکومت کاروبار کے تحفظ کے لئے بہت سی سکیمیں لارہی ہے اور بزنس مراعات پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔ آئندہ بجٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے ساتھ ساتھ معیشت اولین ترجیح ہے۔ آئندہ بجٹ کورونا بجٹ ہوگا جسے جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائے گا بجٹ میں ہر شخص کو پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے لیکن آئندہ دو سے تین ما ہ مشکل ہونگے۔قبل ازیں مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدار ت اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے بحران سے برآمدات کے ساتھ مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبے بری طرح متاثر ہوں گے تاہم زرعی کارکردگی مستحکم رہے گی۔عالمی، علاقائی اور مقامی معیشت پر کرونا وائرس کے منفی اثرات کا جائزہ لینے کیلئے اعلی سطح اجلاس مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی، ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی اور یو این ڈی پی سمیت بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں شرکت کرنے والوں نے پیش گوئی کی کہ معاشی بحران کے باعث مالیاتی خسارہ بڑھ کر جی ڈی پی کے 9.6 فیصد پر آ سکتا ہے جبکہ لاک ڈاؤن سے کاروبار بند ہونے کی وجہ سے غربت میں بھی اضافے کا امکان ہے۔ بدتر صورتحال میں مجموعی پیداوار کی شرح نمو منفی ایک اعشاریہ پانچ سات فیصد پر بھی آسکتی ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کرونا وائرس سے عالمی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے، عالمی معیشت میں تین فیصد تک گراوٹ کا امکان یے تاہم2021ء میں بحالی کے امکانات نظر آرہے ہیں۔اجلاس میں معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کیلئے آئینی اقدامات سمیت شفاف، واضع اور مربوط حکمت عملی کے علاوہ آنے والے مہینوں میں اخراجات میں کمی اور ریونیو میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ تعمیراتی شعبہ معاشی سرگرمیوں کو تقویت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔شرکت کرنے والوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ وبا کے پھیلاو میں تیزی سے صحت کے قومی نظام پر ناقابل برداشت حد تک دباو بڑھ سکتا ہے۔اجلاس میں تجویز دی گئی ہے کہ معیشت کو ری سیٹ اور ری بوٹ کرنے کی ضرورت ہے، لاک ڈاؤن سے مستحق طبقے کی مدد کیلئے کیش معاونت کی دوسری قسط کی ضرورت پڑے گی۔ایشیائی ترقیاتی بنک نے بتایا کہ وہ بحران سے متاثرہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو مقامی کرنسی میں قرضے دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔اجلاس میں بتاگیا کہ جس تیزی اورشفافیت کے ساتھ پاکستان نے لاکھوں مستحق افراد میں 75 ارب روپے تقسیم کئے ہیں اس کی پاکستان سمیت خطے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور نہ ہی ماضی قریب میں یہ ممکن بھی تھا۔

مشیر خزانہ/اجلاس

مزید :

صفحہ اول -