پنجاب، کورونا کیسز چھپانے کیلئے ٹیسٹوں میں کمی، ہیلتھ پروفیشنلز کے فری ٹیسٹ بند

  پنجاب، کورونا کیسز چھپانے کیلئے ٹیسٹوں میں کمی، ہیلتھ پروفیشنلز کے فری ...

  

لاہور(جاویداقبال) حکومت پنجاب نے بڑھتے ہوئے کرونا وائرس کے کیسز پر پردہ ڈالنے کے لیے نئے نئے حربے استعمال کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ سب سے بڑا ظلم یہ کیا گیا ہے کہ ہیلتھ پروفیشنلز کے فری ٹیسٹ کرنے بھی بند کر دیے گئے ہیں محکمہ اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے دعووں کے مطابق پنجاب میں روزانہ پانچ ہزارٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔مگر زمینی حقائق اس کے مکمل طور پر برعکس ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب اب بڑھتے ہوئے کیسیز کو چھپانے کے لیے ٹیسٹوں کی تعداد کو کم کر رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ روزانہ پندرہ سو سے 25 سو تک مریضوں کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں جس کی ایک مثال 25 اپریل کی ہے اس دن صرف صرف سترہ سو پچپن ٹیسٹ کیے گئے۔دوسری طرف کم وسائل کی حامل سندھ حکومت کرونا کے ٹیسٹوں کی تعداد بڑھا رہی ہے۔جبکہ حکومت پنجاب اپنی نااہلی چھپانے کے لیے ٹیسٹوں کی تعداد کم کر رہی ہے۔ حکومت کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ حکومت پنجاب نے ڈاکٹرز،نرسز اور پیرامیڈیکس کے ٹیسٹ کرنا بھی بند کر دئے ہیں۔اس حوالے سے ماہرین صحت اور گرینڈ ہیلتھ الائنس کے عہدے داران کا کہنا ہے اگر لوگوں کو سکرین نہ کیا گیا یا تو کرونا کے مریض جنرل پاپولیشن میں میں بیماری میں شدت کا باعث بن سکتے ہیں۔یا اپنے اردگرد بسنے والوں میں یہ وائرس منتقل کرنے کا بھی بڑا ذریعہ بن کر سامنے آئیں گے ماہرین کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت حکومت پنجاب کی اس مجرمانہ پالیسی کے باعث کرونا کا مرض مئی اور جون کے مہینے میں ہزاروں لوگوں میں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کی دلچسپی کا یہ عالم ہے کے بازار کھل چکے ہیں پولیس ناکے برائے نام رہ گئے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں سماجی فاصلے پیدا کرنے کی پالیسی اور ایس او پیز دم توڑ چکے ہیں ہسپتالوں میں کام کرنے والے عملے کے بھی ٹیسٹ بند کر دیے گئے ہیں انہیں بعض سالوں میں جو ماسک اور کٹ دی جارہی ہیں وہاستعمال شدہ دی جا رہی ہے کو رونا سی مرنے والوں کی میت ایس او پیز کے مطابق دفن نہیں کی جارہی ہسپتالوں میں انتظامات زیرو ہوگئے ہیں جس میں سرفہرست چار لاہور کے بڑے ہسپتال ہیں جن میں سروسز ہسپتال گنگارام ہسپتال جناح ہسپتال جنرل ہسپتال میو ہسپتال شامل ہیں سید مٹھا ہسپتال کوٹ خواجہ سعید ہسپتال میاں میر ہسپتال میاں منشی ہسپتال نواز شریف یکی گیٹ ہسپتال میں بھی کورونا سے بچاؤ کے انتظامات بھی دم توڑ چکے ہیں ان ہسپتالوں کی انتظامیہ نے کروڑوں روپے کی غیر معیاری اشیاء خریدیں جو مقدار میں کب خریدی گئی اور پیسے دو سے تین گناہ زیادہ دیے گئے جن سے مبینہ طور پر ہسپتالوں کی انتظامیہ نے خوب مال کمایا اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب فوری طور پر مذکورہ ہسپتالوں میں کورونا کے لیے کی گئی خریداری کا سپیشل آڈٹ کروائیں تو کروڑوں روپے کے گھپلے سامنے آجائیں گے ماہرین نے کہا کہ حکومت فوری طور پر خریدے گئے سامان کے سیمپل اپنے قبضے میں لے ورنہ مافیا کروڑوں روپے ڈکار جائے گا۔

کرونا کیسز

مزید :

صفحہ اول -