کورنا سے ہونے والے نقصان پر چین سے رقم وصول کرینگے: ٹرمپ

کورنا سے ہونے والے نقصان پر چین سے رقم وصول کرینگے: ٹرمپ

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چف) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں اپنے فوجی اور قومی سلامتی کے مشیروں پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ افغانستان میں موجود تمام امریکی فوج کو مکمل طور پر نکال لیا جائے۔”این بی سی“ ٹیلی ویژن نے اپنی تازہ نشریات میں دو موجودہ اور ایک سابق سینئر سرکاری عہدیدار کے حوالے سے یہ خبر بریک کی ہے۔ان حکام نے ٹی وی چینل کو بتایا کہ صدر ٹرمپ تقریباً روزانہ شکایت کررہے ہیں کہ افغانستان میں کرونا وائرس پھیلا ہوا ہے اور جنگی علاقے میں اس کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے اس کے باوجود ہماری فوجیں وہاں کیوں موجود ہیں اس کا ایک سبب یہ ہے کہ وہاں موجود ہزاروں امریکی فوجیوں کو وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ جو امن معاہدہ ہوا تھا اس کے اگلے مراحل میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی جس کے باعث امریکی فوجیوں کے لئے خطرہ بڑھ جائے گ۔ اس کے جواب میں فوجی مشیر یہ دلیل دے رہے ہیں کہ اگر کرونا وائرس کے سبب امریکی فوجیوں کو افغانستان سے نکال لیا جاتا ہے تو پھر امریکی فوجی اٹلی کی حکومت کی جو مدد کر رہے ہیں اس کو روک کر انہیں بھی واپس بلانا پڑے گا۔دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے کہ چین نے ووہان میں کرونا وائرس کے آغاز اور پھیلاؤ کے بارے میں اصل حقائق چھپا کر صرف امریکہ نہیں پوری دنیا میں تباہی پھیلائی ہے۔ سوموار کی شام وائٹ ہاؤس میں ٹاسک فورس کے ہمراہ معمول کی پریس بریفنگ میں انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ چین سے نقصان کی کثیر رقم وصول کی جائے گی۔ ان سے سوال کیا گیا کہ جرمنی نے اس سلسلے میں چین سے 165ارب ڈالر کا معاوضہ طلب کیا ہے۔ امریکہ کتنا معاوضہ طلب کرنا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ نے ابھی فیصلہ نہیں کیا لیکن امریکہ جرمنی سے کہیں زیادہ مطالبہ کرے گا۔ تاہم چین پر دعویٰ کرنے سے قبل سنجیدہ تفتیش مکمل کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے اشارہ کیا کہ ہم چین سے وصولی کے لئے زیادہ آسان طریقہ اختیار کرینگے۔ امریکی میڈیا نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ صدر شاید اربوں ڈالرز کے ان بانڈز کو ضبط کرنے کی بات کر رہے تھے جو چین نے امریکہ کے پاس جمع کرا رکھے ہیں، صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اس سلسلے میں امریکی انٹیلی جنس کی وہ تفتیش بہت اہم ہے جو وہ ووہان کی تجربہ گاہ میں کرونا وائرس کی حادثاتی پیدائش کے بارے میں کی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس ساری صورتحال سے خوش نہیں ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس دباؤ کو اس کے منبع پر ہی روکا جا سکتا ہے۔ اسے پوری دنیا میں پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ان ہلاکتوں کو روکا جا سکتا ہے جن سے دنیا کے کم از کم 184ملک گزر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ

مزید :

صفحہ اول -