پنجاب پولیس میں 10ہزار کی بجائے5530بھرتیوں کی منظوری

پنجاب پولیس میں 10ہزار کی بجائے5530بھرتیوں کی منظوری

  

لاہور(کرائم رپورٹر)کرونا وائرس کے وجہ سے صوبے کو شدید مالی بحران کا سامنا، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے مالی بحران کی وجہ سے پولیس کی بھرتی میں کمی کر دی۔تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب کی درخواست پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے 10ہزار کانسٹیبلز بھرتی کرنے کی منظوری دی تھی۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ نے 10 ہزار بھرتی کے وسائل نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ کو رپورٹ بھجوا دی۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بھی دس ہزار کی بجائے5530 بھرتیوں کی تجویز دی گئی۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے اب پولیس کے لیے پانچ ہزار تین سو تیس اہلکار بھرتی کرنے کی منظوری دی ہے، جلد ہی پولیس میں بھرتی کاعمل شروع کردیا جائے گا۔ دوسری جانب حکومت پنجاب نے7 پولیس افسروں کی خدمات وفاق کودینے سے انکار کر دیا

، حکومت پنجاب نے ایس ایس پی نقیب الرحمان اورایس ایس پی حسن اسدعلوی کی خدمات وفاق کے حوالے کرنے سے انکار کیا۔ ایس ایس پی محمد اشفاق عالم،ایس ایس پی عمر سعید ملک، ایس ایس پی شعیب اشرف، احسن سیف اللہ اورآصف نذیر کی خدمات بھی وفاق کے سپرد نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ پنجاب میں پولیس افسران کی پہلے ہی کمی ہے، مذکورہ افسروں کی خدمات وفاق کو دینے سے صوبے میں انتظامی امور متاثر ہوں گے۔علاوہ ازیں رواں سال بھی پنجاب پولیس کی یونیفارم کی خریداری کامعاملہ کھٹائی میں پڑگیا، پنجاب پولیس نیاڑھائی لاکھ کے قریب اولیوگرین یونیفارم خریدنا تھی، پری کوالیفائی کمپنیوں کی جانب سے تاحال سیمپل نہیں منگوائے جاسکے۔گزشتہ سال بھی بروقت اقدامات نہ ہونے سے نئی یونیفارم نہیں خریدی جاسکی تھی، پری کوالیفائی کرنیوالی کمپنیوں کے سیمپل لیب نے مستردکردیئے تھے

مزید :

علاقائی -