مزدور کی خودکشی، ارکان اسمبلی غریب فیملی کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام

  مزدور کی خودکشی، ارکان اسمبلی غریب فیملی کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام

  

کوٹ ادو (تحصیل رپورٹر)کوٹ ادو وارڈ نمبر14محلہ بیری والا کے رہائشی اللہ ڈیوایا چانڈیہ مرحوم کا بیٹا 45سالہ نذیر حسین چانڈیہ جو کہ پرائیویٹ لیب ٹیکنیشن تھا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی روز سے بے روز گار تھا، غربت اور بیروزگاری اور حکومت کی جانب سے راشن اور امداد کی رقم 12ہزار نہ ملنے کے باعث بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے پریشان تھا اور بچیوں کو بھوک اور پانی سے روزہ رکھتے دیکھ کر (بقیہ نمبر12صفحہ6پر)

نذیرحسین نے گزشتہ سے پیوستہ روزگندم میں رکھنے والی گولیاں کھاکر زندگی کا خاتمہ کرلیاتھا، خودکشی کرنے والے نذیر حسین کی بچیوں کے مطابق گھر بھی کرایہ کا تھا ابو سے ہماری بھوک برداشت نہ ہوئی تھی اور گھر کھانے کو کچھ نہیں تھا ابو لاک ڈاؤن کی وجہ سے پریشان تھے جسکی وجہ سے گولیاں کھالیں،نذیر حسین جو کہ کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر تھا اور ایک سال پہلے اپنا مکان فروخت کرکے اپنی 2بیٹیوں کی شادی کر دی تھی جبکہ 3بیٹیاں ابھی کنواری تھیں اور ایک چھوٹا بیٹا حیات ہیں، غربت،بیروزگاری اور حکومت کی جانب سے راشن اور امداد کی رقم 12ہزار نہ ملنے اورگھر میں فاقوں کی وجہ سے خودکشی کرنے والے نذیر حسین کے گھر اس کے مرنے کے بعد بھی اس کی بھوکی بچیوں کیلئے کسی نے راشن تک نہ پہنچایا،منتخب سیاسی نمائندوں سمیت ضلعی و تحصیل انتظامیہ راشن دینا تو کجا بیوہ کے گھر جاکر یتیم بچیوں کے سر پر ہاتھ رکھنا تک گوارا نہ کیا،شہریوں نے منتخب سیاسی نمائندوں سمیت ضلعی و تحصیل انتظامیہ کی اس بے حسی پر حیرت کا اظہار کیا ہے،دوسری جانب وفات پانے والے نذیر حسین کی روح کو ایصال ثواب کیلئے قران خوانی بعد نماز عصر اس کے گھر منڈی مویشی محلہ بیری والہ میں ادا کی گئی ہے۔

خود کشی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -