چینی بحران، تحقیقاتی کمیشن کومز ید 3ہفتے کی مہلت، چھوٹا کاروبار کرنے والوں کیلئے 75ارب روپے کے پیکیج کی توثیق، صحافیوں، میڈیا اداروں کی مالی امداد بھی منظور، وزیراعظم نے کابینہ کی منظوری کے بغیر ہونے والی تعیناتیوں کی رپورٹ طلب کر لی

چینی بحران، تحقیقاتی کمیشن کومز ید 3ہفتے کی مہلت، چھوٹا کاروبار کرنے والوں ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، آن لائن) وفاقی کابینہ نے چینی بحران پر انکوائری کمیشن کو مزید تین ہفتے دینے کی منظوری دے دی۔منگل کے روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ویڈیو لنک اجلاس ہوا جس میں مختلف امور پر غور کیا گیا اور کئی اہم منظوریاں بھی دی گئیں۔کابینہ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر وزراء شریک ہوئے جب کہ ویڈیو لنک کی خرابی کے باعث کچھ وزراء شریک نہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس نے 12 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دے دی ،وفاقی کابینہ نے مسابقتی کمیشن کے قائم مقام چیئرپرسن کی تعیناتی، متعدد لمیٹڈ کمپنیوں میں ڈائریکٹرزکی خالی اسامیوں پر نامزدگیوں، پاکستان پیٹرولیم کمپنی، سوئی نادرن گیس، پاکستان منرل ڈویلپمنٹ، آئل اینڈگیس کمپنی میں نامزدگیوں اور مالیاتی معاہدوں سے متعلق بلز 2020 کی منظوری دے دی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں اور کورونا وائرس پر قائم قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی بھی توثیق کردی، کابینہ نے قانونی مقدمات سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کے فیصلوں کی بھی توثیق کی ہے۔ وفاقی کابینہ نے لاک ڈاؤن کو 9 مئی تک بڑھانے کے قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلہ کی توثیق بھی کی ہے۔کابینہ نے کورونا سے لڑنے والے طبی عملے کی معاونت کے لیے پیکج کی منظوری دی جب کہ چھوٹا کاروبار کرنے والوں کیلئے 75 ارب روپے کے پیکج کی توثیق کرتے ہوئے صحافیوں اور صحافتی اداروں کی مالی امداد کے پیکج کی بھی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی کابینہ نے ملک کی معاشی و سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا، کورونا سے متاثر صحافیوں اور صحافتی اداروں کی مالی امداد کیپیکج کی منظوری دی۔ وزیراعظم نے وزیراطلاعات شبلی فراز اور معاون اطلاعات عاصم سلیم باجوہ کو پہلا ٹاسک سونپ دیا۔کابینہ اجلاس میں پاک عرب ریفائنری بورڈ آف ڈائریکٹرزکی تشکیل نو کی منظوری دی گئی جب کہ واپڈا کے ممبر فنانس کی تقرری کا معاملہ مؤخر کردیا گیا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق، مالیاتی معاہدوں سے متعلق بلز 2020 پر بریفنگ کے بعد منظوری دیدی،کابینہ نے ہیلتھ کیئر ورکرز کے لیے امدادی پیکج اور وزارت خزانہ کی طرف سے پیش کیے گئے دو بلوں کے مسودے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔اجلاس میں پارکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تنظیم نو کی منظوری جبکہ واپڈا میں ممبر فنانس کی تعیناتی کا معاملہ موخر کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے چینی انکوائری کمیشن سے متعلق کابینہ کو بریفنگ دی جس کے بعد کابینہ نے چینی بحران پر انکوائری کمیشن کو مزید تین ہفتے دینے کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ پاک عرب ریفائنری بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی منظوری بھی دے گی اس کے علاوہ کئی لمیٹڈ کمپنیوں میں ڈائریکٹرز کی خالی اسامیوں پر نامزدگیوں کی منظوری دی جائے گی۔پاکستان پٹرولیم کمپنی، سوئی نادرن گیس، پاکستان منرل ڈویلپمنٹ، آئل اینڈگیس کمپنی میں نامزدگیاں کی جائیں گی۔وفاقی حکومت نے کورونا سے جاں بحق ہونے والے ہیلتھ ورکرز کے لیے 30 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ کورونا کے خلاف فرنٹ لائن ورکرز کے تحفظ اور فلاح وبہبود کے لیے حکومت فکرمند ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ کورونا کے مریض کی دیکھ بال کے دوران انتقال کرجانے والے ہیلتھ ورکرز کو شہید کادرجہ دیاجائیگا اور اس کے اہلخانہ کے لیے 30 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک کا امدادی پیکج فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اس امدادی پیکج کا اطلاق اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں ہوگا۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہیلتھ ورکرز کے ورثاء کے لیے 100 فیصد پنشن اورسرکاری گھربرقرار رکھاجائیگا۔خیال رہے کہ ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے 14 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

وفاقی کابینہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیترنگ دیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر ہونے والی تعیناتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ایسے تمام افسران کے تقرر کی تفصیلات طلب کرلیں۔ سیکرٹری محمد اعظم خان نے تمام وزارتوں کو خط لکھ کر اطلاع دی ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیرتعیناتی وزیر اعظم نے اداروں اور وزارتوں میں خلاف ضابطہ تعیناتیوں پر سخت ایکشن لیا ہے،رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے مسلم لیگ ن کے دورحکومت میں تعینات ہونیوالے افسران کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ کابینہ کا اختیارحاصل کرنے والے وزراء کی منظوری سے تعینات افسران کی لسٹ بھی طلب کی گئی ہے۔عمران خان نے تمام وفاقی وزارتوں اور انکے ماتحت اداروں سے 30اپریل تک بھرتیوں کی رپورٹ طلب اور بھرتیوں کی رپورٹ 5مئی کو کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تمام وفاقی سیکریٹریز، ایڈیشنل سیکریٹریز، تمام محکموں کے انچارج کو 18 اگست 2016 کے بعد ہونے والی ایسی تمام تعیناتیوں کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی جس کے لیے کابینہ یا وفاقی حکومت کی منظوری درکار تھی اور اس منظوری کے بغیر تقرر کیا گیا۔اس فہرست میں وہ تمام تعیناتیاں بھی شامل کرنے کی ہدایت کی گئی جو وفاقی کابینہ کے اختیارات غیر قانونی اور دائرہ اختیار کے بغیر کسی وفاقی وزیر یا سیکریٹری کو تفویض کر کے کی گئیں۔وزیراعظم عمران خان کے سیکریٹری اعظم خان کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں مصطفیٰ میکس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا۔ مراسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 23 اپریل 2020 اور سپریم کورٹ کے 18 اگست 2016 کے فیصلوں کا ذکر کیا گیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) کی چیئرپرسن ودیا خلیل اور اس کے اراکین ڈاکٹر محمد سلیم اور ڈاکٹر شہزاد انصار کے تقرر کو کابینہ نے منظور نہ ہونے کی بنا پر غیر آئینی قرار دیا تھا۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ یہ تعیناتیاں غور کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش نہیں کی گئیں بلکہ تفویض کردہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس وقت کے وزیر خزانہ کی تجویز کو منظور کیا تھا جس میں کابینہ کو بائی پاس کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جب کسی قانون میں وفاقی حکومت کا فیصلہ درکار ہوگا تو اس سے مراد کابینہ بشمول وزیراعظم کا فیصلہ ہونا چاہیئے۔وزیراعظم عمران خان نے گورنرسندھ عمران اسماعیل کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالی انھیں وائرس سے لڑنے کی طاقت عطا فرمائے۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ گورنرسندھ عمران اسماعیل کی جلد صحت یابی کے لئے دعاگو ہوں، اللہ تعالی عمران اسماعیل کو وائرس سے لڑنے کی طاقت عطا فرمائے۔یاد رہے گذشتہ روز گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کرلیا، عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز میری والدہ آئی تھیں ہم نے مل کر افطار کیا، والدہ کے جانے کے بعد بخار ہوا، جس کے بعد ٹیسٹ کرانے کا سوچا، مجھے رات کو ہی قرنطینہ کرلینا چاہئے تھا تاہم صبح قرنطینہ ہوا ہوں، اپنی والدہ اور گھر والوں کا کرونا ٹیسٹ کراؤں گا۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے گرین اسٹیمولس پیکیج کی منظوری دے دی، پیکیج 10 بلین ٹری منصوبے کا حصہ ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ، مشیر ماحولیات خسرو بختیار ودیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں قدرتی جنگلات، نرسریاں، شجرکاری مہم کو فروغ دیا جائے گا، شہدکیپیداوار بڑھانے سے اولو پلانٹیشن شروع کی جائے گی، بے روزگار افراد کو منصوبے میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ آب و ہوا کے مسائل سے نمٹنے، گرین ایریا کو بڑھانا ترجیحات میں شامل ہیں، منصوبہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔عمران خان نے کہا کہ اقدام سے کلین اینڈ گرین پاکستان کے مقاصد کو فروغ دینے میں مدد ملے گی، بین الاقوامی اداروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو پروگرام میں شامل کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ منصوبہ ہماری آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کا ضامن ہے، پروگرام کی کامیابی کے لیے شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم نے وفاقی کابینہ اجلاس میں اشیائے خوردونوش کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت کی تھی۔کابینہ اجلاس میں کورونا سے متاثر صحافیوں،صحافتی اداروں کی مالی امداد کے پیکج کی منظوری اور لمیٹڈکمپنیوں میں ڈائریکٹرز کی اسامیوں پرنامزدگیوں کی منظوری بھی دی گئی تھی۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -