ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کسی صورت برداشت نہیں: اجمل وزیر

  ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کسی صورت برداشت نہیں: اجمل وزیر

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، یہ ایک ناسور ہے اور اس کا قلع قمع کرنے کے لیے آرڈیننس بھی نافذ کر دیا گیا ہے، ناجائز منافع خوری کی صورت میں تمام اضلاع کی انتظامیہ کو سخت سے سخت کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت ذخیرہ اندوزی کرنے والے کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جائیگا، اور تین سال قید و ذخیرہ شدہ مال کے 50 فیصد کے برابر جرمانے کی سزا دی جائیگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرڈیننس کے تحت اطلاع دینے والے کو ذخیرہ شدہ مال کا 10 فیصد بطور انعام دیا جائیگا۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ آرڈیننس پر صوبہ بھر میں عملدرآمد جاری ہے اور مرتکب افراد کے خلاف بلا تعطل کارروائیاں جاری ہیں۔ اشیائے خوردونوش کی ترسیل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع میں خوراک کا مناسب سٹاک اور ترسیل کے لئے ڈیش بورڈ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، جس کے ذریعے وزیراعلی خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری خود صوبے کے تمام اضلاع میں اشیائے خوردونوش کی دستیابی چیک کرتے ہیں۔مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ڈیش بورڈ کے ذریعے آٹا، چینی، دال، چاول خوردنی تیل،پیاز، ٹماٹر، آلو اور دودھ کا سٹاک اور ترسیل چیک کی جارہی ہے۔ بیرون ممالک سے آنے والے پاکستانیوں کے بارے میں انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پشاور ائیرپورٹ کے ذریعے اب تک 684 افراد موصول ہوئے جن میں سے بیشتر کو کورونا رپورٹ منفی آنے کے بعد رخصت کر دیا گیا ہے اجمل وزیر نے کہا کہ افغانستان سے طور خم بارڈر کے ذریعے تقریباً 1987 افراد موصول ہوئے جن میں سے 972 کو ٹیسٹ منفی آنے کے بعد گھر بھیجا گیا ہے۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہم دو جنگیں لڑرہے ہیں ایک کورونا کے خلاف اور دوسرا غربت و افلاس کے خلاف۔حکومت کی جانب سے صوبہ بھر کے مستحقین کی مدد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ احساس کیش پروگرام کے تحت دوسرے مرحلے میں صوبائی حکومت کی طرف سے 6000 روپے جلد دینا شروع کریں گے جبکہ زکواۃکے مستحق 29 ہزار افراد کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچائی جائے گی۔ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے انہوں نے احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کورونا سے بچنے کا واحد ذریعہ احتیاط اور صرف احتیاط ہے۔ صوبے میں کورونا کی تازہ صورتحال پر انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 120 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس سے کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 1984 ہوگئی ہے جبکہ گزشتہ 24گھنٹوں میں 6 اموات بھی ریکارڈ ہوئیں جس سے اموات کی کل تعداد 104 ہوگئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں ایک دن میں 18 کورونا مریض صحت یاب ہو گئے ہیں۔ جس سے صوبے میں کورونا کو شکست دینے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 533 ہو گئی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -