پرائیویٹ اسکولز اور اساتذہ کو حراساں کرنا بند کیا جائے: محمد حسین محنتی

پرائیویٹ اسکولز اور اساتذہ کو حراساں کرنا بند کیا جائے: محمد حسین محنتی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے شعبہ تعلیم کے تحت قباء آڈیٹوریم میں صوبائی امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی کی زیر صدارت آن لائن تعلیمی کانفرنس میں شریک سیاسی، سماجی وتعلیمی ماہرین واسکول مالکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ٹیکس ایک سال کیلئے معاف، اساتذہ کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان، یکساں نصاب تعلیم جو لادینیت کی بنیاد پر بنایا جارہا ہے اس کو اسلامی نصاب تعلیم کے مطابق بنایا جائے، پرائیوٹ اسکولز مالکان اور اساتذہ کو حراساں کرنا بند کیا جائے، پرائیوٹ اسکولز ملک میں 80%تعلیم کی ضرورت کو پورا کررہے ہیں، موجودہ صورتحال میں حکومت نے اربوں روپے پیکیج کا اعلان تو کیا مگر نجی اسکولوں کو مکمل طور پر نظرانداز کردیاگیا جو انتہائی تشویش ناک بات ہے۔جماعت اسلامی سندھ کے امیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی وتعلیم کے فروغ کیلئے پرائیوٹ تعلیمی اداروں کا کردار کلیدی ہے، کورونا صورتحال میں حکومتی نااہلی کو چھپانے اور آٹا چینی اسکینڈل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے 18ویں ترمیم میں ردوبدل کا شوشہ چھوڑاگیا ہے، کوئی بھی قانون غلط نہیں ہوتا مگر ان کے استعمال کرنے کی بروقت صلاحیت ہونی چاہئے،حکمران ٹولہ”عوام لڑاؤ،حکومت کرو“ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،18ویں ترمیم پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی، اصل مسئلہ حکومتی نیت اور ویژن کا ہے، اربوں روپے کے پیکیج میں نجی تعلیمی اداروں کو نظرانداز کرنے سے حکومت کی تعلیمی پالیسی اور ویژن کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے،کوروناوائرس کی وجہ سے نوجوان نسل کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے مگر حکومت نے اب تک آن لائن تعلیمی پالیسی کا واضح اعلان نہیں کیا ہے۔تنظیم اساتذہ پاکستان کے صدر پروفیسر میاں محمد اکرم نے کہا کہ یکساں نصاب تعلیم کے نام پر حکومت لادینیت کو فروغ دینا چاہتی ہے نصاب تعلیم کے بنیادی اصولوں و طریقہ کار کو خاطر ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے۔ پاکستان و اسلام کی بجائے انسانیت کو پیش نظر وہ بھی جو مغرب کا طرز زندگی ہے اس کو شامل کیا جارہا ہے۔ تنظیم اساتذہ یکساں نصاب تعلیم کے نام پر اسلام و نظریہ پاکستان کے برعکس کسی نصاب تعلیم کو قبول نہیں کرے گی۔ نیشنل ایسوسی ایشن فار ایجوکیشن(نافع) سندھ کے چیئرمین فیض احمد فیض نے کہاکہ ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں جہاں 20 لاکھ سے زائد بچے زیرتعلیم ہیں۔ 75 فیصد یہ ادارے ریاست کو سپورٹ کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے تعلیمی بورڈز سے لیکر متعلقہ اداروں کا اسکول مالکان کے ساتھ رویہ افسوس ناک ہے۔ آئے روز مختلف نوٹیفکیشن کے ذریعے حراساں کیا جاتا ہے۔ حکومت کے پاس واضح تعلیمی کئلینڈر بھی نہیں ہے جب چاہے چھٹی دی جاتی ہے۔ اس لیے حکومت تعلیم کی بہتری اور نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے جماعت اسلامی سندھ کے شعبہ تعلیم کے چیئرمین پروفیسر اسحاق منصوری نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورتحال کی وجہ سے پرائیویٹ ادارے سخت مالی بحران سے دوچار ہیں تو دوسری جانب والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں۔ اس تمام صورتحال سے نجات کا واحد حل رجوع الی اللہ ہے کیونکہ کورونا سے ذیادہ اللہ کا خوف ہوگا تو کورونا خود بھاگ جائے گا۔کانفرنس میں اے ڈی سومرو، انتصار احمد غوری، شبیر احمد میرانی، مجاہد چنا جبکہ امریکہ سے رفیق سلیمان بھی شریک تھے۔

مزید :

صفحہ اول -