کورونا وائرس کا خاتمہ  بہت دور،حکومتوں کو ابھی یہ کام کرنا چاہیے، عالمی ادارہ صحت نے خبردار کردیا

کورونا وائرس کا خاتمہ  بہت دور،حکومتوں کو ابھی یہ کام کرنا چاہیے، عالمی ...
کورونا وائرس کا خاتمہ  بہت دور،حکومتوں کو ابھی یہ کام کرنا چاہیے، عالمی ادارہ صحت نے خبردار کردیا

  

جنیوا(ڈیلی پاکستان آن لائن)عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس آدھنم نے خبردار کیا ہے کہ عالمی وبا کووڈ نائنٹین ابھی خاتمے سے بہت دور ہے، حکومتوں کو حفاظتی اقدامات اور اسکریننگ کا سلسلہ جاری رکھنا ہو گا،،، ڈاکٹر ٹیڈروس آدھنم نے کورونا وائرس کو شکست دینے کیلئے بین الاقوامی اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیاہے

تفصیلات کے مطابق کئی ممالک میں کورونا کا زور ٹوٹنے لگاہے متاثرین کی تعداد کم ہوئی تو حکومتوں نے لاک ڈاؤنز میں نرمی جیسے اقدامات شروع کر دیئے لیکن ڈبلیو ایچ او کو کورونا وبا کا خاتمہ ابھی بہت دور نظرآتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس آدھنم کا کہنا ہے کہ عالمی وبا ابھی خاتمے سے بہت دورہے۔یورپ میں کورونا متاثرین کی کم ہوتی تعداد کے باعث لاک ڈاؤنز میں نرمی کی جا رہی ہے۔ تاہم ڈبلیو ایچ او ابھی بھی متاثرہ ممالک کو کورونا کے تمام مشتبہ مریضوں کو ڈھونڈنے، الگ تھلگ کرنے ، ٹیسٹ کرنے اور انکا علاج کرنے پر زور دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارہ صحت کو افریقہ، مشرقی یورپ، لاطینی امریکا اور کچھ ایشیائی ممالک میں کورونا متاثرین کی بڑھتی تعداد پر کافی تشویش ہے،،، اس وائرس کو تب تک شکست نہیں دی جا سکتی جب تک تمام ممالک اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ نہ کریں۔

خیال رہے دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 31 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ 17 ہزار سے زیادہ ہے۔

امریکہ میں چند ہی مہینوں میں کورونا وائرس کا شکار ہو کر مرنے والوں کی تعداد 20 سال تک جاری رہنے والی ویتنام جنگ میں مرنے سے بڑھ گئی ہے

چینی حکام کے مطابق 28 اپریل کو ملک میں کورونا وائرس سے متعلقہ کوئی نئی اموات رپورٹ نہیں ہوئیں۔

نیوزی لینڈ نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے لگائے گئے سخت لاک ڈاؤن میں منگل کے روز سے آہستہ آہستہ نرمی کرنی شروع کی ہے۔

انڈونیشیا میں 2200 سے زیادہ افراد کورونا وائرس کی علامات سے مر چکے ہیں لیکن سرکاری اعداد و شمار میں ان کا کوئی شمار نہیں کیا جاتا۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -