خاتون نے 5 لاکھ روپے کے ماسک اور دستانے جمع کر لیے لیکن ڈاکٹروں کو ایک بھی دینے پر تیار نہیں، اس حرکت کی وجہ بھی انتہائی حیران کن

خاتون نے 5 لاکھ روپے کے ماسک اور دستانے جمع کر لیے لیکن ڈاکٹروں کو ایک بھی ...
خاتون نے 5 لاکھ روپے کے ماسک اور دستانے جمع کر لیے لیکن ڈاکٹروں کو ایک بھی دینے پر تیار نہیں، اس حرکت کی وجہ بھی انتہائی حیران کن

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس چین سے نکل کر دنیا میں پھیلا تو اس کا خوف ایسا تھا کہ لوگوں نے دھڑا دھڑ سینی ٹائزرز، فیس ماسکس اور دیگر حفاظتی سازوسامان خریدنا شروع کر دیا اور دنوں میں سٹور خالی ہو گئے۔ کچھ لوگ تو ایسے بھی تھے جنہوں نے ضرورت سے کہیں زیادہ سامان خرید لیا اور ان لوگوں کا نہیں سوچا جو خالی ہاتھ رہ گئے۔ اب اس 36سالہ برطانوی خاتون ہی کو دیکھ لیں جس نے 2500پاﺅنڈ (تقریباً 5لاکھ روپے) کے فیس ماسک، دستانے، سینی ٹائزرز، فیس شیلڈز اور اشیائے خورونوش وغیرہ خرید کر گھر میں ذخیرہ کر لیں۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی شہر پورٹس ماﺅتھ کی رہائشی بیکا براﺅن نامی اس خاتون پر اتنا سامان ذخیرہ کرنے کے چکر میں 700پاﺅنڈ (تقریباً 1لاکھ 40ہزار روپے)قرض بھی چڑھ گیا لیکن اس نے پروا نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق بیکا براﺅن نے اتنی خریداری کی کہ کئی سٹورز کی شیلفیں خالی کر دیں۔ ایسے وقت میں جب برطانیہ میں کورونا وائرس کے مریضوں تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور نیشنل ہیلتھ سروسز کے پاس حفاظتی سامان کی شدید قلت ہو چکی ہے اور اسے نیا سامان خریدنے میں مشکل درپیش ہے، بیکا براﺅن کا کہنا ہے کہ وہ اپنا ذخیرہ کیا گیا سامان نیشنل ہیلتھ سروسز یا دیگر فلاحی تنظیموں کو عطیہ نہیں کرے گی۔ بیکا نے برطانوی اخبار دی سن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”میں اپنی عمر رسیدہ آنٹی کے ساتھ رہتی ہوں اور یہ سامان ہم دونوں کے لیے ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ کورونا وائرس کے دنوں میں مجھے غیرضروری طور پر گھر سے باہر نکلنا پڑے اور یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ یہ وباءکب تک ہم پر مسلط رہے گی، چنانچہ میں یہ سامان کسی کو عطیہ نہیں کر سکتی۔“

مزید :

برطانیہ -