’اُس سعودی ارب پتی نے اپنے خون سے میرے بازو پر لکھا میں تم سے پیار کرتا ہوں لیکن میں اس کی بارہویں ’بیوی‘ نہیں بننا چاہتی تھی‘

’اُس سعودی ارب پتی نے اپنے خون سے میرے بازو پر لکھا میں تم سے پیار کرتا ہوں ...
’اُس سعودی ارب پتی نے اپنے خون سے میرے بازو پر لکھا میں تم سے پیار کرتا ہوں لیکن میں اس کی بارہویں ’بیوی‘ نہیں بننا چاہتی تھی‘

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے کھرب پتی اسلحہ ڈیلر عدنان خاشقجی کا نام 80 ءکی دہائی میں کئی بدنام زمانہ سیاسی سکینڈلز کے ساتھ ساتھ جنسی سکینڈلز کے حوالے سے بھی معروف ہے۔ اس کی 2بیویاں اور 11لونڈیاں تھیں۔ گزشتہ دنوں اس کی لونڈی بن کر رہنے والی ایک خاتون نے حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق اس60سالہ خاتون کا نام جل ڈوڈ(Jill Dodd)ہے، جس نے بتایا ہے کہ اس کی عدنان سے ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ 20سال کی لڑکی تھی۔ ہماری ملاقات کینیس میں ایک پارٹی کے دوران ہوئی تھی۔ میں پارٹی میں بیٹھی شراب پی رہی تھی۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ کوئی شخص میری طرف دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔ اس کی عمر میرے باپ کے برابر تھی۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر میرے پاس آ گیا اور ہم دونوں میں گفتگو شروع ہو گئی۔ شور کی وجہ سے ہم زیادہ بات نہیں کر سکے تھے۔ پھر اس نے مجھے اپنے ساتھ رقص کرنے کی دعوت دے دی۔“

ڈوڈ نے بتایا کہ ”کچھ دیر رقص کرنے کے بعد ہم ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے جہاںعدنان نے ایک ٹوٹے ہوئے شیشے سے اپنی انگلی کو زخمی کیا اور اپنے خون سے میرے بازو پر ’آئی لو یو‘ لکھ دیا۔ مجھے یہ دیکھ کر شدید جھٹکا لگا۔ اس کی یہ حرکت میرے لیے بہت حیرت کا باعث تھی لیکن اس کی اسی حرکت کی وجہ سے میں اس پر فریفتہ ہو گئی۔ پھر اس نے مجھے اپنی لونڈی بننے اور بدلے میں لگژری زندگی دینے کی پیشکش کی۔ اس حوالے سے ہمارے درمیان تحریر معاہدہ ہوا اور میں اس کے ساتھ سعودی عرب چلی گئی اور وہاں لگژری زندگی گزارنے لگی۔ وہاں اس کی 11اور لونڈیاں بھی تھیں۔ وہاں ہماری زندگی بے حد پرتعیش تھی۔ میں اس کے ساتھ سیاستدانوں اور بادشاہوں کی کئی عالیشان پارٹیوں میں بھی گئی اور ہم دونوں مل کر تفریح کے لیے کوکین کا استعمال بھی کیا کرتے تھے۔ وہ باری باری ہر لونڈی کے ساتھ وقت گزارتا تھا۔ جب میری باری آتی تو ہم کئی کئی دن کے لیے خود کو کمرے میں بند کر لیتے۔ باورچی ہمیں کمرے میں ہی کھانا پہنچا دیا کرتے تھے۔“

ڈوڈو نے کہا کہ” میں آج بھی کہتی ہوں کہ مجھے اس سے حقیقی محبت تھی لیکن میں اس کی بارہویں لونڈی بن کر زندگی نہیں گزارنا چاہتی تھی، چنانچہ میں نے اس لگژری زندگی کو خیرباد کہہ دیا۔ اس سارے عرصے میں میں نے یہ سیکھا کہ دولت میں خوشی تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنے ہی سائے کے پیچھے بھاگ رہے ہوں۔مجھے مادی اشیاءمیں سکون نہیں ملا چنانچہ میں نے جلد ہی اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔ تاہم میں آج بھی کہتی ہوں کہ وہ بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرتا تھا جتنی میں اس سے کرتی تھی۔ وہ بہت عظیم اور بہترین محبت کرنے والا شخص تھا۔ ہمارا تعلق ہمیشہ بہت خوبصورت اور باہمی رضامندی پر مبنی رہا۔“

مزید :

بین الاقوامی -