یکساں نظام تعلیم اور بے بس والدین  

   یکساں نظام تعلیم اور بے بس والدین  
   یکساں نظام تعلیم اور بے بس والدین  

  

دوستوں کے ساتھ گفت و شنید کے دوران سب یہی بات کرتے نظر آتے ہیں کہ آپ کے کالم میں اکثر مثالیں ملائیشیا، سنگاپور،امریکہ، برطانیہ،آسٹریلیا اور ترقی یافتہ ترین ممالک کی ہوتی ہیں جبکہ پاکستان کا مقابلہ کسی صورت ان ممالک سے نہیں بنتا،میں نے کئی بار عرض کیا ہے کہ جناب ان ممالک سے موازنہ کرنے کے پیچھے میرے اندر کی خواہش ہوتی ہے میں چاہتا ہوں کہ ایک دن وطن عزیز بھی انہی ممالک کی طرح ترقی کرے آج جب میں یکساں نظام تعلیم پر ریسرچ کر رہا تھا تو میں نے پہلی کال افریقہ میں ایک عرصہ سے مقیم اپنے دوست اشفاق احمد صاحب کو کی خیر خیریت کے بعد میں نے ان سے یکساں نظام تعلیم پر بات شروع کی انہوں نے بتایا کہ سارے افریقہ میں یکساں نظام تعلیم عرصہ دراز سے رائج ہے کتابیں،کاپیاں اور اسٹیشنری کا انتظام بھی گورنمنٹ ہی کرتی ہے نئی جماعتوں کی کتابوں کی پرنٹنگ امتحانات سے بہت پہلے مکمل کر لی جاتی ہے طلبہ کو پک اینڈ ڈراپ بھی گورنمنٹ دیتی ہے اور کسی بچے کو لنچ بکس گھر سے لے جانے کی ضرورت نہیں بلکہ دوپہر کا کھانا بھی سکول ہی د یتے ہیں اور یہ سارا نظام بغیر کسی دقت کے چل رہا ہے اور ہر سال اس میں کچھ نہ کچھ بہتری کرلی جاتی ہے دوسری کال سری لنکا کی وہاں سے بہت حوصلہ افزاء  خبریں سننے کو ملیں اس کے بعد ایک کال بنگلہ دیش اور ہندوستان میں کی ان تمام جگہوں پر بہت سی باتیں ملتی جلتی جمع ہوگئیں وطن عزیز میں سابقہ حکومت نے جب یکساں نظام تعلیم کو رائج کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ پہلی دفعہ تھا کہ میں نے نہ صرف عمران خان کے فیصلے کو قبول کیا بلکہ ہر پلیٹ فارم پر اسے سراہا بھی کیوں کہ عرصہ دراز سے میری بھی یہی خواہش تھی میرے خیال میں یکساں نظام تعلیم ہی واحد ذریعہ ہے جو ملک میں طبقاتی تقسیم کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے حکومت،وزیر اعظم وزیر تعلیم سمیت تمام پی ٹی آئی کے عہدے داروں نے اس نظام کو اپنا بہت بڑا معرکہ گردانا میں بھی ان سے متفق تھا میرے خیال میں جو کوئی بھی اچھا کام کرے اسے پورا حق ہے کہ وہ تعریف بھی سمیٹے  فروری میں طلباء کے نئے تعلیمی سال کے آغاز ہوا تو حکومتی دعوے ہوا ہو گئے جیسے ان کی کوئی وقعت تھی ہی نہیں بچوں کے اگلی کلاسوں میں جانے کی خوشی اس وقت ماند پڑ گئی جب ماں باپ کو کتابیں خریدنے کے لیے بازار کا رخ کرنا پڑا چھٹی،ساتویں، آٹھویں سمیت تمام جماعتوں کی کتب کی اشاعت مکمل ہی نہیں ہو سکی حکومت نے آکسفورڈ سے لاکھوں روپے فیس وصول کرکے پھر سے انہیں ہی این او سی جاری کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور نہ ہی پرائیویٹ پبلشرز نے کتابوں کی اشاعت مکمل کی پرائیویٹ سیکٹر نے کتابوں کی اشاعت کے لئے ٹھیکے تو حاصل کر لئے اور پھر وہی ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا کہ جتنی کتابوں کی اشاعت مکمل ہوئی ان کی صورت حال یہ رہی کہ  پچاس روپے والی کتاب چھ سو سے آٹھ سو روپے میں فروخت ہونے کے لیے بازار میں آگئی یوں کہہ لیں کہ تیسری کلاس کے بچوں کی کتابوں کاپیوں کا سیٹ دس ہزار روپے تک پہنچ گیا اس کو آسان الفاظ میں یوں کہہ لیا جائے تو شاید غلط نہیں ہوگا کہ حکومت اور پبلشرز نے مل کر والدین کو لوٹ لیا والدین کسی نہ کسی طرح یہ ڈاکہ بھی برداشت کر گئے اس سے بڑا المیہ یہ ہوا کہ گورنمنٹ نے نئے تعلیمی سال کو اگست سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا لیکن پرائیویٹ سکولوں نے حکومت کے اس فیصلے کو بھی ردّی کی ٹوکری کی زینت بنا دیا یہ بات غلط نہ ہو گئی کہ بہت جلد یا بدیر ایک تعلیمی بحران جنم لینے کو تیار ہے کیوں کہ پرائیویٹ سکول کے طلبہ تب تک اپنا آدھے سے زیادہ کور س مکمل کر چکے ہوں گے جب گورنمنٹ سکول کے طلبہ نیا تعلیمی سال شروع کر رہے ہوں گے کیسا عجب نظام سامنے آیا ہے کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور آکسفورڈ کے پاس اعدادوشمار ہی موجود نہیں تھے کہ کس جماعت کے لیے کتنی تعداد میں کتابیں پرنٹ کرنی ہیں اور اس پر یہ کہ حکومت نے ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کا اعلان کرنے کے بعد اداروں سے کوئی رپورٹ طلب ہی نہیں کی جو سابقہ حکومت کے وزیر تعلیم کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے اب سوال یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں بچوں کے والدین کہاں کھڑے ہیں پاکستان کے لوگ ابھی تک کرونا کے قرض سے نجات حاصل نہیں سکے تھے کہ اس دفعہ بچوں کی اگلی کلاسوں میں جانا ان پر بجلی بن کر گرا چھوٹی جماعتوں میں داخلے کی کتابیں،یونیفارم، فیس کل ملا کر تقریبا پچاس ہزار روپے فی بچہ اور جس کے چار بچے سکول جاتے ہیں سوچیے ان والدین پر کیا گزری ہوگی وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب سے بہت مودبانہ گزارش ہے کہ برائے کرم یکساں نظام تعلیم کو اس کی اصل شکل میں نافذ کریں اور جہاں گورنمنٹ سکولوں میں مفت کتابیں دی جارہی ہے وہیں پرائیویٹ سکولوں سے بغیر منافع حاصل کیے کتب فراہم کی جائیں تاکہ جو بچے پرائیویٹ سکولوں میں زیر تعلیم ہیں ان کے والدین بھی سکھ کا سانس لے سکیں اللہ کریم آپ کی اور آپ کی حکومت کا حامی و ناصر ہو۔

مزید :

رائے -کالم -