جمعتہ الوداع اور یوم القدس

جمعتہ الوداع اور یوم القدس
جمعتہ الوداع اور یوم القدس

  

 تحریر :محمد رضا ناظری قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران- لاہور

امام خمینی(ر) نے 16 مرداد 1358 شمسی(7 اگست 1979) بمطابق 13 رمضان 1399 ہجری کو جنوبی لبنان میں نسل پرستوں اور صیہونی غاصبوں کے حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے موقع پر فلسطین کی عوام اور مقصد کی حمایت میں ایک پیغام جاری کرتے ہوئے رمضان کے آخری جمعہ ( جمعة الوداع) کو عالمی یوم القدس قرار دیا تھا۔

کم از کم3 اہم عوامل نے فلسطین کو عالم اسلام کاسب سے اہم ترین مسئلہ بنا دیا ہے: اول، فلسطین کی سرزمین کا تشخص، اس کی حرمت اور اسلام کے پیروکاروں کے ہاں اس کا مقام؛ دوسرا، صہیونی دشمن کا تشخص اور اس کے مذہبی اور تاریخی دعوے اور اس کا توسیع پسندانہ اور غاصبانہ مزاج (فلسطین کی سرزمین اور مقدس اسلامی مقامات کی ملکیت حاصل کرنے کی کوشش)؛ تیسرا، مغربی- صیہونی اتحاد کی نوعیت، جو امت اسلامیہ کو تقسیم اور کمزور کرنے کے در پے ہے تاکہ اسلامی ممالک اسی طرح بڑی طاقتوں پر انحصار کرتی رہیں۔ 

•امریکی پالیسیاں اس قدر زیادہ اسرائیل کے مفاد میں ہیں کہ بعض مصنفین نے امریکہ میں مضامین لکھے جن میں کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیلی ہیں جو اصل میں امریکہ کو چلاتے ہیں، نہ کہ خود امریکی۔ امریکہ اسرائیل کو سالانہ 3.8 بلین ڈالر زسے زیادہ کی عسکری امداد فراہم کرتا ہے۔اسرائیل کےلئے امریکی سیاسی حمایت بھی وسیع اور لا محدود رہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ انسانی حقوق کی کونسل، یونیسکو اور اسرائیل کے خلاف جاری ہونے والی بین الاقوامی قراردادوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا رہا ہے۔ امریکہ اسرائیل کے مفادات کےلئے 40 سے زیادہ مرتبہ ویٹو کے حق کو استعمال کر چکا ہے اور یہ بات خود ساری حقیقت کو بیان کرتی ہے۔

•حالیہ برسوں میں نسل پرست اور غاصب صیہونی رجیم نے فلسطینیوں کے خلاف اپنے جنونی اقدامات کو تیز کر دیا ہے۔ ان میں اجتماعی سزائیں سب سے اہم عنصر ہے۔ غزہ کا محاصرہ، آہنی دیوار کی تکمیل، فلسطینیوں کو ان کے آبائی وطن سے بے دخل کرنا اور جبری نقل مکانی، زرخیز علاقوں میں اسرائیلیوں کی تعیناتی اور ان کو وہاں ٹھہرانا، فلسطینی، غزہ کی پٹی میں زرعی اراضی کی تباہی، بستیوں کے تسلسل کے ساتھ آبادکاری کے ساتھ یروشلم (القدس) کو" یہودیانے "کے منصوبے پر عمل درآمد، فلسطینیوں کے مکانات کی تباہی، مشرقی یروشلم (القدس) میں عسکری موجودگی اور نگرانی میں اضافہ، یروشلم میں رہنے والے فلسطینیوں کے آنے اور جانے پر پابندی،  شناختی کارڈ زکی منسوخی اور یروشلم میں مقیم فلسطینیوں کے مستقل رہائشی اجازت نامے کو منسوخ کرنا، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں خاص طور پر"ہیگ کنونشن " کے آرٹیکل 43 اور چوتھے جنیوا کنونشن کے خلاف ہے، 2018 ءمیں صیہونی حکومت کی پارلیمنٹ میں حکومت اور یہودی قوم کے قانون کی منظوری، اسرائیل میں آبادکاری کو فروغ دینا، فلسطینیوں کی مغربی کنارے اور غزہ سے علیٰحدگی، یروشلم (القدس)، گولان اور نقب کو "یہودیانے" کرنا، ، فوجی عدالتوں میں فلسطینیوں پر مقدمات وغیرہ۔۔۔ صیہونی رجیم روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے حقوق سمیت انسانی حقوق کی سنگین، مسلسل اور منظم خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر تی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے خود سرانہ اور بلاجواز لاکھوں افراد (فلسطینیوں) کو عارضی اور طویل مدتی حراست میں رکھا ہے۔ 1967 سے لے کر اب تک 10 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو حراست کے تلخ مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 

•مسئلہ فلسطین پر مغربی ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کا دہرا معیار آزاد مفکرین اور عالمی سطح پر امن کے قائم کرنے والوں کےلئے تشویش کا باعث بن گیا ہے اور انسانی حقوق کے بارے  میں صہیونی اقدامات کی وجہ سے یہ رویہ خطے کی عوام کےلئے مزید قابل برداشت نہیں ہے۔

•بعض عرب ریاستوں اور صیہونی حکومت کے درمیان تعلقات کی بحالی فلسطین کی سرزمین پر قبضے اور جبر کی حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ امن کے حصول کے معاہدے پر دستخط کرنے والوں نے اسے اپنے مقاصد تک پہنچنے کیلیے، ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا، لیکن جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، نہ صرف ہم فلسطین میں امن کے قریب نہیں پہنچ سکے، بلکہ بدامنی اور فلسطینیوں کی علاقے پر قبضے کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 

•عارضی صہیونی رجیم معمول پر آنے کےلئے امن و سلامتی، علاقائی استحکام اور جامع ترقی جیسے تصورات کا غلط استعمال کرتی ہے۔

•اسلامی جمہوریہ ایران کی فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت ایک حربہ یا قلیل مدت حکمت عملی کی پالیسی نہیں، اس حمایت کی بنیاد نہ صرف مذہبی عقائد پر مبنی ہے بلکہ سب سے اہم یہ انسانی ہمدردی اور انسان دوستی کا فریضہ ہے جو کہ کسی بھی مذہب یا نسل سے پاک انسانوں کا فطرت پر مبنی ہے۔

•عارضی صیہونی رجیم ایران کو عرب دنیا اور عالم اسلام کے مد مقابل قرار دے کر اور اسلامی جمہوریہ ایران کو" مشترکہ خطرے "کے طور پر متعارف کراتے ہوئے فلسطینی مقصد (فلسطینی کاز) کو دنیا کے مسلمانوں کے ذہنوں سے ہٹانے کی کوشش کر ر ہی ہے۔ 

•مغربی حکومتیں اور بڑی بین الاقوامی تنظیموں نے مسئلہ فلسطین کو حل کرنے میں کوتاہی کی اور تمام تجویز کردہ حل ان کے متعصبانہ سوچ کی وجہ سے ناکام ہوئے۔ فلسطین کے بحران کے حل کےلئے اسلامی جمہوریہ ایران نے"فلسطین میں قومی ریفرنڈم کا انعقاد" کے عنوان سے ایک جمہوری اور منصفانہ منصوبہ پیش کیا ہے جو اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ میں بھی درج ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران یقین رکھتا ہے کہ بے گھر فلسطینیوں کی ان کے وطن واپسی اور اس سرزمین کے حقیقی لوگوں کی تقدیر اور سیاسی نظام کی نوعیت کے تعین کےلئے ریفرنڈم کا انعقاد، اس تنازعے کے حل کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت مسلمان، یہودی اور فلسطینی نژاد عیسائی اپنے اوپر حکومت کرنے والے کسی بھی قانونی نظام کا انتخاب کرتے ہوئے اس کے حقوق سے آزادانہ اور مساوی طور پر مستفید ہو سکیں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا منصوبہ جمہوری اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہے جو تمام حکومتوں اور اقوام کےلئے قابل قبول ہے۔ یہ منصوبہ پچھلے ناکام منصوبوں کا ایک اچھا متبادل ہوگا. 

•سلامتی کونسل اب تک اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم کرنے کےلئے اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف اقدام نہ کرنے نے ،اسرائیلی رجیم کو مظلوم فلسطینی عوام کے خلاف اپنے گھناؤنے جرائم کو جاری رکھنے میں بے باک بنا دیا ہے۔ 

•اسرائیلی رجیم کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانیت پسند حقوق کی خلاف ورزیوں کےلئے جواب دینا ہوگا۔ اس طرح کے جرائم کو بغیر سزا کے نہیں رہنے دینا چاہیے۔ مسئلہ فلسطین کا حل صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب مقبوضہ فلسطین کے عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہوئے ان کی بحالی اور قیام کیلیے اقدام کیا جائے۔ 

•گزشتہ 7دہائیوں کے دوران، فلسطین نے قتل عام، نسلی معدومیت، آبادی کی تناسب میں تبدیلی، مسلسل اور پے در پے تشدد،، حراست، اور ہر قسم کے جنگی جرائم، نسل کشی جیسے انسانیت کے خلاف لاتعداد جرائم کو برداشت کیا ہے جو فلسطین پر قبضے کے آغاز سے ہی اسرائیلی حربہ بن چکا ہے۔ 

•فلسطینی عوام بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے قابض حکومت کے خلاف لڑنے کے اپنے جائز حق کو استعمال کر رہی ہے اور اس نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ فلسطینی خواتین اور بچوں کےخلاف صیہونی دشمن کے وحشیانہ جرائم اور غزہ میں بعض خاندانوں کے مکمل قتل عام کے باوجود، عام شہریوں(اسرائیلی) کو نشانہ بنانے سے اجتناب کیا ہے. 

• مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ظلم و ستم کے تسلسل اور منظم امتیازی سلوک کی تحقیقات کےلئے اقوام متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے اور اقوام متحدہ کا ایک عالمی نمائندہ مقرر کیا جائے جو جبر کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی کارروائی کو متحرک کرتے ہوئے، اپنی ذمہ داری نبھائے۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -