پاکستان کا تقابل صرف پاکستان سے ہی ممکن ہے

پاکستان کا تقابل صرف پاکستان سے ہی ممکن ہے
پاکستان کا تقابل صرف پاکستان سے ہی ممکن ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 آجکل سوشل میڈیا پر رنگ برنگی پوسٹوں، بڑے دلفریب پیغامات، بڑے روح پرور اقوال زریں کا دور دورہ ہے۔ ان میں سے اکثر کسی اور نے لکھے ہوتے ہیں اور یار لوگ زیادہ تر میٹیریل فارورڈ کر کے سوشل میڈیا کی دلپزیر لہروں کا حصہ بنتے ہیں۔ آجکل اکثر پوسٹیں پاکستان کے سیاسی اور معاشی  دگرگوں اور ابتر حالات کی عکاسی کر رہی ہوتی ہیں مگر کچھ میں پاکستان کا تقابل دیگر ممالک خصوصاً انڈیا، بنگلہ دیش وغیرہ سے بھی کیا جا تا ہے۔ ہمارے خیال میں اس طرح کا تقابل کرنا ہم پاکستانیوں سے سراسر زیادتی ہے۔ بلکہ تہمت ہے۔ الزام تراشی ہے۔۔ذرا چشم تصور سے  ساٹھ کی دہائی کا پاکستان دیکھیں۔ ہم انڈسٹری اور ترقی میں ایشیا کا ٹائیگر بننے جا رہے تھے۔ ہماری انڈسٹری اور ہماری زراعت پر بوم تھا۔ ہم بے شمار کھانے پینے کی اشیاء  میں خود کفیل تھے۔ تربیلا اور منگلا ڈیم بنا کر ہم نے سستی بجلی اور نظام آبپاشی میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ ہماری قومی ایر لائین، پی آئی اے دنیا کے تمام بڑے ممالک تک آپریٹ کر رہی تھی۔ ہماری معاشی گروتھ تیزی سے بڑھ رہی تھی مگر پھر ہمیں اپنی اچھی خاصی رواں دواں انڈسٹری کو قومیانے کا جنون لاحق ہوا، بڑے بڑے کاروباری خاندان جو مدتوں سے اس انڈسٹری کو منافع بخش کاروبار کے طور پر چلا رہے تھے وہ راتوں رات آسمان سے زمین پر آ گرے۔ چند سالوں کے اندر وہ منافع بخش انڈسٹری حکومت پر بوجھ بن گئی اور ہم نے اسے پرائیوٹائزیشن کے نام پر اونے پونے داموں فروخت کرنا شروع کر دیا اور کرپشن اور بد انتظامی کی نئی تاریخ رقم کردی۔ وہ انڈسٹری جو سوشلزم کے نظریہ کی مخالفت کی پاداش میں چند بڑے سرمایہ داروں کو سبق سکھانے کے لیے بغیر کسی ہوم ورک اور تیاری  قومی تحویل میں لی گئی اسکے بڑے بھیانک نتائج قوم نے بھگتے۔ جب ایک زمانہ میں پاکستان کی شناخت اور پہچان کوہ نور  ملز اور ستلج کاٹن ملز کو پلاٹ بنا کر فروخت کرنے کی نوبت آئی تو پاکستان میں انڈسٹری کا بھٹہ بیٹھ گیا۔

ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے بھارت اور ہم سے آزادی لینے والے بنگلہ دیش نے ہر میدان میں ہم سے زیادہ ترقی کی بلکہ وہ اتنا آگے نکل گئے کہ ہم اب اس ریس سے ہی باہر ہو گئے، اس میں دیگر باتوں کے علاوہ قومی ترجیحات کا درست تعین، محنت، دیانتدارانہ پالیسیاں، کسان اور صنعت کار کی حوصلہ افزائی، سستی اور وافر بجلی اور گیس کی فراہمی شامل ہیں،اس کے برعکس ہم نے نہ تو کوئی مزید ڈیم بنا کر سستی بجلی پیدا کرنے کی کوشش کی نہ ہی اپنے صنعت کار اور کسان کو کوئی سہولت دی۔ ہم نے ہر وہ کام کیا جس میں کمشن اور کک بیکس کی سہولت میسر تھی، ہم نے اپنی انڈسٹری اصل خاندانی صنعت کاروں سے چھین کر نو وارد سیاست دانوں کے حوالہ کر دی۔ جنہیں اس طرح کے کاروبار کا کوئی تجربہ نہ تھا اور وہ صرف بینکوں کے ان قرضوں پر کاروبار کر رہے تھے جو حکومت وصول کرنے کی بجائے معاف کرتی جارہی تھی۔ جب حکمران ہی کاروبار کرنے لگیں تو conflict of interest کا پیدا ہونا فطری امر تھا۔ اس ماحول میں وہ لوگ جنہیں حکومتی ایوانوں تک رسائی تھی، وہ بنکوں سے قرض لیکر معاف کرانے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے، وہ ترقی کے زینے تیزی سے چڑھنے لگے۔ پھر ہر اس کام کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی جسمیں کمشن اور کک بیکس کا حصول آسان تھا۔ ہم نے نئے ڈیم بنانے کی بجائے نہایت مہنگے ڈیزل سے چلنے والے بجلی کے پلانٹ لگا کر بجلی کو اتنا مہنگا کر دیا کہ یہ ایک وجہ ہی ہماری انڈسٹری کی تباہی کا سبب بنی اور عام آدمی کی کمر ٹوٹ گئی۔ توانائی کے اس بحران کی وجہ سے ہماری بہت سی انڈسٹری بنگلہ دیش اور ملائشیا وغیرہ شفٹ ہو گئی۔ ہم زرمبادلہ سے تو محروم ہوے ہی تھے کہ بیروزگاری اور غربت کے عفریت میں بھی دب گئے۔


سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ ہم نے گزشتہ پچاس سالوں میں کوئی ڈھنگ کا نظام حکومت بھی نہ چلنے دیا۔ صدارتی اور پارلیمانی نظام تو دنیا میں مسلمہ تھے ہی سو ہم نے بھی آزمائے مگر ہم نے مارشل لا، آمریت، شخصی حکومت، چیف ایگزیکٹو، اور نہ جانے کیا کیا مزہ بھی چکھا۔ اس دوران ہمارے تمام ادارے ایک ایک کرکے بے توقیر ہوتے چلے گئے۔جب ملک میں سیاسی استحکام نہ ہو گا تو ترقی کیسی؟ اس دوران ہم نے انڈسٹری اور زراعت کو چھوڑ کر ساری توجہ رئیل اسٹیٹ پر مرکوز کر دی۔ ہمارے حکومتی اکابرین، ہماری ایلیٹ، ہمارے مقتدر ادارے اور ہمارے عوام پراپرٹی کے کاروبار میں مصروف ہو گئے۔ اب کیا تھا ایک شخص بیس لاکھ کا پلاٹ لیکر چھ ماہ بعد تیس لاکھ میں فروخت کرکے اپنے آپ کو خوشحال سمجھ رہا تھا۔ یہ مصنوعی خوشخالی اصل میں ہماری بدحالی کا نقطہ آغاز تھا، ہر ذی ہوش شخص نے پراپرٹی میں انویسٹمنٹ کو غنیمت جانا، اس عمل میں ہم نے اپنے شہروں کے گردا گرد بڑا زرخیز رقبہ بھی بے شمار ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی نظر کر دیا۔ جب ہم نے دیکھا کہ بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکونز کو حکومتی ایوانوں میں بھی رسائی ہے اور وہ حکومتیں گرا بنا بھی سکتے ہیں تو ہماری ایلیٹ اور سیاسی لوگوں نے بھی رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں عافیت جانی۔۔کیا اسطرح کے حالات کسی اور ملک میں بھی نظر آتے ہیں تو پھر کس بات کا تقابل اور کس سے تقابل۔ پاکستان کا اگر تقابل کرنا ہے تو اسکے اپنے ساتھ ہی کریں۔ ساٹھ کی دہائی والے پاکستان کا نوے کی دہائی سے کریں اور نوے کی دہائی والے پاکستان کا بیس سو بائیس والے سے کریں۔ مگر مایوس نہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ اندھیرے میں سے ہی اجالا کرتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -