بد حالی کی نفسیاتی حد

  بد حالی کی نفسیاتی حد
  بد حالی کی نفسیاتی حد

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


  ایک پنجابی سردار کو راستے میں ڈاکو پڑ گئے، جنہوں نے اسلحے کی نوک پر اس کی جامہ تلاشی لی اور ایک ایک کر کے تمام قیمتی اشیاء چھین لیں۔ سب سے پہلے ڈاکوؤں کی نظر اس کی قیمتی گھڑی پر پڑی جسے انہوں نے اسلحہ لہرا کر اتارنے کا حکم دیا تو سردار جی نے فوراًاپنی گھڑی اُتار کر ڈاکوؤں کے حوالے کر دی، جس کے بعد ان راہزنوں کا دھیان سکھ سردار کے گلے میں چمکتی ہوئی سونے کی چین کی طرف گیا تو وہ بھی اتروا لی گئی، یہ طلائی چین ڈاکوؤں کے حوالے کرتے وقت سردار کے ہاتھ کی درمیانی اُنگلی میں ”مُندری“ بھی نظر آ گئی جو اس نے مطالبے پر بغیر کسی مزاحمت کے اُتار دی،آخر میں ڈاکوؤں نے جیب میں پڑے ہوئے بٹوے میں موجود نقدی پر بھی ہاتھ صاف کئے، ڈاکوؤں کیلئے یہ ساری واردات بہت ”حلوہ“ ثابت ہوئی کیونکہ سردار ایک آسان ہدف تھا لہٰذا ڈاکوؤں کے بھی مطالبات بڑھتے ہی چلے گئے اور سردار کے پاس موجود تمام قیمتی اشیاء با آسانی اتروانے کے بعد جب ڈاکوؤں نے جاتے جاتے سردارکی بائیں کلائی میں موجود ”کڑے“ پر ہاتھ ڈالا تو سردار نے پوری طاقت سے اپنا دایاں ہاتھ ڈاکو کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا کہ ”کڑے نُوں ہتھ نہ لائیں نئیں تے چھنج پے جاؤ گی“۔(کڑے کو ہاتھ نہ لگانا ورنہ لڑائی بڑھ جائے گی)۔


موقع کی مناسب سے اس لطیفے کی تھوڑی وضاحت بھی ضروری ہے، جس طرح دین اسلام کے پانچ بنیادی ارکان کلمہ، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ ہیں،بالکل اسی طرح سکھ دھرم میں پانچ ”کگے“ ہیں، یعنی پانچ ”ک“۔ کچھہ، کڑا، کنکھا، کرپان اور کیس۔ سکھ دھرم میں ان پانچ عناصر کی خاص اہمیت ہے اور ان میں سے ہر ایک کا ایک مخصوص پس منظر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سردار نے قیمتی گھڑی، نقدی اور زیورات کی پرواہ نہیں کی لیکن جب اس کے”کڑے“ کو ہاتھ ڈالا گیا تو وہی سردار جو بندوق کے خوف سے اپنا سب کچھ لٹانے کو تیار تھا ”کڑے“ کے معاملے میں اس نے اپنی جان اور بندوق دونوں کی پراہ نہ کرتے ہوئے ڈاکوؤں کو للکار دیا کہ اگر اس کے ”کڑے“ کو ہاتھ ڈالا گیا تو ”چھنج“ پے جائے گی۔

اللہ تعالی کا لاکھ شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں جبکہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں حج بیت اللہ ایک اہم ترین رکن ہے۔ تاہم آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ جان لیوا مہنگائی کے نتیجے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ حج پر جانے کیلئے لوگ دستیاب نہیں ہیں، سعودی عرب کی جانب سے حکومت پاکستان کو جاری کئے گئے حج کوٹے پر مقررہ تاریخ تک مطلوبہ تعداد میں حج درخواستیں موصول نہیں ہوئیں۔ اور سرکاری حج کوٹے کا بڑا حصہ بچ گیا ہے جسے مبینہ طور پر حکومت پاکستان سعودی عرب کو واپس کرنے کا سوچ رہی ہے۔یہ خبر نظر سے گزرتے ہی مجھے سردار کا یہ لطیفہ یاد آیا تھا کیونکہ پاکستانی عوام پر مسلط ڈاکوؤں نے عوام کا سب کچھ پہلے ہی ”اُتروا“ لیا ہے،جن کے پیٹ میں روٹی، تن پے کپڑا اور سر پر چھت نہیں ہے، جو ہر روزبجلی،پانی گیس، آلو، پیاز، ٹماٹر اور چینی، گھی، آئل جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کی ہوشربا مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔جنہوں نے ان ”ڈاکوؤں“ کو اپنا سب کچھ بخوشی دے دیا ہے تاہم آخر میں نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اب اس مفلوک الحال قوم کی حج بیت اللہ کا سفرکرنے کی ”پسلی“ بھی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری حج کوٹے پر لوگوں نے حج کے لئے مطلوبہ تعداد میں درخواستیں ہی نہیں دیں اور تاریخ میں پہلی مرتبہ عازمین حج کم پڑ گئے ہیں۔

ذرائع مذہبی امور کے مطابق حکومت نے استعمال نہ کیا جانیوالا حج کوٹہ سعودی عرب کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی واپسی کا حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ درخواستوں کی کم وصولی پر سرکاری حج کوٹہ پرائیویٹ حج آپریٹرز کو دینے پر بھی غور کیا گیا تھا تاہم مسئلہ یہ ہے کہ پرائیویٹ جج آپریٹرز اضافی کوٹہ ملنے پر مارکیٹ سے ڈالر لیں گے اور اوپن مارکیٹ سے خریداری پر ڈالر کی غیر ضروری طلب بڑھ جائے گی جس سے مارکیٹ پر پریشر آئے گا۔
 معمول کے مطابق تو سرکاری کوٹے سے حج پر جانے کے خواہش مند افرادکئی کئی برس درخواستیں جمع کرواتے تھے لیکن سب کا نام قرعہ اندازی میں نہیں آتا، کیونکہ مجموعی طور پر لاکھوں لوگ درخواستیں جمع کروا دیتے ہیں اور طلب کے مطابق کوٹہ دستیاب نہ ہونے کے باعث وزارت مذہبی امور قرعہ اندازی کے ذریعے خوش قسمت افراد کے نام نکالتی ہے۔کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے اعلان کیا تھا کہ رواں برس قرعہ اندازی نہیں ہو گی اور سرکاری کوٹے سے حج پر جانے کے خواہش مند تمام افراد حجاز مقدس کے سفر کو روانہ ہو سکیں گے، تاہم تازہ خبر نے اسحاق ڈار کے اس بیان کی قلعی بھی کھول دی ہے جو صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے دیا گیا تھا، حقیقت یہ ہے کہ شدید مہنگائی کے اس دور میں پاکستانی اب حج پر جانے کے قابل بھی نہیں رہے۔یہی وہ فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے لئے لوگ اپنی ساری عمر کی جمع پونجی لُٹا دیتے ہیں، جس کا سفر ہر مسلمان کی زندگی کا حاصل ہے تاہم پاکستانیوں کی مجبوری کا اندازہ لگائیں کہ حکمرانوں نے اب انہیں حج کرنے ”جوگا“ بھی نہیں چھوڑا۔ سٹاک ایکسچینج، کیپیٹل مارکیٹس میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے ”نفسیاتی حد“ جس کے عبور ہونے یا نہ ہونے سے مارکیٹ کے ٹرینڈ بدلتے ہیں، میرے خیال سے سرکاری حج کوٹے میں مطلوبہ تعداد میں درخواستوں کا موصول نہ ہونا بد حالی کی ایک ”نفسیاتی حد“ ہے جو عبور ہوئی ہے۔ یہ پاکستانی عوام کی وہ نبض ہے جس سے پتہ چل رہا ہے کہ پورا جسم بیمار ہے اور مہنگائی کے ہاتھوں لوگ کس قدر پریشان ہیں۔ میرے ذاتی خیال میں اس خبر نے پاکستانیوں کی مشکلات اور بد حالی پر مہر ثبت کر دی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -