آسیا یک پیکرِ آب و گِل است

          آسیا یک پیکرِ آب و گِل است
          آسیا یک پیکرِ آب و گِل است

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 ہمارے خطے کو جنوبی ایشیاء بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نام ہمیں مغربی جغرافیہ دانوں نے دیا ہے۔ ان کی نگاہیں ہم ایشیاء والوں کی نسبت زیادہ دور تک دیکھتی ہیں۔ ان کی نظر میں ”شمالی ایشیاء“ بھی ہوگا جس کا جغرافیائی مفہوم ’روس‘ ہے۔ دونوں ایشیاؤں میں جو فرق ہے، وہ صاف ظاہر ہے۔ روس کا خطہ ہمارے خطے سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ 

اِن جغرافیہ دانوں کی نظر میں شمالی امریکہ بھی ہے جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا واقع ہیں۔ دونوں ممالک روس(شمالی ایشیاء) کی طرح بہ نسبت جنوبی امریکہ کے،زیادہ خوشحال بھی ہیں اور ترقی یافتہ بھی ہیں۔لیکن براعظم یورپ میں یہ فرق نہیں۔ کیا آپ نے کبھی شمالی یورپ اور جنوبی یورپ کا نام سنا ہے؟ سارا یورپ ایک جیسا ہے۔ شمال میں برطانیہ اور جنوب میں سپین اور مالٹا ہے۔ یہ شمال و جنوب، ترقی و خوشحالی کے تناظر میں یکساں ہیں۔

ہمارے جنوبی ایشیاء میں پاکستان، انڈیا، ایران، افغانستان وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن ان میں اب انڈیا ”وغیرہ“ کی صف سے آگے نکل رہا ہے۔ انڈیا پر سینکڑوں برسوں تک افغانستان قابض رہا۔ غزنوی سے بہادر شاہ ظفر تک 900سال بنتے ہیں۔ لیکن یہی افغانستان آج کہاں کھڑا ہے؟

اقبال نے کہا تھا کہ ایشیاء ”پانی اورمٹی کا پیکر“ ہے اور افغان قوم اس میں ”ایک دل“ کی مانند ہے:

 ایشیاء یک پیکرِ آب و گِل است 

ملتِ افغاں دراں پیکر دِل است 

لیکن اقبال کو ہم ایک شاعر سمجھ کر شاید نظر انداز کرجاتے ہیں۔ تاہم اسی شاعر نے یہ بھی کہہ رکھا ہے:

شاعر کی نوا ہو کہ مغنّی کا نفس ہو

جس سے چمن افسردہ ہو وہ بادِ سحر کیا

اس مختصر نظم کاعنوان اقبال نے ”فنونِ لطیفہ“ رکھا تھا جس کا پہلا شعر ہے:

اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن

جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا

اور اسی نظم کا یہ شعر ایک ایسی نوائے درد انگیز ہے جو ہم تک پہنچی اور ہم نے اسے نظر انداز کر دیا۔

جس سے دلِ دریا متلاطم نہیں ہوتا

اے قطرۂ نیساں وہ صدف کیا وہ گہر کیا

”نیساں“ کا لفظ اردو اور فارسی شاعری میں ایک بہت معنی خیز لفظ ہے۔ نیساں، اس بارش کو کہاجاتا ہے جو برستی ہے تو دریا اور سمندر کی سیپیاں سطحِ آب پر آکر اپنا منہ کھول دیتی ہیں۔ اس نیساں کا ایک قطرہ جب ان کے منہ چلا جاتا ہے تو وہ سطحِ آب پر زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتیں اور دریا / سمندر کی تہہ میں غوطہ لگا جاتی ہیں۔یہی ”قطرۂ نیساں“ پانی کی ٹھوکریں کھا کھا کر لعل و گہر بن جاتا ہے۔اقبال ہی کا ایک فارسی شعر یہ بھی ہے:

تاک را سرسبز کُن اے ابرِنیساں در بہار

قطرہ تا مے می تواند شد چرا گوہر شود؟

(اے ابرِ نیساں، انگور کی سوکھی شاخ کو سرسبز کرو۔ وہ قطرہ جو شراب بن سکتا ہو، اسے لعل و گہر نہیں بننا چاہیے)

شراب کی تعریف میں شعرائے مشرق نے زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے ہیں لیکن درجِ بالا شعر میں اسے اگر لعل و گہر سے زیادہ قیمتی کہا گیا ہے تو اس میں شراب کی تعریف اور لعل و گہر کی تکذیب قابلِ داد ہے۔ اقبال کے جس شعر کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے اس میں اقبال نے اپنے ’مطلب‘ کے معانی نکال لئے ہیں اور کہا ہے جس بارش سے دل کا دریا طوفان خیز نہیں ہو جاتا اس کے آگے کیا صدف اور کیا گہر؟

ہم نے بات شروع کی تھی ایشیاء سے اورپہنچ گئی دل کے دریا کے طلاطم تک۔ میری نظر میں کالم کی یہی خوبی اور شاید خامی بھی ہو کہ جو مشرقی ادب کو زمین سے اٹھا کر آسمان تک لے جاتی ہے یا آسمان سے لا کر زمین پر پٹخ دیتی ہے…… اس ”اونچ نیچ“ کا اندازہ قارئین ہی لگا سکتے ہیں۔

آج کی خبریں بڑی معنی آفریں اور دلچسپ ہیں۔ مثلاً 1945ء (26اپریل) کی ایک تصویر میں دوسری جنگ عظیم کے بالکل آخری ایام میں ایک امریکی اور ایک روسی سولجر کو گلے ملتے دکھایا گیا ہے۔ اس زمانے میں روس، امریکہ کا اتحادی تھا۔ لیکن آج روس کہاں کھڑا ہے اس کا احوال روس۔ یوکرین کی جنگ کی تازہ خبریں پڑھ کر لگایا جا سکتا ہے…… ایسی بلندی اور ایسی پستی؟…… لیکن میری نظر میں یہی بلندیاں اور یہی پستیاں، ترقی یافتہ اقوام کا شعار بنتی رہی ہیں۔

ایک اور خبر میں فرانس اور جرمنی کے درمیان ایک معاہدے کی تفصیل بھی ہے جس میں ان دونوں ممالک نے ”مستقبل کا ایک نیا ٹینک“ بنانے کا پلان تیار کیا ہے۔ اس ٹینک میں مصنوعی ذہانت (A1)، لیزر ٹیکنالوجی اور ڈرون وار فیئر سے حاصل کردہ معلومات کا ذخیرہ ایک جگہ جمع کر دیا جائے گا۔ دیکھا جائے تو جرمنی اور فرانس ایک دوسرے کے دائمی دشمن رہے ہیں۔1870ء کی فرانکو۔ جرمن وار سے لے کر دوسری عالمی جنگ تک ان دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا حشر نشر کر دیا تھا۔ لیکن آج یہ دونوں ممالک مل کر ایک مشترکہ ٹینک (Tank) کے منصوبے بنا رہے ہیں۔

اس ٹینک کا نیام نام ”گراؤنڈ کمبٹ سسٹم“ (GCS) رکھا گیا ہے۔ یہ ٹینک فرانس کے لیک لیرک (Lec Lerc) اور جرمنی کے لیو پورڈ (Leopard) ٹینک کا جدید ترین ورشن ہوگا اور 2040ء میں منظرِ عام پر لایا جائے گا۔دراصل یہ دونوں ممالک امریکی عسکری امداد کے طلسم سے باہر آنا چاہتے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ امریکی ”ابراہم ٹینک“ کی ٹیکنالوجی سے برتر ٹیکنالوجی ڈویلپ کریں۔

اِن ٹینکوں کا خریدار کون ہوگا؟اس سوال کا جواب بڑا آسان ہے۔عرب ممالک، ترقی پذیر ایشیائی ممالک اور جنوبی امریکی ممالک کے علاوہ روس۔ یوکرین جنگ کی طرز کی ایک اور جنگ بھی تو ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اس ٹینک کی ٹیکنالوجی ڈویلپ کرتے کرتے یہ دونوں ممالک ”جنگی ٹیکنالوجی“ سے ”پُرامن ٹیکنالوجی“ کے پوشیدہ خزانوں کا پتہ بھی چلا سکتے ہیں۔

اور جہاں تک ہم جنوبی ایشیاء کے باسیوں کا تعلق ہے تو انڈیا اور پاکستان (فرانس اور جرمنی کے برعکس)76سالوں سے آپس میں الجھے ہوئے ہیں۔ انڈیا شاید ایک نئی راہ پر چل نکلا ہے لیکن پاکستان اُسی پرانی ڈگر کا مسافر ہے جس میں کشمیر کا مسئلہ پیش پیش ہے۔ پاکستان نے آدھا ملک گنوا دیا اور اب باقی آدھا جورہ گیا ہے وہ بھی ڈانواں ڈول ہے۔ جہاں انڈین جنتا کی اکثریت نریندر مودی کے ساتھ ہے وہاں پاکستانی عوام کی اکثریت جس کے ساتھ ہے اس کا نام لینا ”گناہِ کبیرہ“ کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہم کب تک اس ایک دائرے میں گھومتے رہیں گے؟

خدارا اس تنگ دائرے سے باہر نکلیں۔ جن کو سزا دینی ہے ان کا فیصلہ کریں۔ ان کو سزا دیں، لیکن باقی عوام کو تو امن اور خوشحالی کی راہ دکھائیں۔ ایشیاء اگر ایک پیکرِ آب و گِل ہے تو اس میں ملتِ افغاں کی جگہ ملت پاکستان کو رکھ دیں تو اس میں اقبال کی روح کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔ دورِ اقبال میں پاکستان، غلام تھا اور افغانستان آزاد تھا۔ آج صورتِ حال تبدیل ہو چکی ہے۔ غلامی اور آزادی کا وہی مفہوم نکالیں جو یورپی، امریکی، جاپانی، چینی اور روسی اقوام نکال رہی ہیں!

مزید :

رائے -کالم -