عمران خان کی مقبولیت؟

عمران خان کی مقبولیت؟

  

حال ہی میں ایک امریکی ریسرچ ادارے پی ای ڈبلیو کے مطابق عمران خان کی مقبولیت میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔اس ریسرچ ادارے کے مطابق 2010ءمیں عمران خان کی عوام میں مقبولیت 52فیصد تھی،جو2011ءمیں 68فیصدہوگئی، جبکہ 2011ءمیں ان کی مقبولیت کا گراف 70فیصد ہوگیا۔اس کے مقابلے میں میاں محمد نوازشریف جو دو بار اس ملک کے وزیراعظم رہے اور اب بھی گزشتہ ساڑھے چار سال سے ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں ان کی اپنی حکومت ہے۔ان کی عوام میں مقبولیت کا گراف 2010ءمیں 71فیصد سے کم ہو کر 2012ءمیں 62فیصد رہ گیا ہے،جبکہ صدر پاکستان اور پی پی پی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کی مقبولیت2010ءمیں 20فیصد تھی۔2012ءمیں کم ہو کر 14فیصد رہ گئی ہے۔

جہاں تک عمران خان کی مقبولیت میں اضافے کا تعلق ہے، اس میں عمران خان کی اپنی کارکردگی کے علاوہ موجودہ حکمرانوں کے خراب طرز حکمرانی کا شاید زیادہ ہاتھ ہے۔موجودہ نام نہاد جمہوری دور میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے علاوہ تقریباًتمام سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی شکل میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں حصہ دار ہیں اور ساری اچھائیوں برائیوں میں برابر کی ذمہ دار ہیں۔موجودہ حکومتوں سے عوام نے جو توقعات لگائی ہوئی تھیں، وہ 10فیصد بھی پوری نہیں ہوئیں،بلکہ عوام ان حکمرانوں سے مکمل مایوس نظر آتے ہیں۔

عمران خان جو عرصہ 16سال سے سیاسی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔عوام نے ان کی جدوجہد کو سراہا ہے اور موجودہ حکمرانوں کے خراب طرز حکمرانی اور کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے شاید اپنے مستقبل کی ساری امیدیں عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی سے وابستہ کرلی ہیں۔ عمران خان کی موجودہ اُٹھان اکتوبر2011ءکے لاہور والے جلسے سے شروع ہوئی،جب لاہور کے بے شمار نوجوان مرد و خواتین انہیں سننے کے لئے مینار پاکستان کی گراﺅنڈ میں پہنچ گئے ۔پھر اس کے بعد سے آج تک اس میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اور عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کی قوت اور مقبولیت میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی ہورہی ہے ۔ جوں جوں وقت گزر رہا ہے اور جنرل الیکشن کا وقت قریب آ رہا ہے،پی ٹی آئی کی طاقت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،کیوں؟اس لئے کہ ملک کے بڑے آبادی والے صوبہ پنجاب میں آپ حکمرانوں کے طرز حکمرانی کا اندازہ لگائیں،یہاں ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں۔نرسیں ہڑتال پر، سکولوں اور کالجوں کے لڑکے ، بورڈز کے امتحان کے بعد اکثر احتجاج کرتے ہیں۔چوری، بنک ڈکیتی، لوٹ مار روز کا معمول ہے۔مریض جعلی ادویات اور ڈینگی کی زد میں ہیں ۔

حکمران اور اپوزیشن کے ممبران صوبائی اسمبلی مال روڈ پر جلوس نکالتے ہیں، لیکن وزیراعلیٰ پنجاب لوگوں کے مسائل پرتوجہ دینے کی بجائے آئے روز اپنا دفتر تبدیل کرتے رہتے ہیں۔دوسری طرف مرکزی حکومت کی کارکردگی ملاحظہ ہو....مرکزی حکومت اور اس کے اتحادی اپنی اپنی وزارتوں کے چکروں میں ہیں۔اعلیٰ عدلیہ سے محاذ آرائی زوروں پر ہے۔عوام مہنگائی،بے روزگاری، لوڈشیڈنگ ، گیس کی کمی، لاقانونیت کی وجہ سے سڑکوں پر واہ ویلا کررہے ہیں۔کراچی جل رہا ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوامیں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔

حکمران غیر ملکی جنگ میں مصروف ہیں اور ڈالروں کے چکروں سے باہر نہیں آ رہے۔اپنے یار دوست نااہل اور کرپٹ لوگوں کو بھاری مشاہروں پر بڑی کارپوریشنوں کا سربراہ بنایا ہوا ہے۔ ساڑھے چار سال میں تین یا چار نیب کے سربراہ بدلے گئے ہیں۔گزشتہ ساڑھے چار سال میں اندرونی و بیرونی قرضہ 6700ارب روپے سے بڑھ کر 12000ارب روپے ہوگیا ہے۔ بجلی کا مصنوعی بحران پیدا کیا گیا تاکہ عوام کرپشن کو بھول کر بجلی ڈھونڈتے رہیں۔2007/08ءمیں لوڈشیڈنگ 2/4گھنٹے تھی،جواب 18/20گھنٹے روزانہ پر پہنچ گئی ہے۔سٹیل مل 2007ءمیں 11ارب روپے منافع والا ادارہ اب 120ارب خسارے والا ادارہ بن گیا ہے، اسی طرح پی آئی اے، سوئی گیس، او جی ڈی سی ایل، ریلوے ، پی ایس او اور دوسرے وفاقی ادارے کرپشن اور خراب طرز حکمرانی کی وجہ سے تقریباً دیوالیہ ہوگئے ہیں۔

یوں نظر آہا ہے کہ آئندہ الیکشن میں واضح جیت عمران خان صاحب کے حصے میں آئے گی،کیونکہ اس بار سپریم کورٹ کے حکم سے انتخابی فہرستوں سے 3کروڑ71لاکھ بوگس ووٹ جو پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی جیت کا سبب بنتے تھے، وہ خارج ہوگئے ہیں۔ اور 18سال یا اس سے زائد عمر کے تقریباً ساڑھے تین کروڑ نئے ووٹر، جنہوں نے اس سے قبل کبھی اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا، ان کا انتخابی فہرستوں میں اندراج ہوگیا ہے۔2008ءکے جنرل الیکشن میں پی پی پی اور مسلم لیگ نے مجموعی طور پر ساڑھے سات کروڑ ووٹوں میں سے صرف ایک کروڑ 88لاکھ ووٹ لئے تھے۔نئے اندراج شدہ ساڑھے تین کروڑ ووٹر ایسے ہیں جو 20-18سال کے پڑھے لکھے لڑکے لڑکیاں ہیں،جن کی زیادہ تعداد اب پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔

نوجوان اپنے بہتر مستقبل کے لئے جوق در جوق پی ٹی آئی کا حصہ بن رہے ہیں اور ان نوجوانوں نے اپنی امیدوں اور سنہری مستقبل کے لئے عمران خان کو ووٹ دینے کی ٹھان لی ہے، اگر یہ نوجوان اپنے ووٹ کا استعمال بہتر طریقے سے کر گئے تو آنے والے الیکشن میں عمران خان کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنے سے کوئی قوت باز نہیں رکھ سکے گی۔آخر میں عمران خان سے گزارش ہے کہ وہ دوسری پارٹیوں سے آنے والے بڑے بڑے جغادریوں سے ہوشیار رہیں ،جو صرف پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، کیونکہ عوام کی اکثریت ایسے جغادریوں کو پسند نہیں کرتی، جو ہر وقت بھیس بدل کر اقتدار میں آنے والی پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں۔     ٭

مزید :

کالم -